بوس و کنارے کے طبی نقصانات یا فوائد، تحقیق سے ثابت ہوگیا

بوس و کنارے کے طبی نقصانات یا فوائد، تحقیق سے ثابت ہوگیا
بوس و کنارے کے طبی نقصانات یا فوائد، تحقیق سے ثابت ہوگیا

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سائنس دانوں نے خبردارکیا ہے کہ دس سیکنڈ پر مشتمل ایک بوسے سے آٹھ کروڑ تک جراثیم کا تبادلہ ہو سکتا ہے، منہ میں 700 سے زیادہ اقسام کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں لیکن حالیہ تحقیق سے پتہ چلا کہ بعض اقسام کے بیکٹیریا کا تبادلہ دوسروں کی نسبت زیادہ آسانی سے ہوتا ہے اور جراثیموں کی اس قدر بڑی مقدار میں تبادلہ کئی بیماریوں کے علاج میں معاون ثابت ہوسکتاہے ۔

قوت باہ میں اضافے کے لئے مفید مشوروں کے لیے یہاں کلک کریں ۔

 ’مائیکرو بایوم‘ نامی جریدے میں شائع ہونیوالی تحقیق کے مطابق سائنس دانوں نے 21 جوڑوں کی بوسہ لینے کی عادات کا مشاہدہ کرنے کے بعد دریافت کیا کہ وہ جوڑے جو دن میں نو مرتبہ بوسہ دیتے ہیں ان میں جراثیم کا سب سے زیادہ تبادلہ ہوتا ہے۔

گوجرانوالہ میں عمران خان کو انڈے ،جوتے اور ٹماٹر مارنے کا منصوبہ بے نقاب

نیدرلینڈز کی آرگنائزیشن فار اپلائیڈ سائنٹفک ریسرچ نے 21 جوڑوں سے متعدد سوال پوچھ کر ان کی بوسہ لینے کی عادات کا مطالعہ کیا جس میں یہ بھی شامل تھا کہ انھوں نے گذشتہ سال روزانہ کتنی بار بوسہ لیا اور آخری بار کب بوسہ لیاجس کے بعد سائنس دانوں نے ٹھیک دس سیکنڈ کے بوسے سے پہلے اور بعد میں رضاکاروں کی زبانوں اور منہ سے نمونے حاصل کیے۔

جوڑے کے دوسرے بوسے کے بعد سائنس دانوں نے دوسرے پارٹنر کو منتقل کردہ جراثیم کی مقدار ناپی جس سے پتہ چلا کہ دس سیکنڈ کے بوسے کے بعد اوسطاً آٹھ کروڑ بیکٹیریا منتقل ہوتے ہیں۔

پھر جوڑے میں سے ایک فرد نے ایک ایسا مشروب پیا جس میں آسانی سے شناخت کیے جانے والے جراثیم موجود تھے۔مزید یہ معلوم ہوا کہ اگرچہ تھوک میں بوسے کے بعد بیکٹیریا کی تعداد میں تیزی سے تبدیلی آئی لیکن زبان پر موجود بیکٹیریا نسبتاً زیادہ مستحکم رہتے ہیں۔

تمباکو نوشی سے نجات کا آسان طریقہ جاننے کیلیے یہاں کلک کریں ۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر ریمکو کورٹ نے بتایاکہ ’فرینچ کسنگ ‘سے مختصر وقت میں بہت بڑی تعداد میں جراثیم منتقل ہوتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ جرثومے ہی زبان پر رہ پاتے ہیں۔

اس تحقیق کے لیے ’مائیکروپیا‘ نامی میوزیم میں جوڑوں کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے کہ وہ بوسے کے بعد ایک دوسرے میں منتقل ہونے والے جراثیم کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ جسم کے اندر جراثیم کی اس قدر بڑی تعداد صحت برقرار رکھنے اور بیماریوں سے بچانے میں مددگار ہوتی ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -