اوورسیز پاکستانی کمیشن تارکین وطن کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں

اوورسیز پاکستانی کمیشن تارکین وطن کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں
اوورسیز پاکستانی کمیشن تارکین وطن کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں

  

تلاش معاش کے لئے وطن اور عزیز واقارب سے دوررہنے والے تارکین وطن کا ملک معیشت میں کلیدی کردار ہے۔ بیرون ملک سے بھجوائے جانے والے پیسے سے نہ صرف ملک کے ذرمبادلہ میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ ملکی معیشت اورا قتصادی صورت حال کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ طویل عرصہ یا پھر ساری زندگی دریار غیر میں رہنے والے تارکین وطن اپنے ملک کی پہچان بننے کے ساتھ ملک کے سفیر بھی ہوتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اوورسیز پاکستانیز کواپنے ملک میں بے شمار مسائل کا سامنا ہے جن میں جائیدادوں پر قبضے ، کاروبارکے لئے رقوم غصب کرنے سمیت مختلف محکموں کی سر دمہری شامل ہے ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت جہاں دوسرے شعبوں کی ترقی ، عوام کی فلاح و بہبود ، انکے معیار زند گی کو بلند کرنے کے لئے اور صوبہ کوجدیدخطوط پراستوار کرنے کے لئے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں وہاں دوسری طرف اوورسیز پاکستانیز کے مسائل کے حل کے لئے اوورسیز پاکستانیز کمیشن قائم کیا ہے۔ کیپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور کیپٹن (ر ) محمد امین وینس اوورسیز پاکستانیز کے مسائل حل کرنے کے لئے جامع اور عملی اقدامات کیے ہیں اور اب تک سینکڑوں تارکین وطن کو ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے۔ سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے ہفتہ میں ایک دن اوورسیز پاکستانیز کے مسائل حل کرنے کے لئے مخصوص کیا ہو اہے اوریہ اجلاس تقریباتین سے چار گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔ سی سی پی اولاہور فرداً فرداً تمام تارکین وطن کے مسائل سنتے اور انکے حل کے لئے موقع پر احکامات جاری کرتے ہیں۔اوورسیز کے زیادہ تر مسائل جائیدادوں پر قبضے،کاروبار کے لئے رقم میں خرد برد اور دیگرخاندانی جھگڑوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ سی سی پی او لاہورنے تارکین وطن کی جائیداد پر قبضے واگزار کرائے اور رقوم کی واپسی کروائی ہیں۔ ، بعض اوقات کمیشن کے اجلاس میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں خصوصاً جب کسی تارکین وطن کو انکے گھرکا قبضہ ملتا ہے یا خاندانوں میں صلح ہو تی ہے۔ تارکین وطن اپنے مسائل حل ہونے پر سی سی پی او لاہور کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ان ذاتی کاوشوں اور مداخلت سے انکے مسائل حل ہوئے ہیں۔ یہاں ان چند تارکین وطن کے کیسوں کا ذکر ضروری ہے جن کے مسائل حل ہوئے ہیں ۔ اوورسیز پاکستانی محمد امین پاشا نے درخواست دی کہ وہ مو ضع چوہنگ پنجگراں میں ایک کنال زمین کا مالک ہے مگر غلام عباس وغیرہ اپنی ملکیتی زمین سے زیادہ پر قابض ہیں۔ سی سی پی او لاہور نے دونوں پارٹیوں کو سنا اورباہمی رضامندی سے طے پایا کہ درخواست دہندہ اپنی زمین سے5فٹ چوڑا اور136.5فٹ لمبا راستہ چھوڑے گا جودونوں پارٹیاں مل کر استعمال کریں گے دوسری پارٹی درخواست دہندہ کی زمین کا قبضہ اسے دے گی۔ اسی طرح دونوں فریقین سول کورٹ سے اپنے اپنے کیس واپس لے لیں گے۔دونوں پارٹیاں آپس میں رشتہ دار ہیں اور گذشتہ36سال سے آپس کے تعلقات نہ ہیں۔مسئلہ حل ہونے کے بعد دونوں پارٹیاں آپس میں گلے ملی اوریوں36سال کے بعد صلح ہوگئی۔ اس وقت جذباتی صورت حال پیدا ہوگئی جب دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور انکی آنکھوں سے خوشی کے آنسو رواں ہوگئے ۔ انہوں نے 36سال کے بعد صلح ہونے پر سی سی پی اور لاہور کا شکریہ ادا کیا ۔ا سی طرح اعجاز احمد جو کویت میں رہائش پذیر ہیں نے درخواست دی کہ اس نے ایڈن گارڈن فیروز پور روڈ میں گھر خریدنے کے لئے ڈاکٹر امجد کو 2010میں 56لاکھ روپے دئیے ۔ چھ سال گذرنے کے باوجود وہ نہ گھر دے رہا ہے اور نہ ہی رقم واپس کر رہا ہے۔ کمیشن نے دونو ں پارٹیوں کو سنا ڈاکٹر امجد نے اقرار کیا کہ اس نے اعجاز احمد کے56لاکھ روپے واپس کرنے ہیں۔ ایڈ ن گارڈن کے امجد نے 56لاکھ روپے کا چیک درخواست دہندہ کو دیا جو کیش ہو گیا ۔ درخواست دہندہ نے 56لاکھ روپے واپس ملنے پر ڈسڑکٹ اوورسیز پاکستانیز کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔ اوورسیز پاکستانی عمران مشتاق نے درخواست پیش کی کہ اس کی بہن کا الجنت ہاؤسنگ سوسائٹی میں10مرلے کا گھر ہے لیکن اس کے خاوند نے اسے طلاق دے کرتشدد کر کے گھر سے نکال کر قبضہ کر لیا ہے لہذا گھر کا قبضہ اس کی بہن کو دلوایا جائے۔سی سی پی او لاہور نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو گھر کی ملکیت سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے رپورٹ دی کہ گھر عمران مشتاق کی بہن مسماۃ صائمہ کے نام ہے۔ جس پر سی سی پی او نے مکان کا قبضہ مسماۃ صائمہ کو دلوا کر اس کی داد رسی کی۔ عمران مشتاق نے گھر کا قبضہ دلوانے پر ڈسٹرکٹ اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے کردار کو سراہا۔اسی طرح اوو سیز پاکستانی ثمینہ مجاہد نے ڈسٹرکٹ اووسیز پاکستانی کمیشن کو درخواست دی کہ اس نے اپنا گھر واقع -19اے جیل روڈ اپنی بہن عالیہ ارشد کو کرائے پر دیا مگر وہ اس پر قابض ہو گئیں ہیں اور گھر خالی نہیں کر رہیں۔ سی سی پی او لاہور نے دونوں فریقین کو سنا اور معاہدہ طے پایا کہ ثمینہ مجاہد اپنے تمام مقدمات واپس لے لیں تو عالیہ ارشد گھر خالی کر دے گی۔ اس طرح باہمی رضا مندی سے یہ مسئلہ حل ہو گیا۔

قطر میں مقیم اوورسیز پاکستانی عبدالروف نے درخواست دی کہ اس کی شادی شدہ بیٹی 4ستمبر کو قطر سے لاہور آئی تو عامر نے اسے اغواء کر لیا جسکی ایف آئی آر نمبر133/16پولیس اسٹیشن سرور روڈ میں درج ہے لہذا اس کی بیٹی کو برآمد کروایا جائے۔ جس پر سی سی پی او لاہور نے پولیس کو حکم دیا گیا کہ مغویہ کو برآمد کیا جائے ۔ پولیس نے مغویہ کو برآمد کر کے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا۔ بیانات قلمبند ہونے کے بعد لڑکی کو والد کے حوالے کر دیا گیا اور دونوں باپ بیٹی قطر روانہ ہو گئے۔ عبدالروف نے بیٹی کی بازیابی پر سی سی پی او لاہور کا شکریہ ادا کیا۔ اوورسیز پاکستانی عمران یٰسین نے درخواست دی کہ اس نے ڈیوائن گارڈن ڈیفنس روڈ میں بلاک سی میں مکان نمبر35بک کروایا اور اس کی تمام ادائیگی بھی کر دی مگر ڈویلپر گھر نہیں دے رہا۔ سی سی پی او نے دونوں پارٹیوں کو سنا ۔ ڈویلپر نے اعتراف کیا اس نے گھر کی تمام رقم لے لی ہے لیکن اب اس نے عمران یٰسین کو مذکورہ گھر کا قبضہ دے دیا ہے۔گھر ملنے پر عمران یٰسین بہت خوش تھا اور اس نے کمیشن کے کردار کی تعریف کی۔ اورسیز پاکستانی عظمی قیصر اور مسز انیقہ انجم نے درخواست دی کہ انہوں نے خیابان امین میں گھر خریدنے کے لیے خیابان امین سوسائٹی کو رقم دی مگر نہ تو پلاٹ کی نشاندہی کی گئی ہے لہذا ان کے ساتھ فراڈ ہوا ہے۔ سی سی پی او لاہور نے دونوں پارٹیوں کو سنا اور خیابان امین کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متبادل پلاٹ کی نشاندہی اور گھر کی تعمیر کا شیڈول دو دن کے اندر تیار کر کے کمیٹی میں پیش کیا جائے۔پی آئی اے ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق اورسیز پاکستانیز کی شکایات پر سی سی پی او لاہور نے ڈسٹرکٹ آفیسر (کوآپریٹوز) کو تمام معاملات کی سکرونٹی کر کے ایک ہفتہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ریونیو آفیسر کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں تمام معاونت فراہم کرے ۔ آسٹریلیا میں مقیم منصور اے شیخ نے درخواست دی کہ اس نے مطاہر صدیق کو 2لاکھ لاکھ61ہزار روپے ائیر ٹکٹس کے لیے دیئے مگر وہ رقم واپس نہیں کر رہا۔ سی سی پی او لاہور نے دونوں پارٹیوں کو سنا اور معاملہ متفقہ طور پر حل کر لیا گیا۔لندن کے معروف سرجن ڈاکٹر مجاہد خورشید کو جب انکے گھر کی چا بیاں دی گئیں تو و ہ فرط جذبات میں آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ جس طرح پولیس نے میرے مسئلہ کے حل کے لئے ذاتی دلچسپی لی اسی طرح تو لندن پولیس نے کبھی اتنا تعاون نہیں کیا۔ اسی طرح دبئی میں مقیم مرزا محمود بیگ نے مسئلہ حل کروانے پر سی سی پی او لاہور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج میں سکون کی نیند سوؤں گا ۔ڈسٹرکٹ اوورسیز پاکستانیز کمیشن کو روزانہ سات سے دس شکایات موصول ہوتی ہیں جن کا زیادہ تر تعلق پراپرٹی تنازعات ، جبری قبضہ اور کاروبار کے لئے سرمایہ میں غبن سے ہے۔ڈسٹرکٹ اوورسیز پاکستانیز کمیٹی میں مسائل کو پیش کرنے سے پہلے ابتدائی انکوائری مثلاً جگہ کا معائنہ ، فیلڈ انکوائری، ریکارڈ کی تصدیق ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور پولیس سے کرائی جاتی ہے، تاکہ کم سے کم وقت میں مسائل کو حل کیا جائے۔ لاہور پولیس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں کی تنازعات ، لین دین اور خاندانی جھگڑوں سمیت متعدد مسائل کا فریقین کے مابین باہمی افہام و تفہیم سے تصفیہ کروارہی ہے جو قابل تحسین ہے۔

مزید :

کالم -