’خط کا لا تے کاغذ چٹا‘

’خط کا لا تے کاغذ چٹا‘

  

جن دنوں ہم سب مسلمان ایک دوسرے کے اجتماعات میں بخوشی شامل ہو جایا کرتے تھے ، پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ایک محفل میں علامہ اظہر حسن زیدی نے بندے اور خدا کے رشتہ کی نشاندہی بڑے دلچسپ پیرائے میں کی ۔ انگشت شہادت اپنے سینے اور پھر آسمان کی طرف کر کے بولے ’اللہ کا گھر ہمارے دل میں ، ہمارا گھر جنت میں،۔ تحسین کا شور تھما تو کہنے لگے ’اگر جنت میں کھلا مکان چاہئے تو اللہ کے گھر میں کشادگی پیدا کرو ، اس میں ائر کنڈیشنر لگواؤ ۔ اللہ کو ٹھنڈی ہوا آئے ، میرے بچو!‘ ۔ اپنے عزیز وں پہ نظر ڈالوں تو ایک چچا یعقوب ہی تھے جنہوں نے اللہ کے گھر کو کشادہ رکھا اور اتنے ائر کنڈیشنر لگوائے کہ جنت میں انہیں ایک گھر نہیں ، پوری کالونی الاٹ ہونی چاہئے ۔ پر پچھلے ہفتے ایک جدید بستی میں ان کی اپنی تدفین اس لئے مشکل سے ہوئی کہ رہائشی مکان ان کے نام نہیں تھا ۔

نئے پاکستان میں پھلتی پھولتی آبادیوں اور سکڑتے دلوں کے منظر نامہ میں حق زندگی تو مشکوک تھا ہی ، اب حق تدفین کو بھی ملکیتی رتبہ سے مشروط کر دیا گیا ہے ۔یہ مضمون کسی اور وقت کے لئے ۔ آج تو اس آدمی کی کہانی سناؤں گا جنہیں ان کے بچوں نے ابو جی کی بجائے ہمیشہ بوجی کہا جبکہ ہم پانچوں بہن بھائی انہیں سگی پھوپھی کا شوہر سمجھتے ہوئے بھی پرانے خاندانی رشتے کے حساب سے چاچا جی ہی کہتے رہے ۔ خیر کچھ کہہ کر پکاریں ، شخصیت ایسی تھی جو نہ تو رشتوں میں سماتی ہے ، نہ اس پہ کوئی عہدہ پورا اترتا ہے۔ پاکستان آرڈنینس فیکٹریز میں ورکس منیجر ، بھلے وقتوں کے گریجویٹ ، کرکٹ ، کبڈی ، تاش کے کھلاڑی ، مچھلی کے شکار کے شوقین ، پیچ لڑانے والے چیمپئن پتنگ باز ، کلام اقبال کے حافظ،صوفیا کے عاشق، دفتری کام میں سب پر بھاری،سوچ ذاتی فائدے سے یکسر عاری۔

پتا نہیں آپ کے ذہن میں دنیا سے اٹھ جانے والی اس ہستی کا کیا نقشہ ابھر رہا ہے ۔ ممکن ہے آپ کو ان میں سے بعض عادتیں ایک دوسری کی ضد محسوس ہوں جیسا کہ بچپن کے دھندلکے میں مجھے بھی لگتا تھا ۔ یہی دیکھیں کہ ساڑھے چار سال کی عمر میں ابا کے ساتھ چاچا جی کے گھر گئے اور ان کا پوچھا تو آپا مریم نے کہا ’یعقوب تو پرسوں سے سویا ہوا ہے‘ ۔ ایک ایسے فرض شناس شخص کا تین تین دن سوئے رہنا حیرت کی بات تو تھی جو آٹھ بجے دفتر پہنچنے کے لئے ہر صبح ساڑھے چھ بجے ہی ریلے کی سائیکل نکال لیتا ہو ۔ سستی اور چستی کے اس ٹکراؤ کو سمجھنا چاہیں تو میٹرک والے نیلے اور لال لٹمس کے تجربہ پہ غور کرنا پڑے گا ۔ خاص طور پہ وہ مرحلہ جب کاغذ کی نیلگوں رنگت سرخی میں ضم ہوتے ہوتے یک رنگ سی ہو جاتی ہے ۔ تو کیا تضاد اور ہم آہنگی کا یہ باہمی تعلق کہیں فریب نظر تو نہیں ؟

