جلد پر دانے نکلنے کی وجوہات اور آسان علاج جانئے

جلد پر دانے نکلنے کی وجوہات اور آسان علاج جانئے
جلد پر دانے نکلنے کی وجوہات اور آسان علاج جانئے

  

لندن(نیوزڈیسک)عموماًیہ سمجھا جاتا ہے کہ کیل مہاسے اور دانے جوانی میں ہی نکلتے ہیں لیکن آپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ یہ مسئلہ درمیانی عمر میں بھی درپیش آسکتا ہے۔حال ہی میں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک تہائی خواتین کو 40سال کے بعد یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔

جلد کو خوبصورت بنانے کے آسان نسخے

عموماًدانے اس وقت بنتے ہیں جب جلد میں تیل کی مقدار بڑھ جائے اور یہ جلد مردہ خلیوں کے ساتھ مل کر مساموں کو بند کردیتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر منہ پر کیل مہاسے نمودار ہو جاتے ہیں۔

آئیے آپ کو ان دانوں کی وجوہات اور ان سے نجات کے چند آسان طریقے بتاتے ہیں۔

شیمپو اور کنڈیشنرز کے ذریعے

کچھ شیمپو اور کنڈیشنرز میں تیل کی زائد مقدار پائی جاتی ہے جو بالوں کو توانا رکھنے کے لئے رکھی جاتی ہے ،اس سے بال تو توانا ہوجاتے ہیں لیکن جب ہم نہاتے ہیں تو اس دوران شیمپو دھلتے ہوئے جسم کے مختلف اعضاءپر رہ جاتا ہے جس کے باعث دانے نکل آتے ہیں۔

آپ کو چاہیے جب نہائیں تو پہلے سر دھو لیں اور پھر نہائیں۔ یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ سر دھونے کے بعد بالوں کو کسی ایسی چیز میں باندھ لیں کہ بالوں کے شیمپو کی چکنائی جسم کو نہ لگے۔آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ ایسے شیمپوز سے اجتناب کریں جن میں چکنائی یا تیل پایا جاتا ہے۔

عمر کم رکھنے والی کریموں کا استعمال

تقریباًہر عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی عمر کم نظر آئے اور اس مقصد کے لئے وہ اینٹی ایجنگ کریموں کا استعمال کرتی ہیں جن میں چکنائی کی مقدار موجود ہوتی ہے لہذا ایسے افراد جن کی جلد میں چکنائی کی مقدار زیادہ ہو انہیں چاہیے کہ وہ ان کریموں کا استعمال نہ کریں۔

کم چکنائی والے دودھ کا استعمال

بازار میں ملنے والا کم چکنائی والا دودھ اس مقصد کے لئے اچھا نہیں ہے لہذا اس دودھ کا استعمال نہ کریں بلکہ فائبر والی غذاؤں کا استعمال کریں۔ اس کے علاوہ مچھلی، گوشت ،انڈوں، دہی اور سبزیوں کا استعمال کریں۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے انسان کے جسم میں شوگر کو جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے اوراسی طرح جسم میں چکنائی کی مقدار بڑھنا شروع ہو جاتی ہے ۔ایسی صورت میں ضروری ہے کہ ایسی غذا ﺅں کا استعمال کیا جائے جن میں چکنائی کی مقدار کم ہو۔غلطی سے قارئین کو کم والے دودھ کے استعمال کا مشورہ دیا گیا تھا جو کہ درست نہ ہے جس کے لئے ہم معذرت خواہ ہیں۔

 

مزید :

تعلیم و صحت -