گائے سے بھی سستی بھارتی دلہن کی کہانی

گائے سے بھی سستی بھارتی دلہن کی کہانی
گائے سے بھی سستی بھارتی دلہن کی کہانی

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے کئی علاقوں میں آج بھی خواتین کی خریدوفروخت کا دھندہ جاری ہے اور ایسے ہی بھارتی ریاست ہریانہ کے آس نے ایک دلال کے توسط سے ساڑھے تین ہزار روپے میں دلہن خریدی تھی جو ایک گائے کی قیمت سے بھی کم ہے ۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق آس نے بتایاکہ اگراُن کے بچوں کے لیے دلہن نہیں ملی تو اُنہیں پھر سے ایسا ہی کرنا پڑے گا۔

مادھوری ڈکشت کا ’دھندہ‘ عروج پر ۔ ۔ ۔ روزانہ ایک کروڑ کی کمائی

آٹھ بچوں کی ماں مذکورہ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی غلاموں جیسی ہے، 12 سال کی عمر میں اُنہیں شوہر لے آئے تھے ، روز پیٹتے تھے لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتی تھیں کیونکہ وہ کہیں جانہیں سکتی تھیں ،بھارت کے کچھ حصوں میں دلہن خریدنے کی رسم اب بھی ہے اور ہریانہ میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔

ماہرین کے مطابق خواتین کے متعلق قدیم زمانے سے چلے آنے والے تعصبات اور الٹراساو¿نڈ کے ذریعے رحم مادر میں ہی بچے کے جنس کی جانچ کی جدید ٹیکنالوجی کے سبب بچیوں کو پیدائش سے قبل ہی اسقاطِ حمل کے ذریعے پیدا ہونے سے باز رکھنا ممکن ہو گیا ہے،یہی وجہ ہے کہ ملک کے کچھ حصوں میں خواتین کا تناسب مردوں کے مقابلے خاطر خواہ کم ہے اورجنسی تعصبات کے بیج اتنے گہرے ہیں کہ پیدائش سے قبل بھی لڑکے اور لڑکیوں میں امتیاز برتا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا نے بھارت میں جاری ’مکروہ دھندے‘کا پردہ چاک کردیا

اس دھندے میں ملوث دلال اس طرح پیسہ بنا لیتے ہیں لیکن متاثرہ خواتین کو تا حیات تشدد اور جنسی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک دلال نے بتایا کہ اس نے خود اپنے لیے ایک دوسرے دلال کے ذریعے بیوی خریدی اور اس کے بعد میں نے اپنے خاندان کے گزر بسر کے لیے یہی کام شروع کر دیاجبکہ ’موصوف ‘ کا خیال ہے کہ وہ اچھاکام کررہاہے اور اِس میں دونوں فریقین کی بھلائی ہے ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -