کٹھ پُتلیاں

کٹھ پُتلیاں
کٹھ پُتلیاں

  

عمران خان نے ایک ٹویٹ میں شاہد خاقان عباسی کو میاں نواز شریف کا کٹھ پتلی وزیر اعظم کہا تو مریم نواز شریف کا فوری رد عمل سامنے آیا،جس میں انہوں نے عمران خان کو خود کٹھ پتلی قرار دے دیا۔جب سے ٹویٹر کااستعمال عام ہوا ہے، یہ بھی ایک نیا میدان جنگ بن چکا ہے جہاں الفاظ کی گولہ باری جاری رہتی ہے اور کبھی کبھی تو بھاری بمباری بھی ہو جاتی ہے۔

مریم نواز شریف نے عمران خان کو کہا کہ کٹھ پتلی کا لفظ تو آپ پر پورا اترتا ہے اور ساتھ ہی ان سے یہ بھی پوچھ لیا کہ آج کے اس نئے ٹویٹ کا حکم کہاں سے ملا ہے؟ ایک طرف عمران خان اور مریم نواز شریف کی ٹویٹر گولہ باری ہو رہی تھی اور دوسری طرف میاں نواز شریف اگلے الیکشن کی انتخابی مہم کا پہلا اوور جارحانہ لائن اور لینتھ کے ساتھ ایبٹ آباد میں کرا رہے تھے، جس میں انہوں نے کئی باؤنسر بھی مارے۔

عدلیہ اور جے آئی ٹی کو انہوں نے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انمول ہیرے کی پھبتی کسی اور کہا کہ وہ عوام کی عدالت میں آئے ہیں۔ میاں نواز شریف اگلا اوور کوئٹہ میں کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ خیر بات ہو رہی تھی کٹھ پتلیوں کی اور حقیقت یہ ہے کہ بے چاری کٹھ پتلیاں ہزاروں سال سے تماشے دکھا رہی ہیں۔

یہ اتنی پرانی ہیں کہ قدیم یونانی لٹریچر میں ان کا ذکر ملتا ہے، یونانی مورخ ہیروڈوٹس نے پانچ سو قبل از مسیح میں ان کا ذکر کیا،جبکہ ارسطو نے سیاسیات کے علم میں اس کا استعمال کرتے ہوئے کٹھ پتلی حکومت کا ذکر کیا ، اس دور کی ایک ایسی حکومت کا جس میں بادشاہ کی ڈوریاں یونانی جرنیل ہلا رہے تھے، گویا کٹھ پتلی حکومتیں اور حکمران، کٹھ پتلی عدالتیں اور جج ہزاروں سال سے موجود ہیں۔

وادیِ سندھ کی کھدائی میں بھی ہزاروں سال پرانی کٹھ پتلیاں برآمد ہوئی ہیں اور سیاست میں ارسطو کی شروع کی ہوئی کٹھ پتلی حکومتوں کی اصطلاح جدید سیاسیات میں بھی عام استعمال ہوتی ہے۔

جب کسی کی ڈور کہیں اور سے ہلائی جائے تو وہ کٹھ پتلی ہی ہوتا ہے، پچھلے کئی سال سے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کے ججوں کو بر سرعام کٹھ پتلی جج کہا جاتا ہے کہ ان کی ڈوریاں وہاں کے جرنیل ہلاتے ہیں۔ اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ بہت سے ملکوں کی طرح بنگلہ دیش میں بھی کٹھ پتلی جج پائے جاتے ہیں۔ حالیہ مثال بنگلہ دیش کے پچھلے چیف جسٹس سریندر کمار سنہا کی ہے جو کٹھ پتلی تماشہ پر ناچتے ناچتے بالآخر پہلے آسٹریلیا اور پھر کینیڈا بھاگ گئے ہیں۔بنگلہ دیش کے کٹھ پتلی چیف جسٹس کی کہانی کیا ہے؟

بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے ہمیں ہزار اختلافات ہوں، ان کی پاکستان سے دشمنی اور بھارت کی چمچہ گیری بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، جنگی جرائم کے نام پر بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے معزز اور بزرگ راہنماؤں کی سقوطِ ڈھاکہ کے پینتالیس چھیالیس سال گذرنے کے بعد پھانسیاں بھی انتہائی شرمناک ہیں کہ یہ عورت پاکستان سے اپنی نفرت میں کسی بھی حد تک جانے کے لئے ہر وقت تیار رہتی ہے۔

یہ وہ حقائق ہیں جنہیں کوئی ذی شعور شخص نہیں جھٹلا سکتا، ویسے بھی وہ پاکستان کو دو لخت کرنے والے مرکزی کرداروں میں ایک بڑے کردار شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی ہے ۔ بنگلہ دیش بنانے کے صرف ساڑھے تین سال بعد ہی شیخ مجیب الرحمان اپنے ہی فوجیوں کے ہاتھوں پورے خاندان سمیت قتل کر دئیے گئے تھے، لیکن ان کی یہ ایک بیٹی بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے قتل ہونے سے بچ گئی تھی۔

اس کے بعد یہ عملی سیاست میں آگئی اور اس کی ساری عمر پاکستان سے نفرت کرتے گذری ہے جس میں اس نے بنگلہ دیش کو بھارت کا طفیلی ملک بنا دیا ہے۔ ان ہزار خرابیوں اور اختلافات کے باوجود شیخ حسینہ واجد کو بہر حال ایک کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ پچھلے سوا تین سال سے بنگلہ دیش میں پارلیمان کی بالادستی کی جنگ جاری ہے ۔

بنگلہ دیشی جرنیل اپنے کٹھ پتلی ججوں کے ذریعہ پارلیمان کو زیر کرنے کے حربے آزما رہے ہیں، لیکن بنگلہ دیشی سیاست دان انہیں ناکام بنارہے ہیں۔بنگلہ دیشی پارلیمنٹ نے 17 ستمبر2014ء کو سولہویں آئینی ترمیم تین چوتھائی سے بھی زیادہ اکثریت سے منظور کی جس میں پارلیمنٹ کو اختیار دیا گیا کہ وہ ان ججوں کو ہٹا سکتی ہے، جن پر مس کنڈکٹ، کرپشن یا نا اہلیت کے الزامات ہوں۔

اس آئینی ترمیم کی ضرورت اس لئے بھی پیش آئی کیونکہ بنگلہ دیشی جرنیل سپریم کورٹ کے ججوں کو کٹھ پتلیوں کی طرح استعمال کر رہے تھے۔ اس آئینی ترمیم کو بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے 5 مئی 2016 ء کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد ایک طرف پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ براہ راست ایک دوسرے کے مد مقابل آگئے اور دوسری طرف وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سریندر کمار سنہا کے درمیان کھلی جنگ شروع ہو گئی۔

حکومت نے سولہویں ترمیم کو کالعدم قرار دینے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی لیکن حسب توقع وہ بھی مسترد ہو گئی۔ اس موقع پر پارلیمنٹ میں موجود تمام پارٹیوں نے خواہ ان کا تعلق حکومتی اتحاد سے تھا یا اپوزیشن سے یک زبان ہو کر اعلان کیا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کریں گی، کیونکہ چیف جسٹس ایک کٹھ پتلی بن چکے ہیں، جن کی ڈورآرمی چیف اور دوسرے سرکردہ جرنیلوں کے ہاتھ میں ہے۔

صرف یہی نہیں حکومت چیف جسٹس کے منی لانڈرنگ، مالی کرپشن اور بے ضابطگیوں کے گیارہ ریفرنسز بہت سے ثبوتوں کے ساتھ سامنے لے آئی جس پر چیف جسٹس نے رفو چکر ہونے میں ہی اپنی عافیت جانی۔کچھ ماہ سے تنازعہ اتنا شدت اختیار کر چکا تھا کہ بالآخر کٹھ پتلی چیف جسٹس طویل رخصت پر پہلے آسٹریلیا اور پھر کینیڈا چلے گئے اور پھر وہیں سے اپنا استعفیٰ بھج دیااب وہ مستقل طور پر کینیڈا میں ہی سکونت اختیار کریں گے۔

