تیونس‘ پہلے آزادانہ انتخابات کے لیے مہم میں تیزی آگئی

تیونس‘ پہلے آزادانہ انتخابات کے لیے مہم میں تیزی آگئی

  

تیونس(آن لائن)تیونس میں پہلے آزادانہ انتخابات کے لیے مہم میں تیزی آگئی ہے اور یہ صدارتی انتخاب اب دو سرکردہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ بنتا جارہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق تیونس میں صدارتی انتخابات کے لیے اتوار کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں اور ان میں بیس سے زیادہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے لیکن اصل مقابلہ اکتوبر میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں برتری حاصل کرنے والی سیکولر جماعت ندا تیونس کے بزرگ رہ نما الباجی قائد السبسی اور موجودہ صدر منصف مرزوقی کے درمیان ہے۔تیونس میں عرب بہاریہ انقلاب کے کوئی چار سال کے بعد نئے صدر کا انتخاب آیندہ پانچ سال کے لیے کیا جائے گا لیکن اگر پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار مطلوبہ پچاس فی صد ووٹ نہ لے سکا تو پھر 28 دسمبر کو پہلے اور دوسرے نمبر پر رہنے والے امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوگا۔رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق اٹھاسی سالہ الباجی قائد السبسی کو بتیس فی صد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔وہ ملک کا روشن خیال تشخص برقرار رکھنے اور معاشرے کو عرب بہاریہ انقلاب کے منفی پہلوو¿ں سے بچانے کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں تعلیمی ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کا تسلسل برقرار رکھیں گے۔واضح رہے کہ تیونس کی بڑی مذہبی سیاسی جماعت النہضہ نے اپنا کوئی صدارتی امیدوار میدان میں نہیں اتارا ہے اور نہ اس نے کسی امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے ملک میں سیاسی انتشار اور تقسیم کو گہرا ہونے سے بچانے کے لیے کسی صدارتی امیدوار کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -