متناسب نمائندگی، بہتر نظام ہے؟

متناسب نمائندگی، بہتر نظام ہے؟
متناسب نمائندگی، بہتر نظام ہے؟

  

جماعت اسلامی کا سہ روزہ اجتماع عام شروع ہوگیا، پہلے ہی روز پنڈال بھرا اور شرکاء اس کے باہر تک تھے، اس تین روز اجتماع کا اپنا تفصیلی پروگرام ہے جس کے مطابق نشستیں ہوئیں، ہو رہی اور ہوں گی۔آج (اتوار) آخری روز ہے، اجتماع کا افتتاح اور آغاز مرکزی امیر سراج الحق کے خطاب سے ہوا اور اختتامی کلمات بھی وہی کہیں گے۔وہ اس سے پہلے امارت کا حلف اٹھانے کی تقریب سے مٹھی بھر اشرافیہ کی بات کررہے ہیں کہ یہ چند لوگ ہیں جو ملک کے تمام وسائل پر قابض ہیں، جماعت اسلامی ایک سیاسی دینی جماعت ہے اکابرین جماعت کے مطابق جدا ہو دیں سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی، چنانچہ ان کے نزدیک دین اور سیاست جدا نہیں، اب قاضی حسین احمد کے بعد نئے امیر سراج الحق نے جماعت کو عوامی بنانے اور پروگرام کو عوام تک پہنچانے کے عزم کا اعلان کیا ہے، اپنے افتتاحی خطبے میں انہوں نے سود کے خلاف اعلان جہاد کیا اور ساتھ ہی ساتھ ملک میں انتخابی نظام کی تبدیلی کی بات کرتے ہوئے آئندہ انتخابات متناسب نمائندگی کے اصول پر کرانے کا مطالبہ کیا۔ یہ جماعت کے منشور اور پروگرام کا حصہ ہے اور اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ انتخابات متناسب نمائندگی کے تحت ہونا چاہئیں، اب باقاعدہ مطالبہ کیا گیا، جس سے احساس ہوتا ہے کہ اس مسئلہ پر سنجیدگی سے بات کی جائے گی۔ جماعت والے واقعی سنجیدہ ہوں اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ منطق اور دلیل سے بات کریں تو یہ مطالبہ اجتماعی بھی ہو سکتا ہے اور وہ وقت بھی آ جائے گا جب اس کے لئے آئینی ترمیم ہو جائے۔یوں بھی اس وقت پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کمیٹی کام کررہی ہے۔ اس میں تمام پارلیمانی گروپوں کی نمائندگی ہے۔بہتر تو یہ ہے کہ اس کمیٹی میں یہ مطالبہ رکھ دیا جائے اور کوشش کی جائے کہ کمیٹی والے یہ تجویز مان لیں۔

متناسب نمائندگی ایک اچھا طریقہ ہے، تاہم ہمارے ملک میں اس کے نفاذ کے لئے بہت زیادہ غورو فکر کی بھی ضرورت ہے، ورنہ ابہام پیدا ہوں گے۔پاکستان اس وقت ایک جمہوری ملک اور پارلیمانی نظام حکومت کا حامل ہے یہ نظام حکومت برطانیہ سے مستعار ہے اور ہمارے قومی راہنما اسی کے سحر میں گرفتار ہیں جو ہٹ کر بات کرے اس کی تجویز کو غیر پارلیمانی کہہ دیا جاتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ بابائے اتحاد نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کے سامنے کسی اور طریقے کی بات کی جاتی تو وہ برہم ہو جاتے تھے، ان کے نزدیک موجودہ طرز کا پارلیمانی نظام ہی ہمارے لئے بہترین اور موثر ہے۔حالانکہ دنیا بھر میں جمہوریت ہے، تاہم انتخابی طریق کار بہت مختلف ہیں۔ امریکہ میں صدارتی نظام ہے۔ آج تک کسی نے اسے غیر جمہوری نہیں کہا، جرمنی اور فرانس میں انتخابات متناسب نمائندگی کے تحت ہوتے ہیں۔اعتراض نہیں کیا جاتا اور نہ ہی یہ ممالک غیر جمہوری ہیں اور تو اور خود ہمارے ملک میں بھی ایک سطح پر متناسب نمائندگی کا یہ نظام موجود ہے اور وہ سینٹ کے انتخابات ہیں۔

اس مسئلہ پر مزید کچھ لکھنے سے قبل یہ یاد دلایا جائے تو بہتر ہوگا کہ برصغیر پربرطانوی گورے قابض رہے تو یہاں جاتے جاتے اپنا نظام بھی چھوڑ گئے اور ہمارے قائدین نے اسے اپنا لیا 1956ء کا آئین اس کے مطابق بنا تو اب 1973ء کا آئین بھی برطانوی طرز کی پارلیمانی جمہوریت کے مطابق ہے۔ درمیان میں ایوب خان آئے تو انہوں نے اپنا صدارتی آئین خود نافذ کیا اور ملک میں بنیادی جمہوریت کے نام سے بالواسطہ انتخابات کا طریقہ رائج کر دیا ان کے نزدیک عوام کو اتنا شعور نہیں ہے کہ وہ اس برطانوی طرز انتخاب کے مطابق رائے دے سکیں، لیکن ان کا یہ بنیادی جمہوریت کا نظام بھی بہرحال پہلے مرحلے میں انہی بے شعور عوام کی رائے سے آگے بڑھتا تھا۔ایوب خان نے دراصل نچلی سطح پر تو یہ نظام مقامی مسائل کے لئے نافذ کر دیا، لیکن خود کو اقتدار میں رکھنے اور اپنی پسند کی پارلیمان بنانے کے ساتھ ساتھ کلی اختیار کا مالک بننے کی بھرپور کوشش کی، پارلیمانی کو صدارتی نظام سے تبدیل کر دیا اور اسمبلیوں سے صدارتی انتخابات تک بالواسطہ رائے شماری کے تابع کر دیئے کہ ووٹ کا حق بنیادی جمہوریت کے رکن کو تھا اور اسی نظام کی بدولت انہوں نے 1965ء میں مادر ملت جیسی ہستی کو صدارتی انتخابات میں ہرا دیا تھا۔