بنگلہ دیش میں بھی کبھی مارشل لاء لگا کرتے تھے اور فوج کا جب دل کرتا وہ اقتدار پر قبضہ کر لیتی تھی۔ جوں جوں بنگلہ دیشی عوام کی فوج کے خلاف مزاحمت بڑھی،جرنیلوں کے لئے ملک میں براہ راست مارشل لاء لگانا مشکل ہوتا چلا گیا اور ایک وقت وہ بھی آیا جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو 2007ء میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل معین الدین احمد نے امریکہ سے عالمی بینک کے ایک سابق اہلکار فخرالدین احمد کو امپورٹ کرکے زبردستی ملک میں دو سال کے لئے ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کر دی۔

یہ ایک کٹھ پتلی حکومت تھی جس کی ڈوریاں جرنیل ہلا رہے تھے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سید مدثر حسین نے اس غیر آئینی حکومت پر مہر تصدیق ثبت کی۔ دو ماہ بعد جب وہ ریٹائر ہوئے تو نئے چیف جسٹس روح اللہ نے وہ تمام رٹ پٹیشنز خارج کر دیں جن میں اس ناجائز حکومت کو چیلنج کیا گیا تھا، کیونکہ ان دونوں کٹھ پتلی چیف جسٹسوں کی ڈوریاں آرمی چیف کے ہاتھ میں تھیں۔ بنگلہ دیشی عوام نے اس ٹیکنو کریٹ حکومت کی بھی مزاحمت کی اور انجام یہ ہوا کہ جنرل معین الدین احمد اور فخرالدین احمد دونوں امریکہ بھاگ گئے اور ملک میں سیاسی فرنٹ پر دوبارہ شیخ حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ضیاء براجمان ہو گئیں، بنگلہ دیش کی حد تک ٹیکنوکریٹ حکومت کا آئیڈیا ہمیشہ کے لئے دفن ہو گیا۔ جب بنگلہ دیشی جرنیلوں نے دیکھا کہ مارشل لاء لگانا مشکل ہو چکا ہے اور ٹیکنو کریٹ حکومت بھی بے کار آئیڈیا ہے تو فوجی دماغوں نے ججوں کو بطور کٹھ پتلی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد ججوں نے عوام کے منتخب نمائندوں کے خلاف محاذ کھول لیا۔

بہرحال چیف جسٹس کے بھاگ جانے کے بعد اس کٹھ پتلی تماشہ کا ڈراپ سین تو ہو گیا، لیکن اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔بنگلہ دیش میں اسٹیبلشمنٹ کی پے درپے ناکامیوں کے بعد کچھ سوالات ہر شہری کی زبان پر آ گئے ، مثلاًایک جمہوری ملک میں بالا دست کسے ہونا چاہئے؟ پارلیمان کو یا اسٹیبلشمنٹ کو؟ کیا جج اور جرنیل وہ مقدس گائے ہیں جو احتساب سے بالاتر ہیں؟ جرنیل جب چاہے آئین توڑتے رہیں ،عوام کے مینڈیٹ کو پاؤں تلے روندتے رہیں اور جج ان کی تمام غیر آئینی کارروائیوں پر مہر تصدیق ثبت کرتے رہیں؟کیا جج ہمیشہ کٹھ پتلیوں کا کردار ہی ادا کرتے رہیں گے یا عوام کے دئیے گئے مینڈیٹ کے مطابق غیر منتخب اور غیر جمہوری طاقتوں کا محاسبہ کریں گے اور انہیں قرار واقعی سزائیں دیں گے۔ آج سے ڈھائی ہزار سال پہلے ہیروڈوٹس کی تحریروں میں کٹھ پتلی عدالتوں کا ذکر ہے جو طاقتور جرنیلوں کے اشاروں پر ناچتی اور غلط فیصلے دیتی تھیں۔

یہ سلسلہ آج بھی اسی طرح جاری ہے، لیکن بنگلہ دیشی سیاست دانوں کی کٹھ پتلی جج کے سامنے مزاحمت بہر حال روشنی کی ایک کرن ضرور ہے، خاص طور پر ان ملکوں کے لئے جہاں ابھی تک اندھیرے چھائے ہوئے ہیں۔

مزید : کالم