پرویز مشرف کیس: تاریک کنواں

پرویز مشرف کیس: تاریک کنواں
پرویز مشرف کیس: تاریک کنواں

  

پرویز مشرف کیس میں حسبِ توقع پنڈورا بکس کھلنا شروع ہو گیا ہے۔خصوصی عدالت کی طرف سے شریک ملزمان کے طور پر سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد کی نامزدگی سے اب یہ کیس ایک ایسی سمت میں جا نکلا ہے، جہاں گردوغبار کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔پہلے دن سے اس کیس پر یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ پرویز مشرف کیس 12 اکتوبر سے شروع ہونا چاہیے، جب انہوں نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا۔ایک بڑے جرم کو چھوڑکر چھوٹے جرم پر پکڑ انصاف کے بھی خلاف ہے اور منطق کے بھی۔اب اگر یہ سلسلہ شروع ہو گیا ہے تو عدالت کے سامنے ان نامزد ملزمان کے ذریعے ان گنت سوالات اٹھائے جائیں گے۔خود عبدالحمید ڈوگر کہیں گے کہ جن ججوں نے 12اکتوبر کے اقدام کو جائز قرار دیا، انہیں بھی آئین شکنی کا مرتکب قرار دے کر کٹہرے میں لایا جائے۔اُدھر شوکت عزیز بھی یہی موقف پیش کر سکتے ہیں ،یوں ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں کسی سابق ڈکٹیٹر کو قانون کے شکنجے میں لانے کی یہ پہلی کوشش اب ایک ایسا کھیل بنتی جا رہی ہے، جس سے جان چھڑانا مشکل ہوتا جائے گا۔نامزد ملزمان کی گرفتاری یا ان کی عدالت میں پیشی کا مرحلہ ہی شیطان کی آنت ثابت ہو گا، کیونکہ شوکت عزیز اور عبدالحمید ڈوگر دونوں بیرون ملک مقیم ہیں اور اس مقدمے میں صفائی دینے کے لئے کبھی از خود نہیں آئیں گے۔قانون یہ کہتا ہے کہ ایسے مقدمے میں تمام ملزمان کا ٹرائل اجتماعی ہوتا ہے، کوئی ایک ملزم بھی غیر حاضر ہو تو کیس آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سو یوں سمجھا جائے کہ فی الوقت اس مقدمے کو بریک لگ گئی ہے، مگر عدالت کی طرف سے ایک سابق چیف جسٹس اور سابق وزیراعظم کو شریک ملزم ٹھہرانے سے ایک بہت بڑے بحران کا راستہ کھل گیا ہے۔یہ معاملہ صرف فوج کا سمجھا جاتا رہا ہے، جس کے سربراہ نے منتخب حکومت کو برطرف کیا، مگر سابق چیف جسٹس کی بطور ملزم نامزدگی اور سابق وزیراعظم کی اس میں شریک ملزم کے طور پر شمولیت، اس بات کا اظہار ہے کہ اس میں تینوں اہم اداروں، یعنی فوج، عدلیہ اور پارلیمنٹ کو ایک ساتھ کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے، اگر پرویز مشرف یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں وہ اکیلے نہیں تھے تو عبدالحمید ڈوگر بھی کہہ سکتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو ریلیف دیا تھا، اکیلے چیف جسٹس نے نہیں، اس لئے دیگر ججوں کو بھی اس کیس میں نامزد کیا جائے۔اُدھر شوکت عزیز بھی بطور وزیراعظم کئے گئے فیصلے کو کابینہ کا فیصلہ قرار دے سکتے ہیں اور اس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور گورنروں کو بھی اس کیس کا فریق بنانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔اس طرح یہ گتھی تو اُلجھتی ہی چلی جائے گی اور بالآخر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس کا سرا تک ملنا مشکل ہوگا۔

