خود کر مردہ ظاہر کرکے روپوش ہونیوالا نوجوان نشئی اور محلہ دار کامقروض نکلا

خود کر مردہ ظاہر کرکے روپوش ہونیوالا نوجوان نشئی اور محلہ دار کامقروض نکلا

  

 لاہور (ملک خیام رفیق) کہاجاتا ہے کہ پنجاب کی پولیس مُردوں کوبھی بولنے پر مجبوکردیتی ہے اورگرین ٹاؤن پولیس نے واقعی ایک ایسے ’’مُردے‘‘ کو بولنے پر مجبور کر دیا جس کی’’ لاش‘‘ کوخود اس کے گھروالوں نے بھی شناخت کرلیاتھا۔خود کو مردہ ظاہر کرکے روپوش ہو نے والا سفیان ایک محلے دار کا مقروض نکلا،اس نے قسطوں پر رکشہ خرید کر بیچ ڈالا تھا ۔ تفصیلا ت کے مطابق گرین ٹاؤن کا رہائشی نوجوان سفیان 3 ماہ قبل اچانک گھر سے غائب ہوگیا جس پر گھر والوں نے اسکی تلاش شروع کردی لیکن اسکا کوئی سراغ نہ ملا جس کے بعد لواحقین نے سفیان کے اغوا کے سلسلہ میں 16 اکتوبر کو تھانہ گرین ٹاؤن میں چار محلے دار افراد کے خلاف اغواء کا نامزد مقدمہ درج کروادیا ۔چند روز کے بعد کوٹ لکھپت کے علاقہ سے ایک نوجوان کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی ۔سفیان کے گھروالوں نے مردہ خانہ میں جاکر پولیس کو بیان دیا کہ یہ لاش سفیان کی ہے جس کے بعد پولیس نے اغوا ء کا مقدمہ قتل میں تبدیل کرکے دو ملزموں کو گرفتارکرکے جیل بھجوادیا ۔پولیس نے مخبری پر چونیاں شہر میں جاکر سفیان کی تلاش شروع کردی اور اسے رکشا چلاتے ہوئے گرفتار کرکے لاہور لے آئے ۔اس سلسلہ میں تفتیشی افسر شرجیل بٹ نے بتایا کہ سفیان نشہ کا عادی ہے اسکے مالک مکان نے کچھ عرصہ قبل ایک رکشا ضمانت پر لیکر سفیان کو دیدیا لیکن سفیان نے رکشا فروخت کرکے رقم ہڑپ کرلی تھی، مالک مکان سفیان کو رکشا واپس دینے کا مطالبہ کرتا تھا جسکی وجہ سے سفیان اور اسکے گھر والے بھی پریشان تھے۔ اسی وجہ سے سفیان گھر سے غائب ہوگیا اور گھر والوں نے اپنی جان چھڑوانے کیلئے مرنے والے کسی نشئی کو جعلی شناخت کرکے کہا کہ یہ لاش سفیان کی ہے ۔مقدمہ قتل خارج کر کے ملزمان کو جیل سے رہا کر وایا جا ئے گا سفیان اور اس کے گھر والوں کے خلاف بھی قانو نی کا روائی کی جا ئے گی کیونکہ سفیان مختلف شہروں میں رکشہ چلاتا تھا اور اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں رہتا تھاجس کا اس کے گھر والوں کو علم تھا۔

مزید :

علاقائی -