ان معنوں میں تو فریب نظر ہی کہیں گے کہ ایک دوسرے کو پنچاننے کے لئے ہم نے جو زمرہ بندیاں بنا رکھی ہیں، ان میں بسا اوقات انسانوں کی معروضی نوعیتوں سے زیادہ ہماری اپنی سہولت کو دخل ہوتا ہے ۔ جیسے بہت شروع میں چاچا جی کے ساتھ سیالکوٹ میں کبڈی کا میچ دیکھنا ایک تصویر کی طرح یاد پڑتا ہے،جس کے پیچھے تالاب والے گوردوارے کا وہ احاطہ تھا جو با با گرونانک کے لگائے ہوئے پودے کی نسبت سے ’بابے دی بیری‘ کہلایا ۔ حافظہ میں ان کی دوسری تصویر ریڈیو پہ کرکٹ کمنٹری سننے کی ہے اور پھر وہ دن جب چاچا جی یہ پوچھنے کے لئے ہمارے اسکول آئے تھے کہ لڑکا کیسا چل رہا ہے ۔ تب مجھے ان کا جسمانی زمرہ منفرد سا لگا تھا کہ لڑکپن کی پہلوانی کی بدولت گردن ایک طرف جھکی ہوئی اور بایاں مونڈھا دائیں سے ذرا اونچا ۔ بعد میں پتا چلا کہ ان کے نظریاتی مونڈھے بھی اوپر نیچے ہیں ۔

سچ کہوں تو نظریاتی اونچ نیچ کا احساس اسکول کے زمانے میں تو نہ ہوا ، اس لئے کہ ابھی اپنے شعور میں کوئی تصور حیات تھا ہی نہیں ۔ دوسرے واہ کینٹ میں پہلے پہل ایک ہی سرکاری گھر اور پھر قریب قریب کے مکانوں میں رہتے ہوئے چچا یعقوب نے ہماری ذہنی نشوونما پہ نظر تو رکھی ، مگر ذرا فاصلہ سے ۔ زیادہ تر توجہ کارک والی سرخ گیند سے آف بریک ، لیگ بریک اور کبھی کبھار گوگلی پھینکنے پر رہی ۔ پر جی ،کالج کا رخ کرنے کی دیر تھی کہ ہلکی پھلکی دوستانہ دخل اندازی شروع ہو گئی۔ دسویں جماعت کا امتحان ختم ہوئے چند ہی دن ہوئے ہوں گے کہ درمیانی ضخامت کی دو کتابیں ہاتھ میں دے دی گئیں ۔ میں پڑھاکو طالب علم نہیں تھا ، مگر ایس ایم اختر کی ’ماڈرن اکنامکس ‘ اور داس اینڈ چیٹر جی والی ’پولیٹکس میڈ ایزی‘ کی تحریر ایسی لگی کہ بندہ پڑھتا جائے اور سمجھ آتی جائے ۔ یوں ایک سلسلہ چل نکلا ۔

کتابوں کی مسلسل یک طرفہ رسد اگر کلاس روم جیسی بیزار کن درس و تدریس میں تبدیل نہ ہوئی تو اس کا کریڈٹ چاچا جی ہی کو جاتا ہے ۔ اول تو کتاب دیتے ہوئے فیاضی سے کام لیتے اور جلد واپسی کا مطالبہ نہ ہوتا ۔ پھر پیشہ ور ممتحن بن کر کبھی کوئی ایسا سوال بھی نہ کیا، جس سے میرے نیم پختہ مطالعہ کا پول کھل جاتا ۔ وگرنہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پندرہ سولہ سال کا لڑکا پڑھائی میں لاکھ اچھا ہونے کے باوجود سید علی ہجویری کی کشف المحجوب ، یورپی سیاسی افکار کی تاریخ اور ان تحقیقی کتاب سے کتنا استفادہ کر سکا ہو گا، جس میں بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل کا ناطہ نسلی ، تمدنی اور لسانی حوالوں سے اہل کشمیر کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ بہر حال ، یہ ضرور تھا کہ جو کچھ بھی پڑھنے کو ملا ، میں ایک دفعہ تو اسے ’رگڑ‘ گیا ۔ یوں بہت سے کچے پکے حقائق ذہن میں بیٹھتے گئے ۔

مطالعہ کا دائرہ اس وقت وسیع تر ہو گیا جب ’سیکولر‘ مواد کے ساتھ ساتھ کچھ دینی مطبوعات بھی پڑھنے کو ملنے لگی تھیں۔ پہلے تو ایک رسالہ دیکھا ، لاہور سے شائع ہونے والا ماہنامہ ’طلوع اسلام‘ جس کے ایڈیٹر معروف دانشور غلام احمد پرویز تھے ۔ دو ایک ہفتے گزرے تو پروییز صاحب کی چند اور تصانیف بھی مل گئیں ۔ مثلاً ایک سیدھی سادی سی کتاب ’اسلامی معاشرت‘ جس کا سرنامہ تھا کہ عورتوں ، بچوں ، کم پڑھے لکھے افراد اور سرکاری ملازموں کے لئے اسلام کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کا ذریعہ ۔ آج کم پڑھے لکھے لوگوں کا یہ حوالہ تحقیر آمیز سا لگتا ہے ، مگر پہلے پہل ’تم نے مالی کو دیکھا ہوگا ‘ سے شروع ہونے والا سبق بہت دل نشین لگا جس میں بیج ، کونپل اور سایہ دار درخت کی مثالوں سے ایمان بالغیب اور نظام ربوبیت کا تصور سمجھایا گیا تھا ۔ اس مرحلہ پر چاچا جی نے مارکیٹنگ کی ایک ہلکی سی تکنیک بھی آزمائی ۔

