نظریہ پاکستان کی ایجاد (1)

نظریہ پاکستان کی ایجاد (1)
نظریہ پاکستان کی ایجاد (1)

  

جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو میں کافی ہوشمند تھا۔ 1947 سے قبل پنجاب کے جس علاقے (جگراؤں) میں پیدا ہوا اور 12 سال تک رہا وہاں میں نے پاکستان کا نام کبھی نہ سُنا تھا حالانکہ ہمارا گھرانہ تعلیم یافتہ کہلاتا تھا۔ والد صاحب 1937 میں برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو کر کہیں مڈل ایسٹ کے ملک میں چلے گئے تھے۔ میری والدہ کا انتقال بچپن میں ہی ہوچکا تھا اور میرے دادا جی کے گھر میں کوئی خاتون بھی نہیں تھی جو میری مناسب پرورش کرتی۔ داداجی حکمت کرتے تھے، ثقہ لیکن غیر سیاسی مسلمان تھے۔ داداجی کے مطب کے ملازمین جو قریباً اَن پڑھ تھے اُن سے بھی میںَنے کبھی پاکستان کا نام نہیں سُنا تھا۔ پاکستان بنا تو دادا جی مجھے میرے والد صاحب کے پاس 1947 میں دہلی چھوڑ کر پاکستان آگئے۔ والد صاحب نے جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد انڈین پوسٹل سروس جوائن کر لی تھی اور اُنہوں نے اپنی ملازمت ہندوستان میں ہی مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ میںَ نے اپنا میٹرک ہندوستان سے ہی 1951 میں کیا اور والد صاحب کے ہی مشورے سے میںَ پاکستان آگیا۔ یہاں پاکستان میں مجھے آتے ہی ائیر فورس میں بطور اپرنٹس ملازمت مِل گئی اور UK میں تربیت پانے کے بعد میں نے کچھ سال PAF میں گذارے۔

پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے قریباً 14 سال تک میںَ نے نظریہ پاکستان یا نظریاتی سرحدوں کے بارے میں کبھی نہیں سُنا تھا حالانکہ اُس وقت تک ہم 1965 کی جنگ لڑ چکے تھے، 1953 کی قادیانی مخالف تحریک بھی دیکھ لی تھی، میںَ بھی اُس وقت تک ائیر فورس میں رہتے ہوئے انگریزی ادب میں ایم اے کر چکا تھا، مقابلے کا امتحان دے چکا تھا جس کا مطلب ہے کہ میری معلوماتِ عامہ اور پاک و ہند کی تاریخ پر مناسب دسترس تھی۔ نظریاتی سرحدیں یا نظریہ پاکستان کی لفظی ترکیب ابھی پاکستانی عوام تک نہیں پہنچی تھی بلکہ ہمارے فوجیوں کی تربیت کے دوران اس قسم کے جذباتی نعرے بھی نہیں سکھائے گئے تھے۔ یہ تو 1965 کی جنگ کےِ ملّی ترانوں نے ہماری فوج میں قومی جذبہ بیدار کیا لیکن فوج کا اور خاص طور پر ائیر فورس اور نیوی کے Mess کا ماحول بڑا آزادانہ تھا ۔ ہمارے عسکری جوان اپنے پیشے سے محبت رکھتے تھے اور اُن کی 1965 کی جنگ کی کارگردگی کسی مِلی ترانے یا نظریہ پاکستان کی مرہونِ منت نہ تھی۔

وہ تو یوں ہوا کہ ایوب خان کے جانے کے بعد جنرل یحییٰ کی کابینہ میں میجر جنرل شیر علی آف پٹودی وزیرِ اطلاعات بنے ۔جنرل شیر علی کا رجحان دینی تھا اور وہ جماعتِ اسلامی سے اُنسیت بھی رکھتے تھے۔ شاندار عسکری تھے۔ ہلال جُرأت لینے والے پہلے فوجی آفسر تھے جنہوں نے 1948 کی کشمیر کی جنگ میں نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھابلکہ سچ پوچھا جائے تو قبائلی عسکریوں کو بھی اُنہوں نے ہی منظم کیا۔ جنرل شیر علی نے نظر یہ پاکستان اور نظریاتی سرحدوں کی اصلاح بذریعہ جناب مجید نظامی مدیر روزنامہ نوائے وقت اور جناب الطاف حسن قریشی مدیر و مالک ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ اور ملک کے دیگر دانشوروں اور دائیں بازو کے اخبار نویسیوں کو رُ وشناس کروائی۔ جنرل یحییٰ نے اسکو زیادہ اہمیت اپنی ذات کے لئے دی کیونکہ مذہبی جماعتوں کو یقین تھا کہ وہ الیکشن بھاری اکثریت سے جیتں گی اور جنرل کو ہی صدر بنائیں گی۔ جناب بھٹو صاحب کے زمانے میں اس نظریہ کو اتنی پذیرائی نہ مل سکی۔ یہ تو جنرل ضیاء کا زمانہ تھا کہ جس میں ایک خاص زاویہ رکھنے والے مسلمانوں کی آؤ بھگت ہوئی، اسلام پسند ہونا اور نظر آنا ترقی کی گارنٹی ٹھہری ۔ نوائے وقت کے مجید نظامی صاحب جنرل ضیاء کے مقربِ خاص بنے۔ جماعتِ اسلامی کی کاوشوں سے ہمارے تعلیمی نظام اور مذہب کو ایک خاص سمت دی جانے لگی۔ نظریہ پاکستان کی اصطلا ح 1971 تک بالکل نہ سُنی تھی۔ 1940 کی قرار دادِ لاہور سے پہلے پاکستان کا نام مسلم لیگ کے حوالے سے ابھی شنید نہ تھا اسی طرح نظریہ پاکستان کی ترکیب کا کسی کو بھی پتہ نہ تھا۔

