ڈاکوؤں کا احتجاج !

ڈاکوؤں کا احتجاج !
ڈاکوؤں کا احتجاج !

  

خواتین وحضرات پندرہ نومبر کے اخبارات میں ایک ایسی منفرد خبر چھپی ہے کہ جس پر بہت حیرت ہوئی ہے۔ یہ خبر اور اس میں بیان کردہ واقعہ شاید دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ سندھ کے شہر گھوٹکی کے علاقے رانوتی میں اپنی نوعیت کے لحاظ سے دنیا کا پہلا منفرد احتجاج ہوا ، جس میں مقامی ڈاکوؤں نے سڑک روک کر پولیس کے خلاف مظاہرہ کیا اور پولیس پر بھتہ مانگنے کا الزام لگایا۔ ڈاکو اپنے ہاتھوں میں بندوقیں، بھاری اسلحہ اور راکٹ لانچرز اٹھائے ہوئے تھے۔ گھوٹکی سلطوگینگ کے ان ڈاکوؤں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اب اپنی سیکیورٹی کا خاص انتظام کرنا شروع کردیا ہے۔ اس خبر کے ساتھ ان ’’مظلوم ‘‘ ڈاکوؤں کی احتجاج کرتے ہوئے باقاعدہ تصویر بھی چھپی ہے جس میں وہ اپنا اسلحہ بلند کرتے ہوئے نعرے لگارہے ہیں۔ ان ڈاکوؤں نے منہ پر نقاب بھی نہیں لئے اور وہ تمام واضح طورپر پہچانے جارہے ہیں۔ ڈاکوؤں کا کہنا تھا کہ پولیس جعلی کارروائیوں، دھمکی، پکڑ دھکڑ اور خاص طورپر بھتہ کی مد میں لاکھوں روپے طلب کرنے سے ان کا اغوا برائے تاوان کا دھندا مندا پڑ گیا ہے۔ اگر ’’بیچارے معصوم‘‘ ڈاکو بھتہ ادا نہ کریں تو انہیں جعلی پولیس مقابلوں میں ماردیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ایس پی گھوٹکی نے ڈاکوؤں کے الزامات کی تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ پولیس کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔

اس واقعہ کا دوسرااہم پہلو، جو اپنی جگہ ایک منفرد اور باعث شرم مثال ہے، یہ ہے کہ ڈاکو اپنے اسلحہ کے ساتھ سرعام سڑک پر مظاہرہ کررہے ہیں، جن کی تصاویر بھی اخبار کی زینت بنی ہے اور جسے مقامی پولیس نے بھی دیکھا ہوگا اور ان کو پہچان بھی لیا ہوگا۔ مگر انہیں گرفتار نہیں کیا۔ پولیس اور ڈاکو، دونوں جانب سے ایسی دیدہ دلیری کا مظاہرہ شاید دنیا بھر میں پہلی مثال ہے۔ محکمہ پولیس کے ایس پی اور ڈاکوؤں کے سردار کا نام یقیناً گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا جانا چاہئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ کے ذمہ دار افسران بشمول سندھ آئی جی کو بھی پرائڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ دیا جانا چاہئے۔ اس واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم باآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کس طرف جارہے ہیں۔ محترمہ زہرہ نگاہ کی نظم کے مطابق اب ہمیں شہروں میں جنگلوں کا قانون نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ یقیناً جنگل کا قانون (اس واقعہ کے پیش نظر) اب پاکستان کے کسی بھی قانون سے بہتر، فائدہ مند اور محفوظ ہوگا۔

خواتین وحضرات ہمیں ڈر ہے کہ اس واقعہ کی تقلید میں اب کچھ اس طرح کے احتجاج اور مظاہرے نہ شروع ہو جائیں اور ایسی خبریں نہ آنے لگیں۔ دہشت گردوں کی ایک کالعدم تنظیم نے احتجاج کیا ہے کہ انتظامیہ نے شہر میں ہر بڑے جلسے، تقریب اور عمارت میں گوتھروگیٹ (اسلحہ کی نشاندہی کرنے والا گیٹ) لگا دیئے ہیں جن سے ’’ معصوم دہشت گردوں‘‘ کو بہت مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور وہ باآسانی کسی تقریب، عمارت یا جلسے کو نشانہ نہیں بناسکتے۔ مزید یہ کہ ان گیٹوں کی وجہ سے اور تلاشی کے خوف سے ہمارے خودکش حملہ کرنے والوں کو اکثر اس گیٹ کے قدموں میں ہی جان دے دینا پڑتی ہے۔

پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسے ٹرانسپورٹرز حضرات بھی سڑکوں پر احتجاج اور مظاہرے کے لئے آجائیں جو پٹرول کی قیمت میں واضح کمی کے باوجود کرایہ کم نہ کرنے پر ان کی پکڑدھکڑ کے خلاف جلوس نکالیں گے۔ وہ حکومت کے خلاف مظاہرہ کر سکتے ہیں کہ پٹرول میں کمی کے باوجود ہم کرائے میں کمی نہیں کرسکتے اور اوپر بیان کی گئی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے وہ بھی اپنے دھندے کا مندا ہونے پر شور مچا سکتے ہیں۔

آٹا، گھی، مرچوں اور دودھ میں ملاوٹ کرنے والے افراد اور ادارے بھی کل کو محکمہ خوراک کے خلاف دھرنا دے سکتے ہیں کہ وہ ملاوٹ کے جرم میں بلاوجہ ان کی دکانوں اور فیکٹریوں پر چھاپے مارتے ہیں اور ہوٹلوں میں آ آکر کھانوں کو چیک کرتے ہیں۔ یہ ان کے خلاف ناانصافی اور زیادتی پر مبنی ہے۔ ڈاکوؤں کی طرح ان کا بھی حق ہے کہ وہ عوام کی صحت اور زندگی پر شب خون مارسکیں۔ اس کے علاوہ کیا عجیب کہ طالب علم بھی کل کو سڑکوں پر نکل آئیں اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی عمارت کے سامنے دھرنا دیں کہ انہیں نقل کرنے کے حق سے کیوں محروم کیا جارہا ہے اور یہ کہ ان کے چند طالب علم دوستوں کے خلاف نقل پر کارروائی کرتے ہوئے جو پرچے چھینے گئے ہیں اور جو کیسز بنائے گئے ہیں وہ واپس لئے جائیں۔ ڈاکوؤں والے واقعہ کے مقابلے میں طالب علموں کا یہ جواب بہت وزن رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ انہیں اپنے ساتھ کمرہ امتحان میں موبائل، بڑابھائی اور گائیڈ لے جانے کی بھی اجازت ہونی چاہئے۔

خواتین وحضرات ان حالات میں سڑکوں پر چلنے والی موٹرسائیکل کے سواراور کاروں والے بھی مظاہرہ کرسکتے ہیں کہ انہیں سرخ بتی سے گزرجانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ وہ ٹریفک پولیس سے مطالبہ کرسکتے ہیں کہ جب گھوٹکی میں ڈاکو سڑکوں پر کھلے عام اپنے ڈاکے کے حق میں اور پولیس کے خلاف مظاہرہ کرسکتے ہیں تو ہم سرخ بتی پر گزرنے سے منع کرنے اور چالان کرنے کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرسکتے۔ خواتین وحضرات الیکشن میں جعلی ووٹ بھگتانا اور جعلی پرچوں سے بیلٹ بکس بھر دینا اتنا بڑا جرم نہیں ہے جتنا کسی شخص کو تاوان کے لئے اغوا کرنا، اسے قتل کرنا، ڈاکہ ڈالنا اور لوگوں سے ان کی مال ومتاع چھیننا ہے۔ جب ان کارروائیوں کے ارتکاب سے روکنے پر احتجاج ہوسکتا ہے تو پھر جعلی ووٹ بھگتانے سے روکنے پر بھی مظاہرہ ہوسکتا ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ ماہ اور اس سے پہلے والے مہینے میں واپڈا نے اپنے صارفین کواضافی بل کا جو کرنٹ لگا اس پر پوری قوم بلبلا اٹھی۔ ایک کمرے پر مشتمل رہائش پذیر لوگوں کو بھی سات سات ہزار روپے کا بل آیا۔ اس کے خلاف خوب مظاہرے ہوئے، واپڈا کے دفاتر کا گھیراؤہوا، دفاتر جلائے گئے اور مظاہروں کے دوران بجلی کے بلوں کو بھی آگ لگائی گئی۔ عمران خان نے اپنے کنٹینر پر کھڑے ہوکر یہ بل لہرائے اور نذر آتش کئے۔ اب اگر واپڈا کا کوئی ذمہ دار آفیسر یا اپنے چیئرمین واپڈا کی نظر سے یہ ڈاکوؤں کے مظاہرے کی خبر گزرتی ہے تو وہ بھی واپڈا کے ایمپلائز کو واپڈا کی بسوں پر بھر بھر کے لے آئیں گے اور اسمبلی کے سامنے ان عوام کے خلاف مظاہرہ کریں گے جو زیادہ بلوں کے آنے پر شور مچاتے ہیں اور واپڈا کی پالیسی برائے اضافی بل اور اضافی ریڈنگ پر احتجاج کرتے ہیں۔ گویا گھوٹکی کے ڈاکوؤں کی طرح ان کا بھی حق ہے کہ وہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالیں اور من مانے بل بھجوائیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں مثلاً فیکٹریوں کے مالکان اپنے مزدوروں کے خلاف احتجاج کرسکتے ہیں کہ وہ ان سے سوشل سیکیورٹی، وقت پر تنخواہ، یونین بنانے کا حق اور اپوئنٹمنٹ لیٹر کیوں طلب کرتے ہیں اسی طرح قبضہ گروپ اور پٹواری صاحبان بھی حکومت کے ان اقدامات کے خلاف مظاہرہ کریں گے، جس کے تحت حکومت نے جائیداد اور زمینوں کے سارے نظام کو کمپیوٹرائزکردیا ہے۔ سمگلر بھی حکومت سے اپنے خلاف کارروائیوں پر احتجاج کرنے میں برحق ہیں۔ اسی لئے شاید مشہور شاعر ناظم پانی پتی نے کہا تھا :

قسمت اس پہ کیوں نہ صدقے واری ہو

جس کا باپ سمگلر یا پٹواری ہو

مزید :

کالم -