شوکت عزیز جیسی سمجھداری کی ضرورت ہے

شوکت عزیز جیسی سمجھداری کی ضرورت ہے
شوکت عزیز جیسی سمجھداری کی ضرورت ہے

  

سب کہتے ہیں شوکت عزیز بہت سمجھدار انسان ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاسی اننگ بھی بہت خوبصورتی کیساتھ کھیلی اور پھر ریٹائرمنٹ بھی شاندار انداز میں لی۔ اگر ان کا اور پرویز مشرف کا موازنہ کیاجائے تو سیاسی تجزیہ نگار شوکت عزیز کو پرویز مشرف سے کہیں زیادہ سمجھدار قرار دیتے ہیں۔

یہ کہا جاتا ہے کہ شوکت عزیز اور پرویز مشرف کی 12 اکتوبر 1999ءسے پہلے کوئی شناسائی نہیں تھی۔ شوکت عزیز سٹی بنک میں نوکری کے ساتھ پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کا فارمولہ کافی سالوں سے لے کر پھر رہے تھے۔ میاں نواز شریف کے وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں بھی وہ ایک خوبصورت انگریزی کے ساتھ ایک فارمولہ لیکر آئے تھے۔ میاں نواز شریف نے ان کے اور ان کے رفقاءکے ساتھ پورا ایک دن گزارا۔ ان کا فارمولہ تحمل سے سنا اور ان کو روانہ کر دیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ شوکت عزیز کی میاں نواز شریف کے سامنے دال نہیں گلی۔ شوکت عزیز اسی دوران ڈیفنس یونیورسٹی میں لیکچر بھی دیتے رہے۔

اور پھر 12اکتوبر1999ءکو جب فوج نے میاں نواز شریف کا تختہ الٹ دیا تو فوج کے پاس ملک چلانے کے لئے کوئی وزیر خزانہ نہیں تھا۔ جی ایچ کیو کی فائلوں سے وزیر خزانہ کی تلاش ہوئی اور شوکت عزیز کا نام سامنے آیا، ان کی تلاش شروع ہوئی ۔ سٹی بنک سے ان کی تعیناتی نیو یارک میں تھی لیکن وہ نیو یارک میں نہیں تھے۔ وہ لندن میں ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ بڑی مشکل سے ان کو تلاش کر کے یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان میں نیا سیٹ اپ آرہا ہے ان کا نام زیر غور ہے اگر وہ دلچسپی رکھتے ہیں تو فوراً پاکستان پہنچ جائیں۔

شوکت عزیز تو کئی سال سے اس موقع کی تلاش میں تھے ، انہوں نے پہلی فلائٹ پکڑی اور پاکستان پہنچ گئے۔ چار فور سٹار جرنیلوں نے پورا دن شوکت عزیز کا انٹرویو لیا اور وہ چاروں جرنیل اس نتیجہ پر پہنچے کہ شوکت عزیز ہی پاکستان کی معیشت کی ڈوبتی کشتی کو پار لگا سکتے ہیں۔ اس لئے کافی پاکستانی امیدواروں کو فیل کر دیا گیا۔ شوکت عزیز وزیر خزانہ بنے اور وزارت عظمیٰ تک کا سفر تیزی سے طے کیا۔

عدالت عالیہ نے غداری کے مقدمہ میں سابق صدر پرویز مشرف کی یہ درخواست منظور کر لی ہے اور ان کے ساتھ دیگر ملزمان کو شریک ملزم قرار دے دیا گیا۔ ان ملزمان میں شوکت عزیز سر فہرست ہیں، ان کے ساتھ وفاقی وزیر زاہد حامد اور سابق چیف جسٹس عبد الحمید بھی شامل ہیں۔ بیچارے زاہد حامد نے تو کافی چالاکی دکھائی تھی اور ن لیگ میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔ انہوں نے میاں نواز شریف کو اپنی بے گناہی کا ثبوت بھی دے دیا تھا اور وہ مان بھی گئے تھے لیکن عدالت نہیں مانی۔ اس لئے اب ان کو وزارت سے استعفیٰ دینا پڑ گیا۔ ایک اندازہ ہے کہ شاید ان کو بھی سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساتھ سزا ہو جائے۔ قدرت کا کمال دیکھیں کہ چودھری شجاعت بر ملا کہہ رہے ہیں کہ وہ ایمر جنسی کے فیصلہ میں شامل تھے لیکن کوئی عدالت ان کو نہیں بلا رہی اور باقی سب کہہ رہے ہیں کہ ان کا کوئی تعلق نہیں اور عدالت ان کو شریک ملزم قرار دے رہی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ شوکت عزیز نے لندن میں پرویز مشرف کو بہت سمجھا یا کہ ہماری اننگ ختم ہو چکی ہے اب ہمارے لئے پاکستان میں کچھ نہیں۔ بس اب باقی زندگی یہاں گزار دیں۔ یہی ریٹائرڈ لائف ہے لیکن پرویز مشرف نہیں مانے ۔ ان کا خیال تھا کہ ابھی ان کی اننگ باقی ہے۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ منگلا میں کور کمانڈر کے ایام میں میں نے اپنی بیگم سے کہا کہ اب ریٹائرڈ زندگی کی تیاری کرنی چاہئے ۔ میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ میں آرمی چیف بن جاﺅں گا۔ اس لئے شاید پرویز مشرف کویہ اعتقاد ہو گیا ہے کہ ہر ریٹائر منٹ کے قریب انہیں ایک نئی اننگ مل جائے گی لیکن انہیں سمجھنا چاہئے کہ ہر مرتبہ لاٹری نہیں لگتی۔

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے مقدمہ پر حکمران جماعت تقسیم تھی اور تقسیم ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ ٹھیک جبکہ کچھ اس کو انتہائی غلط قرار دیتے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ دھرنے اور تمام سیاسی بحرانوں کی بنیادی وجہ بھی آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہی ہے۔ اس لئے کچھ دانشور پہلے ہی مشورہ دے رہے تھے کہ اس پنڈورا بکس کو نہ کھولا جائے۔ شاید ان کی رائے ٹھیک تھی کہ اس پنڈورا بکس کو نہ کھولا جائے۔ کیونکہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ بات اب یہاں ختم نہیں ہو گی۔ مزید نام بھی سامنے آئیں گے۔ جو پاکستان میں ہونگے وہ پھنستے جائیںگے۔ جو سمجھدار شوکت عزیز کی طرح باہر رہیں گے وہ بچ جائیں گے۔ شوکت عزیز امریکی شہری ہیں ۔ ان کو پاکستان واپس نہیں لایا جا سکتا۔ بس باقیوں کو بھی مشورہ ہے کہ وہ شوکت عزیز کی طرح راہ فرار اختیار کریں ، کہیں بڑی قربانی سے پہلے چھوٹی چھوٹی کافی قربانیاں نہ ہو جائیں۔ بیچارے زاہد حامد کی قربانی بھی تو ہوئی ہے لیکن یہ آغاز ہے۔ بات یہاں ختم نہیں ہو گی۔ جن کاغذات کو چھپایا جارہا تھا وہ اب سامنے آئیں گے ، کئی پردہ نشینوں کے نام سامنے آئیں گے۔

مزید :

کالم -