عمران سندھ گئے، اصول ترک، منشور کے خلاف بول پڑے!

عمران سندھ گئے، اصول ترک، منشور کے خلاف بول پڑے!
عمران سندھ گئے، اصول ترک، منشور کے خلاف بول پڑے!

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

اس بحث میں الجھے بغیر کہ لاڑکانہ کے بازو میں تحریک انصاف کا شو کامیاب تھا یا ناکام، بات دوسرے پہلوﺅں پر ہو گی کہ جلسہ تو بہر حال ہو گیا۔ عمران تقریر بھی کر چکے اور شاہ محمود قریشی پہلے سے زیادہ زور سے گرجے۔ اب حامی اور مخالف اچھا اور خراب کہتے ہیں، اصل میں تو یہ دیکھنا ہوگا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین نے سندھ جا کر کیا پوزیشن اختیار کی۔

یہ ایک سنجیدہ بات ہے۔ تنقید برائے تنقید نہیں۔ عمران خان جب تک سندھ نہیں گئے اس وقت تک وہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر چاہتے تھے اور نئے صوبوں کی تشکیل کے بھی حق میں ہیں اور یہ موقف تحریری طور پر ان کے منشور کا حصہ ہے۔ اب اگر وہ خود کو اصول پرست کہتے ہیں تو پھر ان کو اس پر قائم بھی رہنا چاہئے یہ نہیں کہ موقع کی مناسبت سے موقف تبدیل کر دیں انہوں نے لاڑکانہ کے جلسہ میں کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم سندھیوں کی مرضی کے بغیر نہیں بنے گا اور سندھ تقسیم نہیں ہوگا۔ اس موقف کے حق میں جو بھی دلیل دی جائے گی وہ حقائق پر مبنی نہیں ہو گی کہ سندھ میں جا کر جو کہا گیا وہ منشور کے خلاف ہے۔ پنجاب میں اسے پسند نہیں کیا گیا بے شک خیبر پختون خوا والے اس کا خیر مقدم کریں کہ وہ پہلے لیڈر کے لئے خاموش تھے یوں بھی کالا باغ ڈیم کی بات نہیں ہوتی تھی البتہ صوبے بنانے کے لئے تو کئی بار کہا گیا۔ اب اگر کوئی کہے ”جمنا گئے تو جمنا داس، گنگا گئے تو گنگا رام“ اس پر ناراض ہونے والی بات نہیں ہو گی کہ عمران خان مسلسل اصول اور سچ اور ڈٹ جانے کی بات کرتے ہیں آج وہ گوجرانوالہ میں عوام سے مخاطب ہیں تو یہاں بھی ان کو وضاحت کرنا چاہئے۔

تحریک انصاف کی طرف سے 30 نومبر کے جلسے پر بہت زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے تا حال ڈی چوک کا نام لیا جاتا ہے اور دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بعض حلقے خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ محترم عمران خان پھر اپنی بات سے ہٹ سکتے ہیں اور جلسہ کے بعد دھرنی کو پھر سے دھرنا بنانے کا اعلان کر سکتے ہیں، یہ خدشہ پہلے روز سے ظاہر کیا جا رہا ہے کہ روکنے کی صورت میں تصادم ہوگا جو نقصان دہ ہے۔ حکمران سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی وجہ سے دباﺅ میں ہے اور مسلسل اجتماعات کی اجازت دیئے چلے جا رہی ہے۔ اب بھی یہ بحث جاری ہے کہ فری ہینڈ دیا جائے یا کریک ڈاﺅن کیا جائے۔ رائے یہی ہے کہ ٹریک ڈاﺅن سے بات ختم نہیں ہو گی۔ اس لئے بہتر عمل کسی اچھے فارمولے کے تحت مذاکرات کے بعد جلسے کی اجازت دے دیتا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر داخلہ بہت واضح اور کھلی بات کر چکے ہوئے ہیں اس لحاظ سے گیند تحریک انصاف کی کورٹ میں ہے۔ یہ ملک اور عوام کے مفاد میں ہے کہ رکاوٹ نہ ڈالی جائے اور تحریک انصاف والے انا کا مسئلہ نہ بنائیں اور مشاورت کے بعد انتظامیہ سے طے کر کے جلسہ کریں اور باقی تمام لوازمات پر بھی بات کر لیں کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف مسلسل عوامی بہبود کا دھیان رکھتے چلے جا رہے ہیں، جب ان کا موڈ یہ ہے تو پھر ان کے ساتھی اور محکموں کے سربراہ اور بیورو کریسی کیوں سمجھ نہیں پا رہی اور بعض اقدامات ایسے ہو رہے ہیں جو صاف طور پر وزیر اعظم کی پالیسی سے متصادم نظر آتے ہیں۔

اصول ترک

مزید :

تجزیہ -