چیئرمین نیب کے دعوے اور عزائم: ست بسم اللہ

چیئرمین نیب کے دعوے اور عزائم: ست بسم اللہ
 چیئرمین نیب کے دعوے اور عزائم: ست بسم اللہ

  

جس طرح دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے، اِسی طرح پاکستان میں اگر کوئی اچھے دعوے کرے تو اُن پر شک ہونے لگتا ہے۔اصل میں نیچے سے اوپر تک ہمارے ہاں وعدے اور دعوے کرنے والے تو بہت ملیں گے، لیکن عمل کرنے والے خال خال ہی نظر آئیں گے۔

جس مُلک کی ستر سالہ تاریخ میں عوام نے سوائے وعدوں کے اور کچھ نہ دیکھا ہو، وہاں اِس قسم کی بے یقینی کا پیدا ہونا عین فطری بات ہے۔

مجھے ہر اُس ڈپٹی کمشنر پر شک ہونے لگتا ہے،جو کسی ضلع میں عہدے کا چارج سنبھالتے ہی یہ بیان داغتا ہے کہ اُس کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں،نیز اب اُس کے دفتر میں رشوت خور اور عوام کو تنگ کرنے والے سرکاری ملازمین کے لئے کوئی جگہ نہیں۔

مجھے یوں لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے اندر کی کرپشن چھپانے اور اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے ایسا کہہ رہا ہے،جب کوئی پولیس افسر کسی ضلع کا ڈی پی او بن کر آتا ہے تو حالات کے رنگ میں رنگے جانے سے پہلے کالی بھیڑوں کو محکمے سے نکالنے کی بھڑک ضرور مارتا ہے۔

سیانے کہتے ہیں کہ وہ ایسا کالی بھیڑوں کو پیغام دینے کے لئے کہتا ہے کہ اب محکمے میں رہنا ہے تو اکیلے کھانے کی بجائے بانٹ کر کھانے کے طریقے پر عمل کرنا ہو گا۔روزانہ ہی اضلاع کے ڈی پی او بدلتے ہیں،مگر نہیں بدلتا تو پولیس کا رویہ نہیں بدلتا۔

اِس کا واضح مطلب یہ ہے کہ سب ڈرامہ ہے اور اپنا اُلو سیدھا کرنے کا ایک حربہ ہے،کوئی ایمانداری سے کام نہیں کرنا چاہتا، سب اپنی پوسٹنگ کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا کر گھر بھرنا چاہتے ہیں،کیونکہ پھر نجانے ایسی پوسٹنگ ملے یا نہ ملے۔

یہ سب باتیں مجھے اِس لئے یاد آ رہی ہیں کہ نئے چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے لاہور میں نیب افسران سے خطاب کرتے ہوئے لمبے چوڑے دعوے کئے ہیں۔ ایک اچھی بات تو یہ فرمائی کہ نیب کو کسی کی تضحیک کا اختیار نہیں،وہ صرف قانون کے مطابق کارروائی کر سکتا ہے۔

دوسری بات اس دعوے پر مبنی ہے کہ نیب کی نظر میں سب برابر ہیں،اس میں کسی صوبے یا طبقے کے لئے کوئی تفریق روا نہیں رکھی جائے گی۔یہ گویا اس بات کا جواب تھا کہ پیپلزپارٹی والوں کے خلاف ایک اور مسلم لیگ(ن) والوں کے خلاف دوسرا قانون موجود نہیں۔

اُن کی تیسری بات ایک بڑے دعوے پر مبنی تھی کہ مُلک اِس وقت معاشی طور پر مقروض ہے، نیب لوٹی ہوئی دولت برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے گا۔

اس سے پہلے وہ یہ تو کہہ ہی چکے تھے کہ نیب کرپشن کو جڑ سے ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کے لئے پوری کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔

اب بتایئے چیئرمین نیب کی یہ سب باتیں شکوک و شبہات پیدا کرنے والی ہیں یا نہیں؟ویسے تو سابق چیئرمین نیب قمر الزمان بھی یہی کہتے سبکدوش ہو گئے کہ کرپشن کے حوالے سے نیب زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

یہ زیرو کون سا تھا دائیں والا یا بائیں والا، اس کی انہوں نے کبھی وضاحت نہیں کی۔ ان کی جو کارکردگی رہی اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ زیرو ہندسوں کے بائیں طرف لگاتے رہے یعنی صفر جمع صفر، اگرچہ انہوں نے احتساب کا شوروغل بہت کیا، تاہم اب پتہ چل رہا ہے کہ وہ انڈوں پر بیٹھی ہوئی مرغی جیسے تھے، جو سب کچھ چھپائے رکھتی ہے۔ اب جسٹس (ر) جاوید اقبال آئے ہیں تو فی الوقت ایک کھڑکا دھڑکا نظر آ رہا ہے۔

کیس کھل رہے ہیں، نئے کیسوں پر کام ہو رہا ہے، میڈیا کو بریکنگ نیوز مل رہی ہیں، یوں دکھائی دیتا ہے جیسے مُلک میں احتساب کی ہوا چل پڑی ہے، لیکن مجھ جیسے سدا کے قنوطی یہی سوچ رہے ہیں کہ ایک نیا ڈرامہ شروع ہوا ہے، ایک نئی دھاک بٹھانے کی تیاری ہے، وگرنہ کچھ بھی نہیں ہونے والا کہ یہاں گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے بعد انہیں دوبارہ گملوں میں سجا دیا جاتا ہے۔ سب سے بڑی خرابی جو ہمارے احتساب کو چھپکلی بن کر چپکی ہوئی ہے، وہ اس کی سست رفتاری ہے۔

