گیس کے نرخ نہ بڑھانے کا فیصلہ، لیکن بجلی مہنگی ہو گی

گیس کے نرخ نہ بڑھانے کا فیصلہ، لیکن بجلی مہنگی ہو گی

  

وزیراعظم محمد نواز شریف نے قدرتی گیس مہنگی کرنے کے لئے بھیجی گئی سمری مسترد کر دی اور اس کے مقابلے میں کسانوں کو ٹیوب ویل کے لئے مہیا کی جانے والی بجلی میں رعایت دے دی، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ یوں اوگرا کی طرف سے عوام پر بوجھ بڑھانے کی یہ کوشش ناکام ہو گئی اور زراعت کے شعبے کو ملنے والی رعایت سے کسان مستفید ہوں گے تو زرعی ترقی بھی ہو گی۔ اوگرا نے گیس کی قیمت میں بلا لحاظ صنعت و گھر30فیصد اضافہ تجویز کیا تھا، وزیراعظم نے یہ فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں گیس مہنگی کرنے کی سمری پیش ہوئی تو وزیراعظم نے فوری طور پر اسے نامنظور کر دیا کہ صارفین پر بوجھ منتقل نہیں کیا جا سکتا، اس کے ساتھ ہی کسانوں کو ٹیوب ویل کے لئے بجلی اب10روپے35پیسے فی یونٹ کے حساب سے دی جائے گی تاہم مصروفیت کے اوقات سردیوں میں شام6بجے سے رات10بجے اور گرمیوں میں شام5بجے سے رات11بجے تک ٹیوب ویل کے لئے بجلی استعمال نہیں ہو گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی میں یہ دونوں فیصلے بڑے اہم ہیں کہ مختلف محکموں میں بیٹھے افسر اپنی اپنی نوکری پکی کرنے کا نسخہ یہی سمجھتے ہیں کہ آمدنی بڑھانے کے لئے ایسے اقدامات کئے جائیں، شہری جو پہلے ہی پریشان ہیں انہوں نے اس سلسلے میں تو سُکھ کا سانس لیا اور کسان خوش ہوئے ہوں گے یہ اقدامات قابل تعریف ہیں۔

ابھی وزیراعظم کے ان اقدامات کی بریفنگ کی آواز بھی مدھم نہیں ہوئی ہو گی کہ ایک دوسرے محکمے نے اپنی کمزوری اور نااہلی کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا اور بجلی کی قیمت میں 36پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے،جو پہلے ہی بہت مہنگی ہے، اس پر بھی بجلی کے تمام صارف یکساں طور پر متاثر ہوں گے، اس اضافے کو سروسز ڈیبٹ چارجز کہا گیا۔خبر کے مطابق نومبر کے بلوں میں اضافہ شامل کیا جائے گا، جس کے لئے بل میں الگ خانہ بنایا گیا ہے۔ یہ چارجز لائن لاسز اور بجلی کے ڈیفالٹرز سے رقوم کی وصولی نہ ہونے سے ہونے والے نقصان کی تلافی کے لئے وصول کئے جا رہے ہیں۔ یوں محکموں کی اپنی غلطیوں کی سزا وہ صارف بھگتیں گے، جو دیانت داری سے بل ادا کرتے ہیں۔ شاید اب اس سلسلے میں بھی خود وزیراعظم کو ہی مداخلت کرنا پڑے گی کہ وزیر پانی اور بجلی خواجہ آصف تو خاموش ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو پریشان کرنے کے یہ طریقے کون اور کیوں اختیار کر رہا ہے۔ حکومت الزام لگاتی ہے کہ دھرنوں سے معیشت کا پہیہ رکتا ہے، لیکن یہ جو لوگ بلوں کا عوام پر بوجھ منتقل کرتے ہیں یہ دھرنے والوں کے ایجنٹ تو نہیں؟

مزید :

اداریہ -