لاہور لیڈز یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن کی باوقار تقریب

لاہور لیڈز یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن کی باوقار تقریب

  

لاہور لیڈز یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن کی شاندار تقریب گزشتہ دِنوں ایوان اقبال کمپلیکس میں منعقد کی گئی۔تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی آفیئرز رانا ثناء اللہ خاں تھے۔ انجینئرنگ،مینجمنٹ سائنسز، کامرس، کمپیوٹ سائنسز، اُردو،اسلامیات،ماس کمیونی کیشن، ایجوکیشن اور انگریزی ودیگر شعبہ جات کے 800 سے زائد بی اے،بی ایس آنرز،ایم اے ،ایم ایس سی ، ایم ایس اور ایم فل کے گرا یجوئٹس کو ڈگریاں عطا کی گئیں۔اس شاندار تقریب میں چیئرمین بورڈآف گورنرزمیاں عبدالغفور وٹو،صدر یونیورسٹی میاں ظہور احمد وٹو، ممبر قومی اسمبلی میاں معین وٹو اورایڈوائزریونیورسٹی پروفیسرز اشہد احمدنے شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت پرو وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالمجید چیمہ نے کی۔ رجسٹرار یونیورسٹی نورالامین ہوتیانہ نے میزبانی کے فرائض ادا کئے۔ڈینز و صدور شعبہ جات ڈاکٹر نسیم ریاض بٹ،ڈاکٹر محمود اظہر،ڈاکٹر عبدالروف بٹ، ڈاکٹر باسط، ڈاکٹر عزیز حیدر،ڈاکٹر اقبال نکیانہ،ڈاکٹر مجاہد منصوری، ڈاکٹر نوازش علی، ڈاکٹر سلیم اقبال علوی،ڈاکٹر تنویر احمد، ڈاکٹرعابدہ رحمان،ڈاکٹر خاور بیگ،ایڈوکیٹ محمد یونس،ڈاکٹر احمد الدین، ڈاکٹر طارق عزیز ،انجینئر حیدر علی خا ں،فیض الباری ، منظور الحسن نیازی اورڈائریکٹرسٹوڈنٹ آفیئرزتنویر عباس تابش سمیت کثیر تعدادمیں فیکلٹی ممبران ،ایڈمنسٹریٹو سٹاف اورمعزز مہمانان گرامی نے شرکت کی۔مہمان خصوصی رانا ثناء اللہ کی آمد پر حاضرین محفل نے ان کاپر تپاک استقبال کیا۔ تقریب کا باقائدہ آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کیا گیا۔تقسیم اسناد شروع کرنے سے پہلے قومی ترانہ بجایا گیا۔ جس کے احترام میں تمام شرکاء محفل اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔رجسٹرار نورالامین ہوتیانہ نے ایوارڈز کا اعلان کرتے ہوئے رول آف آنرز اور میڈل کے لئے سول انجینئرنگ کے طالبعلم محمد تابین البراکات کو سٹیج پر بلایا۔ حاضرین نے پرجوش تالیوں سے استقبال کیا۔ اسی طرح مختلف شعبہ جات کے 9 طالب علموں کو بہترین کارکردگی سرٹیفکیٹ اور 26 طلبا وطالبات کو امتیازی سرٹیفکیٹ کے ایوارڈز دیئے گئے۔ معزز مہمان گرامی نے تمام ایوارڈز طلبہ و طالبات میں تقسیم کئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی صوبائی وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ خاں نے کہا کہ قلیل مدت میں لاہور لیڈز یونیورسٹی کی قابل قدر کامیابی اور ترقی اطمینان بخش اور قابل تحسین ہے۔اعزاز یافتگان کی کار کردگی کو سراہتے ہوئے یونیورسٹی کے گریجوائٹس،اساتذہ اور انتظامیہ کو مبارک باد دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت یونیورسٹی ایجوکیشن پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔اس کام کے لئے خطیر فنڈز اور وسائل فراہم کئے گئے ہیں۔آنے والے دنوں میں اس سیکٹر میں مزید وسعت اور ترقی کیلئے مختلف منصوبوں پر غور ہو رہا ہے۔لاہور میں بین الاقوامی معیار کی آٹی یونیورسٹی کا قیام اس ضمن میں پہلا قدم ہو گا۔