وہ تھی ’سلیم کے نام خطوط‘ کے بعد اسی منفرد مگر متنازعہ مصنف کی ایک اور ضخیم کتاب ’انسان نے کیا سوچا‘ ، جس کے بارے میں لالچ دیا گیا کہ سیاسیات اور معاشیات کے پرچوں کی تیاری میں مدد دے گی ۔ مدد تو ملی، کیونکہ پہلے تین ابواب کو چھوڑ کر ، جن کا موضوع خشک طبعی علوم تھے ، باقی اوراق میں کئی سوشل سائنسز پر اس وقت تک کی مستند معلومات کو یکجا کر دیا گیا تھا ۔ یوں ، نصابی ضروریات کی حد تک تو میرا کام بن گیا ، لیکن یہ توفیق نہ ہوئی کہ اگلی تصنیف ’خدا نے کیا کہا‘ کو ہاتھ لگاتا، جس میں زیر نظر مسائل کا حل قرانی ارشادات کی روشنی میں پیش کیا گیا تھا ۔ اس اجتناب کی وجہ میری نیم تعلیم یافتہ دادی کی امکانی نا پسندیدگی بھی ہو سکتی ہے ، جنہوں نے ایک بار اپنے داماد یعنی چاچا جی کے متعلق تشویش بھرے لہجہ میں کہا تھا ’سنیا اے، ساڈا یعقوب طلوع اسلام پڑھدا اے‘ ۔

روایتی بزرگوں کی دینداری اپنی جگہ ، پر وہ جو نظم گو آفتاب اقبال شمیم کہتے ہیں ’وہی ہر روز کے مضموں میں لکنت خالی جگہوں گی‘ ۔ تو انسانی رویوں کی زمرہ بندیاں کرنے والوں کو کیسے سمجھاؤں کہ چچا یعقوب کو اپنے باطن کے ہرے گوشوں میں خالی جگہیں پر کرنے کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑے ۔ یہ یونہی تو نہیں کہ سیالکوٹ میں امام علی الحق کے مزار سے لے کر بابا فرید ، بلھے شاہ اور میاں محمد بخش تک کی بارگاہوں کا سفر طے کرتے ہوئے بھی انہوں نے ایک ہاتھ میں عقلیت پسند علامہ پرویز کی کتابیں سنبھالے رکھیں اور دوسرے ہاتھ سے ان آشفتہ سر دوستوں کے بازو تھام لئے، جنہیں سلطان باہو نے ’لعلاں دے ونجارے‘ کا نام دیا تھا ۔ مراد ہیں اڈہ پسروریاں کا باتونی تمباکو فروش، تصوف کے رنگ میں ڈوبے ہوئے نواحی مسجد کے حافظ صاحب اور لودھی پریس والے افتخار خان جو تہمد باندھے ہوئے کانلے کرکٹ ٹورنامنٹ دیکھنے پہ اصرار کرتے ۔

تو کیا اسے چاچا جی کے متضاد رویوں کا چلن کہیں گے ؟ میری رائے میں تو یہ محض لٹمس کا تضاد ہے جس کی سرخی اور نیل دو انتہاؤں کے بیچ کہیں نہ کہیں چپکے سے ہم رنگ ہو جاتے ہیں ۔ ایلیٹ مذہبی نظریات کے دور میں ’جمہور مسلمان‘ کی خوشگوار اصطلاح میں نے چچا یعقوب ہی سے سنی تھی ۔ سو ، یوں لگتا ہے کہ خدا کے بندوں سے یہی دلچسپی ان کی دانشوری اور قلندری کے درمیان توازن کا نکتہ رہی ہوگی ۔ اسی لئے تو گھر میں خالی جگہوں کی لکنت پوری کرنے کے لئے صوفی شعرا کے علاوہ میر، غالب اور ان سے زیادہ اقبال کا منظوم کلام گونجتا رہتا ۔ چچا کی بلند آہنگ گائیکی ذرا ’لوک‘ نوعیت کی تھی ، اس لئے غیر حاضری میں بچے ان کی نقلیں بھی اتارتے ۔ چاچا جی کے چلے جانے کے بعد ان کی کمی تو پوری نہیں ہوگی ، پر میں ابھی سے ’سیف الملوک‘ کا ریاض کرنے لگا ہوں کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم ترنم کے معاملہ میں تو خاندانی زندہ دلی کی روایت برقرار رہ سکے :

خط کالا تے کاغذ چٹا ، اؤں دکھلائی دیندا

چاننیاں وچ چھاں باغ دی ، چمکاں نور مریندا

مزید :

کالم -