اقوام متحدہ میں روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کیلئے قرار داد منظور

اقوام متحدہ میں روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کیلئے قرار داد منظور

  

                                                                                                                        نیویارک(آن لائن)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے ایک قرار داد منظور کر لی ہے جس میں میانمار پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں روہنگیا مسلمان اقلیت کو ’مساوی بنیادوں پر مکمل شہریت تک رسائی‘ دے۔جنرل اسمبلی کی اس کمیٹی نے یہ قرار داد گزشتہ روز اتفاق رائے سے منظور کی۔ تاہم اقوام متحدہ میں میانمار کے سفیر نے قرارداد میں استعمال کی گئی زبان پر تنقید کی۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق میانمار کے ایک اعشاریہ تین ملین روہنگیا مسلمانوں کو شہریت حاصل نہیں ہے اور یوں انہیں تقریبا کسی بھی طرح کے حقوق حاصل نہیں۔ حکام انہیں باقاعدہ طور پر ’بنگالی‘ قرار دیتے ہوئے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کے غیرقانونی تارکین وطن ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اس شناخت سے انکار کرنے والوں کو قید یا ممکنہ طور پر ملک بدری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔میانمار کے صوبے راکھین میں 2012ء میں راکھین بدھوں اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان فسادات پھ±وٹ پڑے تھے۔ اس کے نتیجے میں کم از کم دو سو افراد ہلاک اور ایک لاکھ چالیس ہزار بے گھر ہو گئے تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق روہنگیا کمیونٹی سے تھا۔ابھی گذشتہ ماہ ہی امریکی صدر باراک اوباما نے بھی میانمار کے حکام پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ہاں نسلی کشیدگی پر قابو پانے کے لیے اضافی اقدامات کریں۔ انہوں نے مسلمان روہنگیا اقلیت کے شہری اور سیاسی حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا تھا۔گزشتہ دنوں صدر اوباما نے میانمار کی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ راکھین صوبے میں کشیدگی اور انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے اضافی کوششیں کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے شہری اور سیاسی حقوق کی حمایت کے لیے بھی اقدامات کیے جانے چاہییں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی کی جانب سے منظور کی گئی قرار داد میں میانمار کی حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمام نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف زیادتیوں کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔ اس کے ساتھ ہی باقی ماندہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ نے میانمار کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ برس شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھے۔یہ قرار داد ایک ایسے وقت منظور کی گئی ہے جب ابھی چند ہی روز قبل میانمار کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا تھا کہ آئندہ عام انتخابات کے انعقاد سے پہلے آئین تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ رائٹرز کے مطابق اس اعلان سے نوبل امن انعام یافتہ اپوزیشن رہنما آنگ سان سوچی کے صدر بننے اور سیاست پر فوج کی گرفت کمزور پڑنے کے امکانات معدوم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -