جنرل ہسپتال میں ذیابیطس کے عالمی دن پر واک،ڈاکٹروں،نرسوں اور طلبہ کی شرکت

جنرل ہسپتال میں ذیابیطس کے عالمی دن پر واک،ڈاکٹروں،نرسوں اور طلبہ کی شرکت

  

لاہور(پ ر)ذیابیطس امہ المراض ہے جو خاموشی سے انسانی جسم کو گھن کی طرح کھاتا ہے ذیابیطس کی بروقت تشخیص سے بہت سی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے عوام میں آگاہی پیدا کر کے اس بیماری کے مضمرات کو روکا جاسکتا ہے ان خیالات کا اظہار ذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر لاہور جنرل ہسپتال میں واک کے موقع پر گفتگو اور بعدازاں سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کیا کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر محمود علی ملک‘ پروفیسر محمد اسلم،پروفیسر غیاث النبی طیب ، پروفیسر اصغر نقی، ایم ایس ڈاکٹر جنید مرزا، شوگر سپیشلسٹ ڈاکٹر عمران حسن ، پرنسپل نرسنگ سکول رئیسہ اشتیاق کے علاوہ فیکلٹی ممبران، ڈاکٹروں، نرسوں، نرسنگ طالبات اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اس موقع پر فری میڈیکل کیمپ لگایا گیا جس میں سینکڑوں مریضوں کے مفت ٹیسٹ کئے گئے جبکہ اس مرض کے حوالے سے عوام میں آگاہی واک کرنے کےلئے نرسوں و نرسنگ طالبات نے کتبے اور بینرز اٹھارکھے تھے جس پر حفاظتی تدابیر درج تھیںطبی ماہرین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں جس میں سے چار سے پانچ فیصد مریضوں کے ہر سال جسمانی اجزاءکاٹنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کے مضمرات سے بچاﺅکیلئے عوام میں آگاہی اور واک انتہائی ضروری ہے طبی ماہرین نے کہا کہ شوگر ایک خاموش اور انتہائی خطرناک مرض ہے جس کا مریض کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب وہ اس کے جسم کے اجزاءکو متاثر کرچکی ہوتی ہے بروقت تشخیص سے ہی اس مرض کے نقصانات سے جسم کے باقی ماندہ اجزاءکو بچایا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ ایسے والدین جن کے بچے وزن کی زیادتی کا شکار ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے ٹی وی دیکھنے اور کمپیوٹر پر بیٹھنے کے اوقات کے علاوہ ان کی غذائی عادات کا بغور جائزہ لیں۔ بچوں کو زیادہ کمپیوٹر اور ٹی وی کے سامنے نہ بیٹھنے دیں۔ بچوں میں ذیابیطس کی علامات یعنی پیشاب کی زیادتی‘ پیاس کا زیادہ لگنا‘ وزن کی زیادتی محسوس کریں توفورا ً مستندمعالج سے رجوع کریں۔طبی ماہرین کے مطابق ذیابیطس سے محفوظ رہنے کا واحد طریقہ جسمانی سرگرمیاں یعنی باقاعدہ ورزش اور سادہ غذا کا استعمال ہے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -