پروفیسر دلدار پرویز بھٹی کی یاد میں

پروفیسر دلدار پرویز بھٹی کی یاد میں
 پروفیسر دلدار پرویز بھٹی کی یاد میں

  

گوجرانوالہ کی زمین اپنے جن سپوتوں پر مدتوں فخر کرتی رہے گی ان میں سے ایک نام پروفیسر دلدار پرویز بھٹی مرحوم کا بھی ہے۔ دلدار پرویز بھٹی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ شعبہ تدریس سے وابستہ تو تھے ہی اس کے ساتھ ساتھ بے مثال کمپیئر، کالم نگار، ادیب،مزاح نگار بھی تھے۔

حسِ لطافت سے لبریز جملے اُن کی زبان پر تھرکتے رہتے تھے۔ وہ عام محفل میں بھی عامیانہ جملہ نہیں کہتے تھے ۔ ان کے منہ سے نکلے ہوئے تمام جملے ادب کا حصہ بننے کے لائق ہوتے تھے۔ٹی وی پر آئے تو اپنی مادری زبان پنجابی کا سہارا لے کر کمپیئرنگ کو نیا اسلوب فراہم کیا۔پنجاب کے پانچ دریاؤں کی عکاسی کرتا ان کا پروگرام ’’پنجند‘‘ پی ٹی وی کا مقبول ترین شو قرار دیا جا سکتاہے۔ پھر ’’میلا‘‘ لگایا تو خوب سجایا۔

’’ٹاکرا‘‘ کے نام سے بے مثل و بے نظیر پروگرام پیش کیا۔پی ٹی وی کے ناظرین جنہوں نے ان کے پروگرام دیکھ رکھے ہیں ان کی برجستگی اور شگفتگی کو آج تک فراموش نہیں کر پائے۔ مبداءِ فیض نے ان کو ’’میلہ‘‘ لوٹ لینے کا ملکہ عطا کر رکھا تھا۔ اس کے باوجود ان کی طبیعت میں بلا کی سادگی اور عاجزی تھی۔

تکبر اور رعونت ان کے قریب سے بھی نہیں گزرے تھے۔و ہ سبھی سے یکساں محبت کرتے تھے۔ میں ان کی طبیعت کی سادگی اور عاجزی کی وجہ سے ان کا مداح ہوں۔

گزشتہ دِنوں ان کی چوبیسویں برسی کے موقع پر ’’کارواں ٹرسٹ ویلفیئر سوسائٹی‘‘ نے ان کی یاد میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا،جس کی صدارت معروف دانشور و صحافی جناب مدثر اقبال بٹ چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’بھلیکھا‘‘و بھلیکھا ٹی وی نے کی ۔

سیادت نامور شاعر و ادیب جان کاشمیری نے کی، جبکہ مہمان خصوصی ممتاز مسلم لیگی رہنما رکن پنجاب اسمبلی چودھری محمد اقبال گجر تھے۔ چودھری محمد اقبال گجر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اس بار ساتویں مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور وہ پانچ مرتبہ صوبائی وزیر رہنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

مرحوم دلدار پرویز بھٹی کے بھانجے اور جان نشین میاں فراز اکرم نے خصوصی طور پر شرکت کی اور مرحوم کی محفل میں موجودگی محسوس کراتے رہے۔نظامت کے فرائض معروف شاعر ڈاکٹر امین جان نے بخوبی ادا کئے۔

تلاوت کلام پاک کی سعادت صاحبزادہ محمد سعید حاتم نے حاصل کی، جبکہ گلہائے عقیدت اقصیٰ لیاقت نے نچھاور کئے۔افتخار علی بٹ صدر پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن، مکرم حسین اعوان، فیاض اروپی، حاجی عبدالرؤف مغل، عرفان نواز رانجھا مہمانانِ اعزاز میں شامل تھے۔

پروفیسر محمد احمد شاد،عصمت نذیر،خاور راجہ ایڈووکیٹ، چوہدری تصدق حسین سیال ، محمد آصف صدیقی،انجینئر شہباز ملک، میاں عطا الرحمن، ملک محمد جمیل اعوان اور غلام نبی بہادر نے مرحوم کے فن اور شخصیت پر اظہار خیال کیا۔

تمام احباب نے مرحوم کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، محترم جان کاشمیری نے جامع مضمون پیش کیا۔ مَیں سمجھتا ہوں مرحوم کے بارے میں جو انہوں نے بیان کیا اسی کو اختصار کے ساتھ پیش کر دوں تاکہ دلدار پرویز بھٹی صاحب کے چاہنے والے ان کی شخصیت سے آگاہ ہو سکیں، جن سے ان کے قریبی دوست جناب جان کاشمیری آگاہ ہیں۔