پاکستان میں نظامِ انصاف بنگلہ دیش جیسا تو ہے نہیں کہ جہاں برسوں پرانے مقدمات میں عدالتیں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو سزائے موت سنا رہی ہیں۔پاکستان کا عدالتی نظام ایک آئین کے تحت چل رہا ہے اور آئین میں ہر شخص کے حقوق متعین کر دیئے گئے ہیں۔اس لئے یہ ممکن نہیں کہ عدالت، حکومت کی طرف سے جو مقدمہ بھیجا گیا ہے، اس پر آنکھیں بند کرکے فیصلہ سنا دے۔پرویز مشرف کے خلاف جب آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا تو بہت سی قباحتوں اور باریکیوں کو نظر انداز کر دیا گیا، جن کا نتیجہ اب سامنے آ رہا ہے۔ جب بہت سے فریق خود کو بچا کر ایک شخص کو پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسے قانونی خلاء رہ جاتے ہیں ، جنہیں بھرنا آسان نہیں رہتا۔پرویز مشرف پر آرٹیکل 6کا اطلاق 12اکتوبر سے ہونا چاہیے تھا، مگر اس میں چونکہ بہت سے کردار گرفت میں آتے تھے، اس لئے ان کے ایک چھوٹے’’جرم‘‘ کو بنیاد بنا کر اس آرٹیکل کو حرکت میں لایا گیا۔پھر اس بات کو نظر انداز کر دیا گیا کہ جب پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی تو وہ ایک نظام کے تحت حکومت چلا رہے تھے، جس میں پارلیمنٹ بھی موجود تھی اور وزیراعظم بھی۔سپریم کورٹ بھی کام کررہی تھی اور فوج کا ادارہ بھی فعال تھا۔اب ایسے میں صرف ایک شخص پرذمہ داری کیسے ڈالی جا سکتی ہے۔ پرویز مشرف کو تو اس صورت میں بھی تنہا نامزد نہیں کیا جا سکتا تھا، اگر ٹرائل کا آغاز 12اکتوبر 1999ء سے کیا جاتا،کیونکہ ان کے ساتھ دیگر جرنیل بھی اس ایکشن میں موجود تھے اور انہوں نے ان کی ملک میں غیر موجودگی میں تختہ الٹنے کے انتظامات کئے کہ ملزمان کو نامزد کرنے کی راہ کھلی ہے تو دیکھنا ہے کہ یہ کس طرف کو جاتی ہے اور اس میں اور کون کون نامزد ہوتا ہے؟

پرویز مشرف کیس جس راستے پر چل نکلا ہے، اب کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔البتہ یہ بات تو طے ہے کہ اب اسے واپس نہیں لیا جا سکتا اور اس نے اپنے منطقی انجام کو پہنچنا ہے۔ عدالت کیا فیصلہ دیتی ہے، اس پر تو رائے نہیں دی جا سکتی، تاہم یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ ایک فوجی آمر کو تن تنہا نشانہ بنایا جا سکے۔ یہ گویا اس بات کی گواہی ہوگی کہ ملک میں جو کچھ بھی آئین شکنی کے نام پر ہوتا رہا، اس میں مملکت کے تمام ادارے کسی نہ کسی شکل میں شریک جرم رہے۔ایک سابق چیف جسٹس کی نامزدگی نے عدلیہ کو کلین چٹ دینے کا راستہ بندکر دیا ہے۔ملک کا کوئی مارشل لاء عدلیہ کی چھتری کے بغیر پروان نہیں چڑھا۔کیا مکافاتِ عمل ہے کہ آج ایک سابق چیف جسٹس کو عدلیہ کی جانب سے ہی شریک ملزم قرار دیا گیا ہے۔ عبدالحمید ڈوگر نے اپنے دور کے ججوں کی مخالفت مول لے کر چیف جسٹس کا عہدہ قبول کیا تھا اور ججوں کے خلاف بھی فیصلے دیئے تھے، اس لئے یہ توقع رکھنا بعید از قیاس نہیں ہوگا کہ عبدالحمید ڈوگر 12 اکتوبر 1999ء کے مارشل لاء کو جائز قرار دینے والے سابق اور موجودہ ججوں کو بھی ملزم نامزد کرانے کی کوشش کریں گے۔کہتے ہیں کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔پرویز مشرف کیس بھی اب اس فضا میں داخل ہو گیا ہے،جہاں ہر کوئی خود کو بچانے کے لئے دوسروں کو ملوث کرنے کی کوشش کرے گا۔اس کی ابتداء پرویز مشرف نے کر دی ہے ،اب انتہا نجانے کہاں ہوتی ہے۔

میری رائے میں یہ گڑے مُردے اکھاڑنے کا عمل ابتداء ہی میں ختم کر دیا جانا چاہیے تھا۔ماضی قریب میں کئی مواقع ایسے آئے ،جب اس کیس کو وائنڈ اپ کرنا آسان تھا، مگر جمہوریت پسندی کے زعم اور مخالفین کی تنقید نے ایسا ہونے نہ دیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ حکومت کے خلاف جتنی تحریکیں اور دھرنے جاری ہیں، ان کی وجہ پرویز مشرف کا ٹرائل ہے، آج یہ ٹرائل ختم کر دیا جائے، کل ملک میں امن و سکون ہو جائے گا۔ میرے نزدیک یہ ایک سیاسی بیان تھا، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پہلے دن سے مقتدر حلقے جانتے ہیں کہ پرویز مشرف کیس میں کچھ نہیں رہا۔اسے ثابت کرنا بھوسے میں سے سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔اب یہ کیس شخصیات سے نکل کر اداروں کے درمیان تصادم کی طرف بڑھے گا اورمختلف اداروں کے داخلی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دے گا، مگر آخر میں ہاتھ پھر بھی کچھ نہیں آئے گا۔ کاش کوئی اب بھی سوچے کہ اس دلدل سے کیسے نکلنا ہے اور اس کنویں کو کیسے بند کرنا ہے جو اب بہت سوں کو نگلنے کے لئے منہ کھولے کھڑا ہے۔

مزید :

کالم -