ہمیں آج بھی یاد ہے کہ جب ایوب خان نے قومی اسمبلی کے انتخابات کرائے تو لاہور میں ایک ہی برادری کے دو بڑے مد مقابل تھے۔ مقابلہ چودھری محمد حسین اور میاں عارف افتخار میں تھا۔ دونوں نے گھر گھر کنویسنگ کی۔ میاں عارف افتخار کی پوزیشن بہتر تھی وہ میاں افتخار الدین کے صاحبزادے تھے، چنانچہ بی ڈی ممبروں نے ان سے وعدے بھی کئے اور پیسے بھی لئے کہ ان ووٹوں کی قیمت بھی لگتی تھی، لیکن نتیجہ چودھری محمد حسین کے حق میں نکلا کہ سرکاری دباؤ تھا، اسی طرح 1965ء والے صدارتی انتخاب میں ہوا۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح متحدہ حزب اختلاف کی امیدوار تھیں، ان کو دھاندلی سے ہرا دیا گیا۔ایک نظارہ تو خود ان گناہ گار آنکھوں نے بھی دیکھا، ہماری رہائش آبائی محلے اندرون اکبری دروازہ ہی میں تھی، انتخاب سے ایک روز قبل جب ہم دفتری کام سے فرصت پا کر رات کو گھر آ رہے تھے تو اکبری دروازہ کے پولیس سٹیشن میں رونق دیکھ کر رک گئے کہ شاید کوئی خبر ہو، تھانے کے انچارج سلیم خان ہمارے اچھے واقف کاروں میں تھے، بلکہ ان سے ایک حد تک دوستی بھی تھی۔ براہ راست ان کے دفتر میں چلے گئے تو کمرہ بھرا ہوا تھا اور چائے مٹھائی چل رہی تھے۔ خان صاحب ہمیں دیکھ کر کچھ گڑ بڑائے لیکن تعلقات آڑے آ گئے اور انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہہ کر شریک دعوت ہونے کو کہا۔ہم شکریہ ادا کرکے بیٹھ گئے کہ گھر جا کر کھانا کھانا ہے، چند ہی لمحوں میں معلوم ہو گیا کہ یہ سب حضرات یونین کونسلوں کے چیئرمین ہیں اور تھانہ اکبری دروازہ کے دائرہ اختیار کی تمام یونین کونسلوں کے سارے اراکین بلا لئے گئے تھے اور وہ رات بھر کے لئے پولیس کے مہمان خاص تھے ان کی خاطر مدارت بھی ہو رہی تھی۔ اگلی صبح یہیں سے یہ حضرات گاڑیوں میں لاد کر متعلقہ پولیس سٹیشن گئے اور دکھا کر ایوب خان کے انتخابی نشان پر مہر لگائی اور لالٹین کو نظر انداز کیا، ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ پورے علاقے میں دو یا تین منتخب بی ڈی ممبر تھے جو تھانے نہ آئے اور اگلی صبح انہوں نے ازخود جا کر مادر ملت کو ووٹ دیا، بہرحال ایوب خان کے ساتھ ہی یہ نظام بھی رخصت ہو گیا تھا اور اب پارلیمانی جمہوری نظام ہے جو حلقہ نیابت کی بنیاد پر بالغ رائے دہی سے ہوتا ہے اور حلقہ نیابت میں جس امیدوار کو زیادہ ووٹ ملیں وہ کامیاب ہوتا ہے چاہے اس کے مد مقابل تمام امیدواروں کے ووٹ جمع کئے جائیں تو وہ جیتنے والے سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

اس لحاظ سے متناسب نمائندگی کا نظام بہتر ہے کہ اس کے تحت ووٹ جماعتوں کو ملیں گے اور ووٹوں کے تناسب سے نشستیں مل جائیں گی، لیکن اس نظام کو رائج کرتے وقت بھی بہت سے امور کو مدنظر رکھنا ہوگا، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے لئے الگ طریقہ ہوگا ورنہ مجموعی گنتی ہو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک صوبے سے ایک جماعت کو بھاری تعداد میں ووٹ ملیں اور باقی صوبوں میں اسے کم سے کم ووٹ پڑیں تو تناسب کے حساب سے اس جماعت کے رکن بن جائیں گے ، لیکن یہ نمائندگی مکمل نہیں ہوگی اس لئے اس کا سدباب کرنا ہوگا کہ صوبائی انتخابات الگ ہوں جو براہ راست مقابلہ سے ہو سکتے ہیں، اگر جماعتی بنیاد پر بھی ہوں تو صوبے کے لئے الگ رائے لی جا سکتی ہے، اس لئے بہتر طریق یہ ممکن ہے کہ ہر جماعت قومی اسمبلی کے لئے ہر صوبے کی الگ الگ ترجیحی فہرست جاری کرے اور پھر ہر صوبے سے قومی اسمبلی کے لئے الگ رائے لی جائے اور صوبے میں جتنے ووٹ ملیں ان کے تناسب سے نشستیں مل جائیں، بہرحال یہ سب آئینی طور پر ہونا ہے اور متناسب نمائندگی کے لئے آئین میں ترامیم ضروری ہیں، اس کے بغیر یہ ممکن نہیں، بہرحال ہم اپنی رائے اسی نظام کے حق میں دیتے ہیں۔

مزید :

کالم -