’’لاہور سے ’’جنگ‘‘ شروع ہو تو کچھ عرصہ بعددلدار پرویز بھٹی نے ’’دل کی باتیں‘‘ کے عنوان سے اس میں کالم نگاری شروع کی جو زیادہ دیر پروان نہ چڑھ سکی اور ابتدائی سطح پر ہی دم توڑ گئی۔ پھر کچھ مدت کے بعد روزنامہ ’’پاکستان‘‘میں ’’آمنا سامنا‘‘ کے روپ میں آمنا سامنا ہوا، جس کے بارے میں عام خیال یہی تھا کہ نتیجہ پہلے سے مختلف نہ ہوگا،مگر نتیجہ مختلف اور زبردست رہا۔

کالم لکھے،تواتر سے لکھے اور خوب لکھے یہاں تک کہ کالموں کا انتخاب’’آمنا سامنا‘‘ کے زیر عنوان چھپوا ڈالا۔

اس کے باوجود کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ دلدار پرویز بھٹی کالم نگار نہیں۔ وہ ایک صاحب اسلوب کمپیئر تھا۔وہ بے ساختہ گوئی اور حاضر جوابی میں مہارتِ تامہ رکھتا تھا۔ اور اپنی انہی خصوصیات کے بل بوتے پر کالم نگاری کی طرف راغب ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اس کا کالم پڑھنے کی بجائے سننے والی چیز لگتا تھا‘‘۔۔۔ ’’اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان نامی گرامی اور سکہ بند کالم نگاروں کی موجودگی میں دلدار پرویز بھٹی کالم نویسی کے طور پر کیونکر متعارف ہوا۔

میرے نقطہ نگاہ سے، ایک تو آئے روز غیر ممالک کے دورے، دوسرے مشاہداتی حس کی ہمہ وقت بیداری،تیسرے بدیہہ گوئی پر قدرت اور چوتھے شوخ و شنگ ٹی۔وی کمپیئر کی حیثیت سے پیشگی شگفتہ شگفتہ شہرت کا حامل ہونا۔

اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جب ’’آمنا سامنا‘‘ چھپتا تھا تو کسی کو یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی تھی کہ ’’دلدار پرویز بھٹی کون ہے‘‘ گویا آدھا سفر تو منزل کے تعین کے ساتھ ہی طے ہو گیا تھا‘‘۔

’’مطلق پرواہ نہیں کی کہ اس کے چاروں طرف کیا کیا لکھا جا رہا ہے اور کیسے کیسے انداز میں لکھا جا رہا ہے۔ وہ جس موضوع واقعہ یا سانحہ پر جو سوچتا، جیسے سوچتا،، کسی روایتی اُلجھاؤ یا سلجھاؤ کے بغیر ہو بہو سپردِ قلم کر دیتا وہ تو ایک ایسا مسافر تھا،جو منزل کی لگن سے بے نیاز ہو کر راستوں کو ہموار کرنے میں مگن تھا تاکہ کسی دوسرے مسافر کو ٹھوکر نہ لگے جو اس کے سینے میں دل درد مند کی موجودگی کا ثبوت تھا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ امجد اسلام امجد ’’آمنا سامنا‘‘ کے دیباچے ’’دلدار کے دالدارئے‘‘ میں کیا فرماتے ہیں ’’دلدار کے ان کالموں کی فضا ایسی کھری اور سچی ہے کہ اس کی جگ بیتی قاری کو آپ بیتی سی محسوس ہوتی ہے وہ مقامی الفاظ ،محاورے اور عوامی لہجے کو اس سہولت اور بے ساختگی کے ساتھ استعمال کرتا ہے کہ آپ کو کسی لفظ کا مطلب جاننے کے لئے رکنا یا سوچنا نہیں پڑتا۔ اس کی زبان اور ذخیرہ الفاظ اتنا مانوس اور اپنا اپنا سا لگتا ہے کہ جیسے ہم تحریر نہیں پڑھ رہے دوستوں کی محفل میں باتیں سن رہے ہیں‘‘۔۔۔ دلدار پرویز بھٹی مرحوم کے بارے میں پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔ایک کالم میں ان کی پوری شخصیت کا احاطہ ممکن نہیں۔آخر میں مرحوم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئے اللہ رب العزت سے خصوصی دُعا کے ساتھ اجازت۔

مزید :

کالم -