داعش ! پس منظر و پیش منظراور پاکستان (2)

داعش ! پس منظر و پیش منظراور پاکستان (2)
داعش ! پس منظر و پیش منظراور پاکستان (2)

  

اپنی ان کامیابیوں کے بعد داعش نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر دولت اسلامیہ(Islamic State) یا ISقائم کرنے کو اپنا مطمع نظربنا لیا اور اُس کا اعلان کر دیا ۔ داعش کے رہنماؤں کے مطابق مجوزہ ’’دولت اسلامیہ‘‘ ایک عالمگیر اسلامی ریاست ہو گی جو اُن تمام ممالک یا علاقوں پر مشتمل ہوگی، جہاں کبھی بھی مسلمانوں کی حکمرانی رہی ہے ۔ داعش کی طرف سے جاری کردہ نقشہ کے مطابق اس اسلامی ریاست میں پورا جنوبی ایشیاء ، پورا مشرق وسطیٰ ، پورا مڈل ایسٹ ، مصر، لیبیا، مراکش، الجزائر، نائیجیریا ، تیونس، سوڈان ، حبشہ اور سپین ، پورا جنوبی یورپ اور پورا مشرقی اور مغربی تُرکستان شامل ہیں۔ داعش نے مجوزہ دولت اسلامیہ کی حد بندی کر کے اسے بارہ صوبوں میں تقسیم کر رکھا ہے ۔پاکستان، ہندوستان ، بنگلہ دیش، افغانستان ، ایران ، مشرقی اور مغربی ترکستان اور تمام وسط ایشائی ریاستوں کو صوبہ خراسان ، مصر اور حبشہ کوانہی ناموں سے الگ الگ صوبہ، جبکہ شمالی افریقہ کے باقی تما م ممالک کو صوبہ مغرب ، سپین کوصوبہ اُندلس ، پورے مڈل ایسٹ کو یمن ، حجاز، عراق ، شام ، کردستان کے نام سے الگ الگ صوبہ جبکہ مشرقی یورپ کی تمام بلقانی ریاستوں کو دو الگ الگ صوبے بنا دیا گیا ہے ۔ داعش نے آئندہ پانچ سال میں یہ خلافت یا ریاست قائم کرنے کاہدف متعین کر رکھا ہے ۔ عراق اور شام پر مکمل فتح حاصل کر لینے کے بعد داعش کے جنگجو باقی ممالک کی طرف متوجہ ہوں گے،بلکہ اُنہوں نے اس سمت میں کام شروع بھی کر دیا ہے ۔ اُنہوں نے لبنان اور اسرائیل کی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی ہے ۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ مختلف جگہوں سے داعش کی پسپائی بھی شروع ہو چکی ہے ۔

داعش کا طرز حکمرانی اور طریقہ جنگ انتہائی بہیمانہ ہے ۔ اپنے ساتھ اتفاق نہ رکھنے والوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کرتے ہیں اور اکثر درجنوں اور سینکڑوں لوگوں کو جس میں بچے بوڑھے اور عورتیں شامل ہوتی ہیں اجتماعی طور پر موت کی گھاٹ اُتار دیتے ہیں۔ یزیدی فرقے کے سینکڑوں لوگوں کو مرتد قرار دے کر بے دردی سے قتل کرچکے ہیں،حالانکہ وہ زمانہ قدیم سے ایک الگ مذہب ہے، وہ کبھی دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے اور نہ ہی وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ اس وقت ہزاروں یزیدی عراق اور شام کی سرحدی پہاڑیوں پربے یارومددگارانتہائی برے حال میں پناہ لئے بیٹھے ہیں ۔ کُرد جنہوں نے شمال مشرقی عراق میں اپنی ایک نیم خود مختار حکومت قائم کر رکھی ہے، جب داعش کی پیش قدمی کی مزاحمت کی تو قابو آجانے والے کردوں کو جنگی قیدی بنانے کی بجائے اُن کی گردنیں اُڑا دی گئیں ۔ بے شمار غیر ملکی صحافیوں اور امدادی کارکنوں اور رضاکاروں کو بھی قابو آنے پر اُن کی گردنیں اُڑا دی گئیں ۔سفاکی کی انتہا یہ ہے کہ اجتماعی قتل اور گردنیں اُڑانے کی فلمیں بنا کر میڈیا پر جاری کر دی جاتی ہیں،جنہیں کوئی کمزور دل انسان دیکھ ہی نہیں سکتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کٹّر سُنی ہونے کا دعویٰ رکھنے کے باوجود اور ایک عالمگیر سُنی ریاست قائم کرنے کا ہدف متعین کر کے چلنے والوں نے حضرت شیث ؑ ،حضرت شعیب ؑ ،حضرت یونس ؑ ،حضرت اویس قرنیؓ، حضرت زینب بنت علیؓ ، حضرت خالد بن ولیدؓ جیسی ہستیوں کے مزارات کو بموں سے اُڑا دیا، جبکہ سُنی تو ایسی ہستیوں اور اُن کے مزارات کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ عراق و شام اور اُس کے اردگر د کی تمام مسلم حکومتیں،خواہ وہ شیعہ ہیں یاسُنی، ان سے متنفر اور اُن کے خلاف صف آرا ہوگئی ہیں۔اُن کی مجوزہ دولت اسلامیہ کے تصور اور اُس کے نقشہ نے باقی تمام مسلم ریاستوں کو بھی اُن کے بارے میں متفکر کر دیا ہے ۔

داعش کی باز گشت اب پاکستان میں بھی سنائی دینے لگی ہے ۔ اگر چہ اس کے بارے میں پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کا بیان سردست یہی ہے کہ بطور تنظیم داعش کی پاکستان کے کسی علاقے میں موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی ، پاک فوج کا کہنا بھی کچھ اسی طرح ہے اور پنجاب پولیس کے افسران بھی یہی کہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کا یہ بیان بھی اخبار ات کی زینت بن چکا ہے کہ داعش کے 500 جنگجو پاکستان میں داخل ہوچکے ہیں ۔کالعدم تحریک طالبان کے کئی ذیلی گروپوں نے داعش کی حمایت اور اُس کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کا اعلان کر دیا ہے ۔ کراچی ، لاہور، ملتان ، بہاولپوروغیرہ میں دیواروں پر داعش کے حق میں چاکنگ بھی دیکھی گئی ہے اور کہیں کہیں داعش کے جھنڈے بھی دکھائی دیئے ہیں ،جس کے ذمہ داروں کی کھوج براری جاری ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین نے تو بڑے واضح الفاظ میں پاکستان کو داعش کے خطرے سے آگاہ کر دیاہے ۔ ان کی بات کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ بظاہرتو یہی لگتا ہے کہ سردست پاکستان میں داعش کاکوئی تنظیمی ڈھانچہ قائم نہیں ہوا ،اور نہ ہی یہاں اُس کی اپنے نام سے کوئی سرگرمی دیکھنے میں آئی ہے ،لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ ضروری نہیں کہ داعش کے عراقی جنگجو ہی پاکستان آکر اپنی تنظیم کاڈھانچہ کھڑا کریں اور اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں ۔کسی بھی تنظیم کے ہم خیال لو گ کسی بھی جگہ اکٹھے ہو کرخود ہی اپنے آپ کو اُس تنظیم کا حصہ بنا لیتے ہیں ، اپنے میں سے ہی اپنا کوئی سربراہ مقرر کرلیتے ہیں اور تنظیم کے ایجنڈے پر کام شروع کردیتے ہیں ۔مرکزی تنظیم سے رابطے اور تعلقات بعد میں اپنی کارکردگی اور وفاداری کی بنیاد پر اُستوار ہو جاتے ہیں ۔ پاکستا ن میں تحریک طالبان اور کئی دوسرے جہادی گروہ جن کی مرکزیت اور طاقت ضرب عضب کے بعد بکھر گئی ہے، کسی اور طاقتور گروہ کے جھنڈے تلے دوبارہ سے اکٹھے ہونے کے لئے بے چین ہیں ۔ ایک عالمگیر اسلامی خلافت (جو ممکن ہے یا نہیں ،یہ الگ بات ہے)کا تصور ایسے جنگجوؤں کے لئے اُن تمام تصورات اور قیادتوں سے کہیں زیادہ دلکش اور ولولہ انگیز ہے جن سے وہ اب تک وابستہ رہے ہیں ۔آج ہی کے روزنامہ’’ پاکستا ن‘‘ میں یہ خبر چھپی ہے کہ لاہور میں دیواروں وغیرہ پر سٹیکرز اور اشتہارات لگانے اور چاکنگ کرنے والے کچھ افراد کو پولیس نے ڈھونڈ نکالا ہے، جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ اُنہوں نے یہ کام ایک کالعدم تنظیم کی طرف سے بھاری معاوضے کے عوض کیا ہے۔ ان حالات میں حکومت پاکستا ن اور اُس کے سیکیورٹی اداروں کو داعش کے خطرے کو کسی طرح بھی نظر اندازیا آسان نہیں لینا چاہئے۔

اس ضمن میں پاکستان کے چیف اف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا یہ پالیسی اعلان کہ’’پاکستان اور افغانستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے‘‘ نہایت اہم اور خوش آئند ہے ۔ اُنہوں نے پاکستانیوں کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے اور طریق�ۂعلاج کا بھی کُھلا اشارہ دے دیا ہے ۔ بحیثیت سپہ سالار اعلیٰ پاکستان اُنہیں حالات و واقعات اوردرپیش خطرات کا ادراک ہم سب سے زیادہ ہے ۔ اُن کا عزم اور ارادہ تشویش میں مبتلا پاکستانی قوم کے لئے بے حد حوصلہ افزاء ہے ۔ (ختم شد)

مزید :

کالم -