سپریم کورٹ نے جب شریف خاندان کے خلاف کیسوں کو چھ ماہ میں مکمل کر کے فیصلہ کرنے کا حکم دیا تو سب حیران ہوئے کہ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے، مگر جب نیب قانون کی طرف دیکھا گیا تو عقدہ کھلا کہ وہاں تو احتساب عدالت 30 دنوں میں فیصلہ سنانے کی پابند ہے۔

گویا اس قانون کو بنانے والوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، مگر احتساب عدالتوں اور خود نیب نے ساری کسریں نکال دیں، مقدمات کے فیصلے دس دس سال نہیں ہوتے، نیب کی تحقیقات برسوں مکمل نہیں ہوتیں،اس کے باوجود نہ تو کسی کے خلاف اس تساہل پر کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی حکمتِ عملی وضع کی جاتی ہے۔

آج کل ملک جس سیاسی بحران سے دو چار ہے، اگر گہری نظر سے اس کا جائزہ لیا جائے تو بات اس نکتے پر آکر رک جائے گی کہ مُلک میں احتساب نہ ہونے کی وجہ سے سیاست اور جمہوریت کو نقصان پہنچا۔ آج کرپشن کی وجہ سے نوازشریف نا اہل ہوئے ہیں، مگر ان کا سیاسی قد کاٹھ موجود ہے، اُنہیں دوبارہ پارٹی کی صدارت کا مینڈیٹ بھی مل گیا ہے۔ ان کے خلاف یہ سب کیس نئے نہیں، بہت پرانے ہیں۔ حدیبیہ پیر مل کیس تو بہت پرانا ہے، مگر اس کے بارے میں نہ تو بروقت فیصلے ہوئے نہ تفتیش کی گئی۔

آصف علی زرداری گیارہ سال جیل میں رہے، مگر ان پر ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہ کی جا سکی، آج وہ دامن جھاڑ کے کہتے ہیں لاؤ کوئی اور الزام مجھ پر ہے، تو لگاؤ، مَیں اُسے بھی غلط ثابت کر دوں گا۔ یہ ڈاکٹر عاصم حسین تو ابھی کل پکڑا گیا تھا۔ ساڑھے چار سو ارب کی کرپشن کے الزامات لگے تھے، نیب نے آسمان سر پر اُٹھا لیا تھا، اب نہ ان الزامات کی کوئی خبر ہے اور نہ ڈاکٹر عاصم حسین جیل میں ہے، اُلٹا نیب کو لالے پڑے ہوئے ہیں کہ جو دعوے کئے تھے، انہیں سچ کیسے ثابت کرے۔

اب شرجیل میمن قابو آئے ہوئے ہیں،ادھر ماضی کے دو وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف پانچ برسوں سے نیب کی تاریخیں بھگت رہے ہیں، کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ رہا۔

آخر چکر کیا ہے نیب کِس تالاب میں ہاتھ ڈالتا ہے کہ جہاں مچھلیاں اُس کے قابو میں نہیں آتیں۔

اب اس تناظر میں اگر مسلم لیگ(ن) والے،مریم نواز اور دوسرے یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ صرف ہمارے خلاف ہی اتنی پھرتیاں کیوں دکھائی جا رہی ہیں، تو انہیں غلط کیسے کہا جائے؟ چیئرمین نیب کی بہ بات بڑی بروقت ہے کہ نیب امتیازی سلوک کے تاثر کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو گا اور کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی، تاہم اگر وہ نیب کے اندر کوئی احتسابی عمل متعارف نہیں کراتے تو یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکے گی۔ پولیس والوں کا اکثر یہ وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ تفتیش کو لمبا کرتے ہیں۔

اس کا مقصد رشوت کے مواقع بڑھانا ہوتا ہے، کیونکہ تفتیش چلتی رہے گی تو رقم ملتی رہے گی،جونہی ایک بار چالان عدالت میں پیش ہو گیا، پھر معاملہ پولیس کے ہاتھ میں نہیں رہتا۔نیب کے اندر اِس معاملے میں کیا طریقہ کار رائج ہے،تفتیشی افسران پر کیا پابندیاں ہیں، کیا نیب میں افسران کی کمی ہے کہ وہ تحقیقات میں اتنا طویل عرصہ لگا دیتے ہیں؟ یہ درست کہ وائٹ کالر کرائمز کو پکڑنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑ تی ہے،مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ نیب کو عام پولیس کے مقابلے میں کتنے وسیع اختیارات دیئے گئے ہیں۔

وہ ملزم کو ایک طویل مدت تک اپنی تحویل میں رکھ سکتے ہیں، جس محکمے اور ادارے سے چاہیں معلومات اور مدد لے سکتے ہیں۔ اگر نیب کی تحقیقات اور پراسیکیویشن کچھوے کی رفتار سے چلے گی تو احتساب ایک مذاق ہی بنا رہے گا۔حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ اس وقت نیب کے چیئرمین ایک سابق سینئر جج ہیں،جنہوں نے قانونی موشگافیوں اور مقدمات کے چالان نیز اُن کی سماعت کو خود بہت قریب سے دیکھا ہے۔

امید ہے اپنے اِس تجربے کو بروئے کار لا کر وہ نیب کی تحقیقات، ریفرنسز کی تیاری اور احتساب عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے حوالے سے نیب کی کارکردگی کو بڑھانے پر بھرپور توجہ دیں گے۔

اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے تو اُن کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوگا کہ نیب مُلک سے کرپشن ختم کرنے کا پکا عہد کئے ہوئے ہے اور اس عہد کی تکمیل کے لئے صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

مزید :

کالم -