وزیراعظم نواز شریف کو امریکی صدر اوباما کا فون

وزیراعظم نواز شریف کو امریکی صدر اوباما کا فون

  

امریکہ کے صدر اوباما نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو فون کر کے اپنے مجوزہ دورۂ بھارت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے اور پاکستانی وزیراعظم کو آگاہ کیا ہے کہ وہ بھارتی قیادت سے مسئلہ کشمیر پر بات کریں گے۔ امریکی صدر بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں بھی شریک ہوں گے، جو ہر سال26جنوری کو ہوتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ پاکستان کا دورہ بھی کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس سے پہلے حالات کا ساز گار ہونا ضروری ہے، ملک کے حالات میں استحکام اور بہتری آتے ہی وہ پاکستان کا دورہ کرنا چاہیں گے۔ صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ دونوں ملکوں (پاکستان اور بھارت) کے درمیان پُرامن تعلقات کے فروغ کا بھی خواہش مند ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ایک قدم آگے بڑھانا چاہتے ہیں، وزیراعظم نواز شریف نے بھی صدر اوباما سے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت سے اٹھائیں، دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

صدر اوباما کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر بل کلنٹن نے جب بھارت کا دورہ کیا تھا تو اس وقت پاکستان میں جنرل پرویز مشرف برسر اقتدار تھے۔ صدر کلنٹن کے شیڈول میں پاکستان کا دورہ شامل نہیں تھا، پاکستانی دفتر خارجہ کی کوششوں سے وہ چند گھنٹے کے لئے پاکستان ضرور آ گئے، لیکن انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ کھلے عام مصافحہ تک نہ کیا اور ٹیلی ویژن پر پاکستانی قوم سے خطاب کیا۔کلنٹن پہلی بار صدر بننے کے بعد بھارت کے دورے پر آنا چاہتے تھے، لیکن یہ دورہ اس وقت ممکن ہو سکا، جب اُن کا دوسرا دور بھی قریب الاختتام تھا۔ ایک زمانہ تھا جب بڑا ملک ہونے کے باوجود امریکہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح نہیں دیتا تھا، لیکن اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہی کہا جائے گا کہ بالآخر امریکہ نے پاکستان کو دوسرے نمبر پر رکھنا شروع کر دیا اور بھارت کو ترجیح دینا شروع کر دی، حالانکہ اس خطے میں بھارت نے ہمیشہ سوویت بلاک کی سیاست کی۔ منموہن سنگھ اور صدر بش کے دور میں بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نیا دور اس وقت آیا جب امریکہ نے بھات کو سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی دینے کا اعلان کیا اور اس ضمن میں پاکستانی مطالبے پر دھیان نہ دیا۔گجرات کے مسلم کش فسادات میں بھارتی وزیراعظم (اس وقت وزیراعلیٰ گجرات) نریندر مودی کے کردار کی وجہ سے انہیں امریکہ کا ویزہ بھی نہ دیا گیا، لیکن اب جب مودی وزیراعظم بن گئے ہیں، تو نہ صرف حال ہی میں انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا، بلکہ اب جواب میں امریکی صدر بھی بھارت کا دورہ کر رہے ہیں اور انہوں نے پاکستان کا دورہ فی الحال پاکستان کے حالات میں استحکام آنے تک ملتوی کر دیا ہے۔

