شیشہ پینے والوں کے لیے انتہائی تشویشناک تحقیق

شیشہ پینے والوں کے لیے انتہائی تشویشناک تحقیق
شیشہ پینے والوں کے لیے انتہائی تشویشناک تحقیق

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) ہمارے نوجوانوں کو جکڑنے والا تازہ ترین فیشن شیشا یا جدید حقہ ہے جس کا دھواں اڑاتے ہوئے نوعمر لوگ خود کو فلمی ہیرو محسوس کرتے ہیں لیکن اگر انہیں اس انتہائی خطرناک فعل کے نتائج معلوم ہوں تو وہ کبھی بھی اس کے قریب نہ جائیں۔

امریکا میں کی گئی ایک تازہ ترین سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک نشست کے دوران شیشا پینا ایسا ہی ہے جیساکہ آپ تقریباً 20 سے 40 سگریٹ مسلسل پئیں۔

سائنسدانوں کے مطابق چاہے یہ روایتی حصہ ہو جس میں تمباکو کو کوئلوں پر جلایا جاتا ہے یا جدید شیشا جس کیمیکل ملا دھواں پانی میں سے گزرتا ہے، دونوں صورتوں میں اس میں زہریلا بینرین پیدا ہوتا ہے جو خون کے کینسر اور جگر اور پھیپھڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق میں شامل 105 نوجوانوں کے پیشاب کے نمونوں میں SPMA نامی کیمیکل کی مقدار بھی نارمل سے چار گنا زیادہ پائی گئی جسے انتہائی تشویشناک صورتحال قرار دیا گیا۔

ماہرین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اکثر نوجوان محض فیشن کے شوق میں اپنے جسموں میں زہر انڈیل رہے ہیں۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے Cancer Epidemiology میں شائع کی گئی ہے اور نوعمر لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شیشا کے جان لیوا اثرات کے متعلق جاننے کیلئے اس کا مطالعہ ضرور کریں۔

مزید :

تعلیم و صحت -