سیزن کے دوران کینو کی برآمدات 2لاکھ 50ہزار ٹن تک بڑھنے کی توقع

سیزن کے دوران کینو کی برآمدات 2لاکھ 50ہزار ٹن تک بڑھنے کی توقع

  

اسلام آباد (اے پی پی) رواں سال دسمبر 2014ءمیں شروع ہونے والے کینو کے برآمدی سیزن کے دوران کینو کی ملکی برآمدات 2لاکھ 50ہزار ٹن تک بڑھنے کی توقع ہے ۔ ہارویسٹ ٹریڈنگ کے ڈائریکٹر احمد جواد نے ہفتہ کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کینو کے کاشتکاروں کو مناسب معاوضہ نہیں دیاجاتا اور وہ برآمد کنندگان کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں جبکہ کینو کی پیداواری اخراجات ، خصوصاً کھادوں اور جراثیم کش ادویات کی قیمتیں زور بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے بھی ان کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ جسکی وجہ سے پیداواری اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال برآمد کنند گان نے کاشتکاروں کیلئے 700روپے فی من کی قیمت مقرر کی تھی لیکن کاشتکاروں سے زیادہ تر کینو 500روپے فی چالیس کلو گرام کی قیمت پر خریدا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے تر شاوہ پھلوں کی سالانہ برآمدات کا حجم تقریباً 20لاکھ ٹن ہے جن میں سے زیادہ تر حصہ کینو کا ہے ۔ کینو پنجاب میں بہترین زرعی زمینوں پر پیدا کیا جاتا ہے لیکن حکومت کی طرف سے اس قیمتی پھل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ۔ احمد جواد نے کہا کہ رواں سال کینو کی شاندار فصل متوقع ہے لیکن کاشتکاروں کو اس کی مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے آئندہ سال اس کی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ دیگر برآمدات کی طرح کینو کی برآمدات کے فروغ اور کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں تاکہ کینو کی برآمدات کو بڑھا کر قیمتی زرمبادلہ کما کر ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے ۔ جس سے دیہی معیشت اور کینو کی پیداوار کے علاقوں میں بھی خوشگوار اثرات مرتب ہونگے۔

مزید :

کامرس -