ہمارے پیارے ملک پاکستان کے ساتھ بڑا المیہ یہ ہوا کہ قائدِ اعظم کی رحلت کے بعد ہمارے ملک کی بنیادوں میں دائیں بازو کے پریس کی مدد سے مذہبیت کوٹ کوٹ کر بھری جانے لگی۔ جب تک پاکستان کے سیاست دانوں کی پہلی نسل زندہ رہی مشرقی پاکستان ہمارے ساتھ رہا، ابھی مذہبی انتہا پسندی پاکستان کی سیاست میں داخل نہ ہو سکی تھی لیکن ایوب خان کے ہٹ جانے کے بعد پاکستان کی سیاست پر نہ صرف دائیں بازو کے میڈیا نے قبضہ کر لیا بلکہ مذہبی سیاسی جماعتوں کی بن آئی۔ بلکہ چوہدری محمد علی صاحب نے نظامِ اسلام پارٹی کے نام سے ایک اور سیاسی جماعت بنا لی۔ اُن ہی دِنوں جماعت اسلامی نے شوکتِ اسلام کے نام سے ایک بڑی ریلی نکالی اور جلسے کئے۔ شو مئی قسمت کہ 1970ء کے انتخابات کا نتیجہ اسلام پسندوں کی توقعات کے بالکل برعکس آیا ۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ بھٹو صاحب اقتدار میں آگئے اور چند سال کے بعد ہی اسلامی نعروں کے زور پر کرسیِ اقتدار سے ہٹا کر پھانسی چڑھا دیئے گئے۔ جنرل ضیاء جو ایک سکّہ بند مُلاّ بھی تھے ، نے نظامِ مصطفی کے نعرے کو دیو بندی مسلک کا لباس پہنا کر نفاذِ شریعت کے نعرے میں بدل دیا۔ اَب تک نظریہ پاکستان کا تصوّر عملی شکل اختیار نہ کر سکا تھا۔ جنرل ضیا ء جو فوجی بھی تھا، مذہبی بھی تھااور اب نظریہ پاکستان کا مرّبی بھی بن گیا۔

اُس کے زمانے ہی میں نظریاتی سرحدوں کی اِصطلاح کا زیادہ چرچا ہوا۔ جس کا مقصد پاکستانی نوجوان نسل میں پاکستانیت کا جذبہ اُبھارنا تھا یعنی پاکستانیوں کو ایک قوم میں تبدیل کرنا تھا۔ جذبہ نیک تھا لیکن قومیت ایسے میکانکی طریقوں سے اُجاگر نہیں ہوتی۔ ہم جب تک بلوچوں سندھیوں ، پٹھانوں، سرائیکیوں ، اُردو والے علاقے سے آنے والے مہاجروں اور پنجابیوں کو بطور ایک نسل کے تسلیم نہیں کریں گے اور اُن کو پاکستان سے اسلام کی سریش لڑی سے جوڑنے کی کوشش کرتے رہیں گے، اُس وقت تک ہم ایک قوم نہیں بن سکتے خواہ ہم کتنے ہی نظرئیے ایجاد کرلیں اور کتنی ہی مضبوط نظریاتی سرحدیں تعمیر کر لیں۔ پاکستانی قومیت کا وجود سیاسی اور معاشی حقوق سے منسلک ہے۔ 67 سال سے ہمارے سیاستدان اور فوجی جرنیل اِسی اہم پہلو کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ (جاری ہے)

نظریہ پاکستان کا تصّور اللہ جانے نوابزادہ شیر علی مرحوم نے کسِ مقصد کے لئے پیش کیا تھا۔ یقیناًوہ مقصد خلوص پر مبنی ہوگا۔ لیکن ہوا کیا۔ یہ ایک ایسا کلب بن گیا جسکے لئے قیمتی عمارت اور اراضی جو قریباً 5 ایکڑ سے زائد بنتی ہے الاٹ کر دی گئی۔ پاکستان کے نہائت با اثر اخبار کے مالک جناب مجید نظامی صاحب اس کلب کے سربراہ بن گئے، باقی ممبران بھی اکثر ریٹائرڈ اور عمر رسیدہ دائیں بازو کے دانشور شامل ہو گئے۔ ان ممبران کی زیادہ تعداد لاہور اور پنجاب کے بڑے شہروں سے تھی۔ پنجاب حکومت کے 1992 کے وزیر اعلیٰ جناب غلام حیدر وائیں جو خود نہائت سادہ اور درویش منش انسان تھے، اُن کو کچھ دباؤ میں لا کر ، کچھ اُن کے جذبہِ حب الوطنی کا استعمال کر کے اور وائیں صاحب کی بیگم مجیدہ بیگم کو سینیئر وائس چیرمین کا عہدہ دے کر حکومتی فنڈز بھی مظور کر والئے گئے، 1997 میں پنجاب اسمبلی نے اس ادارے کے وُجود پر سرکاری مہر بھی لگا دی ۔

نظریہ پاکستان کی ویب سائٹ کھول کر میںَ نے یہ جاننے کی کو شش کی کہ اس ادارے کے مقاصد کیا ہیں، ابھی تک یہ مقاصد کس حد تک پورے ہو چکے ہیں؟ میںَ نے تو یہ سوچا تھا کہ 22 سال کے عرصے میں اس ادارے نے ہمارے عوام میں پاکستانیت کے جذبے کو مقبول بنا دیا ہو گا۔،ہمارے بلوچ بھائی ہم پنجابیوں سے کسی قسم کی ناراضگی نہ رکھتے ہونگے۔ جب بھی کوئی سندھی نیشنلسٹ پاکستان سے ناراضگی کا اظہار کرے گا تو نظریہ پاکستان ڈھال بن کر سامنے آ جائے گا،نظریہ پاکستان کی گونج ملک کے کو نے کونے میں سنائی دے رہی ہو گی ، ہر بڑے شہر میں اس کی شاخیں ایسے ہی ہونگیں جیسی ایوب خان کے زمانے کی نیشنل کونسل تھی اور اس مرحومہ کا کام بھی عوام میں پاکستانی قومیت پیدا کرنا تھا۔ لیکن صد اُفسوس کہ جب میںَ نے اس ادارے کی 22 سالہ کارکردگی پر نظرڈالی تو سوائے معمول کی کاروائیوں کے اور وہ بھی زیادہ تر لاہور کی حد تک مجھے کچھ نظر نہ آیا۔ نظریہ پاکستان کی اصطلاح سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تحریک پورے پاکستان کے لئے ہو گی لیکن جب معلوم ہوا کہ یہ نظریہ یا تحریک پنجاب اسمبلی کے ایکٹ کی وجہ سے وجود میں آئی ہے تو یہ صرف حکومت پنجاب تک محدود ہو کر رہ گیا۔ پنجاب کے بارے میں دوسرے صوبے پہلے ہی تحفظات رکھتے ہیں کہ پنجاب پاکستان کے ماموں جان کا رول ادا کرتا ہے۔ 2013 ؁ء میں گولڈ میڈل پانے والے کارکنانِ تحریک پاکستان کی فہرست پر نظر ڈالی تو اور مایوسی ہوئی۔ اُس فہرست میں ہندوستانی پنجاب ، بنگال، یوپی، پاکستانی پنجاب اور بہت ہی چند سرحدی کارکنوں کا تو نام ہے لیکن کوشش کے بعد بھی مجھے کسی بلوچ یا سندھی کا نام نظر نہ آیا ۔ تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ پاکستان کی تحریک اور تعمیر میں پنجاب ہی آگے تھا۔ سندھ ،جس کی اسمبلی نے قراردار کے ذریعے پاکستان میں شمولیت کا اظہار کیا اُس صوبے کا کوئی بھی پاکستانی گولڈ میڈل کا حقدار نہ تھا۔ مجید نظامی مرحوم ایک خود پسند صحافی تھے۔ اُن کو گولڈ میڈل لینے کی کیا ضرورت تھی جبکہ وہ خود ہی نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیرمین تھے۔ اپنے نام پر سڑک کا نام سٹی گورنمنٹ سے منظور کروانے کی کیا ضرورت تھی۔ مخلص کام کرنے والے تو اپنے آپ کو پیش پیش کرنے سے کتراتے ہیں۔

جہاں تک میںَ نے سوچ بچار کی ہے اور میرے جیسے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ کسی سیاسی پارٹی یا نظریئے کو سرکاری سر پرستی اور فنڈز نہیں مل سکتے لیکن نظریہ پاکستان ٹرسٹ بنا کر ڈھیر سارے بزرگ مسلم لیگیوں اور مسلم لیگ کی سوچ رکھنے والے دانشوروں کی ہمت افزائی اور پذیرائی کا انتظام ہو گیا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر میںَ نے اس ادارے کی گذشتہ سالوں کی کارروائیاں دیکھیں تو نظر آیا کہ بڑی رسمی قسم کی تقریبات ہر سال منائی جاتی ہیں مثلاً یومِ کشمیر ، یومِ دفاعِ پاکستان ، یومِ شہدا تحریکِ پاکستان اور یوم آزادی ۔ اس کے علاوہ نظریاتی تربیتی ورکشاپ ، گرمیوں کی چھٹیوں میں سرکاری سکولوں کے طلباء اور طالبات کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں۔ ان بچوں کو پاکستان کی ادھوری تاریخ اور ادھورا جغرافیہ پڑھایا جاتا ہے۔ ہندو سے نفرت پیدا کی جاتی ہے۔ ہمیں نسلی طور پر ہندو سے مختلف بتایا جاتا ہے حالانکہ ہم ہندو سے مذہبی طور سے الگ ہیں لیکن Thnograpically علمِ اللَقوم کے حوالے سے ہمارا رنگ و روپ ، Genes ، ہمارا عوامی کلچر ایک دوسرے میں مدغم ہیں۔ ہماری شادی بیاہ کی دلچسپ بلکہ فضول خرچی کی رسمیں ہندوں سے ہی آئی ہیں۔ ہماری موسیقی اور ہمارے عوامی میلے ٹھیلے بھی ہندو کلچر سے لئے گئے ہیں۔ ہماری خورد و نوش بھی ہماری نہیں یہ تو خراسان اور ایران سے اُس وقت سے چل رہی ہے جب وہاں اسلام بھی نہیں آیا تھا۔ وہ ہم برصغیر کے مسلمان چونکہ اسی خطہِ ارض کے باسی ہوتے ہوئے مسلمان ہوئے ہیں اس لئے ہماری خوراک میں ہندو Culinary بھی شامل ہو گئی۔

اِن تربیتی ورکشاپس میں ہم پاکستان دوستی پڑھاتے پڑھاتے لاشعوری طور پر ہندو دشمنی اور مسلم شدت پسندی پڑھا رہے ہوتے ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ جو قائدِ اعظم کی وارث تھی وہ تو ناپید ہوگئی۔ اب تو گروہی مسلم لیگیں بن گئی ہیں ۔ نظریہ پاکستان کا تصور ایک مخلص سپاہی نوابزادہ میجر جنرل شیر علی ھلا لِ جُرات کا تھا جس کو مسلم لیگ نواز گروپ نے قابو کر کے اپنا ایک دانشور وِنگ بنا لیا ۔ ان دانشوروں میں اکثر مخلص اور حُب الوطن ہیں، وہ دل و جان سے دامے سخنے اور قدمے ادارہ نظریہ پاکستان کی مدد بھی کرتے ہیں کئی شخصیات کو میں ذاتی طور پر جانتا بھی ہوں لیکن افسوس اِن مخلص دانشوروں سے مکمل قومی اہمیت کے عملی کام نہیں لئے گئے۔ اس اِدارہ کی زیادہ تر کارروائیاں لاہور تک محدود رہیں اور وہ بھی مختلف یوم منانے کی حد تک یا سونے کے تمغے بانٹنے تک۔ پاکستان کی مختلف قومیتوں میں فِکری یکجہتی پیدا نہیں ہو سکی بلکہ فرقہ پرستی، علیحدگی پسندی ،صوبہ پرستی کو فروغ ملا۔نظریہ پاکستان کا جو شاندہ ہم میں قومیت کے ہارمونز پیدا نہیں کر سکا۔ بلکہ 18ویں ترمیم نے تو نظریہ پاکستان کی مرکزیت کو مزید ٹھیس پہنچائی۔

اس کالم میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے اس پر اگر کوئی اور صاحب خامہ فرسائی کرنا چاہیں تو یہ کالم حاضر ہیں (ادارہ)

مزید :

کالم -