جہاں تک پاکستان کے حالات کا تعلق ہے یہ ایک لحاظ سے امریکہ کی ہی دین ہے اور اُس وقت سے بگڑنا شروع ہوئے، جب نائن الیون کے بعد پاکستان کے صدر نے امریکی وزیر خارجہ کی ایک ہی کال پر امریکہ کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے، بلکہ وہ مطالبات بھی مان لئے، جن کے بارے میں امریکہ کو خود یقین نہیں تھا کہ پاکستان ان مطالبات کو مان سکتا ہے، لیکن پاکستان کے کمانڈو صدر جو ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر برسر اقتدار آئے تھے ایک ہی فون کال پر لم لیٹ ہو گئے، اس جنگ میں شمولیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ دہشت گردوں نے پاکستان کو براہ راست نشانہ بنانا شروع کر دیا۔امریکہ تو بہت دور تھا، نائن الیون کے بعد امریکہ پر کوئی دوسرا قابل ذکر حملہ نہیں ہوا، لیکن امریکہ کا حلیف پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر آ گیا اور انہوں نے پاکستانی فوجیوں، فوجی تنصیبات، بازاروں، مارکیٹوں، سکولوں، کالجوں، مساجد غرض ہر اُس مقام کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، جو اُن کی زد میں آیا۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں دنیا کے ہر ملک سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا۔ پاکستان کے قابلِ فخر فوجی افسر اور جوان نشانہ بنے۔ مجموعی طور پر50 ہزار قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور ملکی معیشت کو100ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ امریکہ پر ایک حملہ ہوا اس کے بعد اس نے ایسے انتظامات کر لئے کہ دوسرا حملہ ممکن نہ ہوا۔ برطانیہ ، سپین وغیرہ میں دہشت گردی کی چند وارداتیں ہوئیں، بعد میں انہوں نے بھی اس پر قابو پا لیا۔ بدقسمتی سے پاکستان ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک دہشت گردوں کا نشانہ بن رہا ہے، اب بھی جب دہشت گرد پاک افواج کے نشانے پر ہیں، دہشت گردی کی اِکا دُکا وارداتیں ہو جاتی ہیں، ابھی نومبر کے مہینے میں پاک بھارت سرحد پر دہشت گردی کی بڑی واردات ہوئی ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو پاکستان امریکہ کا ساتھ دینے کے بدلے میں ادا کر رہا ہے، لیکن اس سلسلے میں امریکی کردار واضح نہیں۔ کبھی وہ پاکستانی قربانیوں کی تعریف کر دیتا ہے اور کبھی الزام تراشیوں پر اُتر آتا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے دورۂ امریکہ کے دوران واضح کیا کہ جب پاک افواج شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بھارت مغربی سرحدوں پر پاکستان کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہا ہے۔کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، جس کی وجہ سے دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا صدر اوباما اپنے دورۂ بھارت کے دوران بھارت کو خطے میں امن و امان کے لئے اس کا کردار یاد دلائیں گے یا اس معاملے پر سرسری سی گفتگو کریں گے۔ بھارتی قیادت چاہے گی کہ صدر اوباما کو بھول بھلیوں میں الجھا کر چند دن نکال لے اور امریکہ کو کوئی ٹھوس یقین دہانی نہ کرانی پڑے، بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے، اس مسئلے کی وجہ سے یہ خطہ ایٹمی فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستان نے امریکہ سمیت دنیا کو مسئلہ کشمیر کے ضمن میں اس کی ذمہ داریاں یاد دلائی تھیں، لیکن امریکہ سمیت کوئی ملک پاک بھارت ثالثی کے لئے تیار نہیں ہوتا، وجہ یہ ہے کہ بھارت اس ضمن میں کسی طاقت کا کردار پسند نہیں کرتا، ایسی صورت میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اگر صدر اوباما بھارتی وزیراعظم سے مسئلہ کشمیر پر کوئی بات چیت کریں گے، تو اس کی شکل کیا ہو گی اور وہ کتنی نتیجہ خیز ہو گی۔ اگرچہ امریکہ کی یہ پرانی خواہش ہے کہ دونوں ملک مسئلہ کشمیر کو پس منظر میں رکھ کر تعلقات ٹھیک کر لیں۔ اس مقصد کے لئے امریکیوں نے بڑی کوششیں بھی کی ہیں، لیکن یہ ممکن نہیں ہو سکا اور نہ ہی دونوں ملکوں میں جامع مذاکرات کی گاڑی آگے چل سکی ہے۔ اب بھی یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور اس کا نتیجہ ہے کہ نیپال میں سارک سربراہ کانفرنس میں دونوں ملکوں کے سربراہانِ حکومت کے درمیان کسی ملاقات کا ہی امکان نظر نہیں آتا، دونوں وزرائے اعظم میں نمائشی سا مصافحہ بھی ہو جائے تو بھی غنیمت ہے۔ اس ماحول میں نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ کی یہ خواہش کیسے پوری ہو گی کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہو جائیں۔ یہ خواہش تو اچھی ہے، لیکن محض خواہشات سے کچھ نہیں ہوتا، اس کے لئے ٹھوس نتیجہ خیز کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

صدر اوباما کے دورۂ بھارت کا جو نتیجہ بھی نکلے یہ امر تو واضح ہے کہ امریکہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا، اسے اس معاملے میں بھارت کی جانب دیکھنا ہوتا ہے، جو کشمیریوں کو ان کا حقِ خود ارادیت دینے میں مخلص نہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان اور کشمیریوں کو اپنی ہی قوتِ بازو پر بھروسہ کرنا ہو گا اور دنیا کو اپنے نقطہ نظر کا قائل کرنے کے لئے نئے سرے سے سفارتی کوششیں کرنا ہوں گی، امریکہ تو خطے میں بھارتی بالادستی کے تصور کو ہی آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکتا ہے اور افغانستان میں ایسا کر بھی رہا ہے۔

مزید :

اداریہ -