اس سے قبل پرو وائس چانسلر لاہور لیڈز یونیورسٹی ڈاکٹر عبدالمجید چیمہ نے یونیورسٹی کا تعارف کراتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا دن تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔لیڈز یونیورسٹی کاعمل پیہم،جہدمسلسل اور کوشش مکررسے آراستہ وسعتوں،رفعتوں اور بلندیوں سے سجا تعلیم و تدریس اور آگاہی کا بے مثال سفرجاری ہے جس معیاری تعلیم وتربیت کو ایک نمایاں ،مستند،روشن اور درخشاں مقام حاصل ہے۔ مختصر مدت میں لیڈزیونیورسٹی نے بے پناہ کامیابیاں وکامرانیاں حاصل کی ہیں۔ آج کے طالبعلم کل کے قومی لیڈرز‘ کا مقصد لے کر لاہور لیڈز یونیورسٹی کا قیام لیڈز ایجوکیٹرویلفیئرٹرسٹ کے زیر اہتمام22 جنوری 2011ء میں پنجاب اسمبلی کے ایکٹ The Lahoore LEADS University Act,2011 کے ذریعے عمل میں آیا۔لاہور لیڈز یونیورسٹی پنجاب گورنمنٹ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ جب کہ تمام Accreditation باڈیز سے Approved پروگرامات کی بدولت7سال کے قلیل عرصے میں تعلیمی میدان میں نمایاں مقام حاصل کر چکی ہے۔ لیڈز یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کے تمام پیمانوں پر پورا اترتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)سے منظور شدہ چارٹررڈ یونیورسٹی ہے۔جسے HEC کی بہترین رینکنگ W کیٹیگری حاصل ہے۔ لیڈز گروپ(جس میں لیڈز سکول سسٹم،لیڈز گروپ آف کالجز اورلاہور لیڈز یونیورسٹی کے پروجیکٹس شامل ہیں) کا آغاز لیڈز ایجوکیٹرویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام 1998ء میں کیا گیا ۔’کوالٹی ایجوکیشن سب کے لئے ہمارا اولین مقصد ہے جس کے لئے ذہین اور ضرورت مند طالب علموں کو ہرسال لاکھوں روپے کے وظائف دیے جاتے ہیں ۔بلند معیار تعلیم کے ساتھ طالبعلموں میں غیر نصابی سرگرمیوں کے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا بھی یونیورسٹی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ طالبعلوں کو بہترین تعلیمی ماحول، اعلی معیار اور جدید سہولیات مہیا کر کے نہ صرف ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔ انجینئرنگ، بینکنگ اینڈ فنانس، کمپیوٹر سائنسز، بزنس ایڈمنسٹریشن ،فارمیسی اور سوشل سائنسزسمیت 6 فیکلٹیز کے زیراہتمام 22 ڈیپارٹمینٹس میں قلیل عرصے میں چارہزار سے زائد طالبعلم زیر تعلیم ہیں۔ ان شعبہ جات میں20 انڈر گریجوایٹس ، 14ماسٹرز اور24 ایم فل ڈگری پروگرامز آفر کئے جا رہے ہیں۔مختلف شعبہ جات میں 52پی ایچ ڈی اساتذہ سمیت 100 سے زائدایم فل فیکلٹی ممبرز بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت دے رہے ہیں۔ان میں بیشتر دنیا بھر کی بہترین یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پروفیشنل کورسز ڈیزائن کیے جاتے ہیں تاکہ طالبعلم یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کر کے مارکیٹ میں بہترین پوزیشنز پر فائز ہو سکیں۔بین الاقوامی معیار کو حاصل کرنے کے لئے کلاس رومز میں ملٹی میڈیا،ویڈیوکانفرس ، ائیرکنڈیشنرزسمیت جدید سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔80 فیصد سے زائد مستحق اور ذہین طلباو طالبات کو تعلیمی وظائف بھی دیئے جاتے ہیں ۔ وظائف کی میرٹ پر تقسیم کیلئے رواں سال میں 45 ملین کا فنڈرکھا گیا ہے۔ا نھوں نے مزید کہا کہ لیڈز یونیورسٹی میں طلباو طالبات کی تعلیمی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ کھیل کی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ اور وسائل خرچ کیے جاتے ہیں۔بین الاقوامی تعلیمی معیار سے استفادہ کرنے اور طالبعلموں کی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کو بڑھانے کے لئے لاہور لیڈز یونیورسٹی کا امریکہ، ترکی،تھائی لینڈ،متحدہ عرب امارات ،ملائشیااور جنوبی کوریا کی بہترین رینکنگ کی حامل یونیورسٹیوں سے الحاق ہے ۔ جہاں سے اکثر بیشتر ماہرین کی ٹیمیں لاہور لیڈز یونیورسٹی کا دورہ کرکے مختلف شعبہ جات کے طلباء و طالبات کو انٹرنیشنل تعلیمی رحجانات کی تربیت بھی دیتے ہیں۔ ذہین طلباء و طالبات کو بھی ان یونیورسٹیوں کے وسائل پر دسترس حاصل ہے۔ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے کو لاہور لیڈز یونیورسٹی میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ لوکل اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے طلبا اور اساتذہ کو ریسرچ کے لئے فنڈز سمیت تمام سہولیات مہیا کی جاتی ہیں ۔اس مقصد کے لئے یونیورسٹی میں ORIC (Office of research innovation and commercialization) کے نام سے ایک تحقیقی ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ جو کہ پروفیشنل صنعتی اداروں کی ضرویات پوری کرنے کے لئے اساتذہ اور طلبا و طالبات کو موضوع کے انتخاب میں بھی مددفراہم کرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ایک دوسراادارہ BASR (Board of Advanced Studies and Research )بھی تحقیق اور کوالٹی ایجوکیشن کے میدان میں سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ الحمدللہ لاہور لیڈز یونیورسٹی کو اعلیٰ تعلیمی خدمات کے اعتراف میں امریکی قونصل جنرل Mr. Zachary V Harkenrider نے ISO ورلڈ بیسٹ ایوارڈز سے نوازا ہے۔ لاہور لیڈز یونیورسٹی لاہور کی پہلی یونیورسٹی ہے جسے یہ نمایاں اعزاز حاصل ہے۔مستقبل کی پلاننگ میں ہائر ایجوکیشن کے کئی ڈگری کورسز شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ ماس کمیونیکیشن، بزنس ایڈمنسٹریشن، ایجوکیشن، انگریزی، کمپیوٹر سائنسز، اسلامیات سمیت کئی ڈیپارٹمنٹس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری شروع کرنے کی تیاریاں ہیں ۔ مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پوراکرنے کے لئے لاہور لیڈز یونیورسٹی مثبت کردار ادا کررہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لاہور لیڈز یونیورسٹی کو معیاری تعلیم و تربیت،بہترین فیکلٹی،بہترین انفراسٹرکچر،غیر نصابی سرگرمیوں، سکالرشپ، سپورٹس کے میدانوں، ٹرانسپورٹ،ڈیجیٹل لائبریری، جدید کمپیوٹرلیب، اچھے تعلیمی ماحول اور مناسب فیسوں نے دوسری یونیورسٹیوں سے نمایاں کر دیا ہے۔ لیڈزیونیورسٹی نے اپنے متحرک فکری و عملی کردار کی بدولت بہت جلد طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کا اعتماد حاصل کیا ہے اور نوجوانوں کی فکری رہنمائی اور عملی تربیت کو قومی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے۔طالبعلموں کو جدید علوم ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مختلف فنون و شعبہ جات میں تربیت دے کر ملک کی تیز رفتار ترقی اورخوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر کریں گے۔لیڈز پلیسمنٹ بیورو زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی رہنمائی ،ان کے بروقت مسائل کا حل اور گریجوائٹس کے لئے روز گار کے مواقع تلاش و فراہم کرنے میں مصروف عمل ہے ۔ہم بحیثیت ادارہ ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لئے صنعتوں کے ساتھ مشاورتی ربط کو مضبوط کرنے میں کوشاں ہیں۔پرو وائس چانسلر کے بعد ممبر قومی اسمبلی اور ممبر بورڈز آف گورنرز لیڈز یونیورسٹی میاں معین وٹو کو خطاب کے لئے دعوت دی گئی۔ انھوں نے مہمان خصوصی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے کہا کہ ہم نے یونیورسٹی کے قیام کے وقت جو سوچا تھا اس کی تعبیر آپ کے سامنے ہے۔ کوالٹی ایجوکیشن اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق گرایجوئٹس کی تربیت کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔کانووکیشن تقریب کے آخر میں گرایجوئٹس میں تقسیم اسناد کے لئے سٹالز بنا دیئے گئے۔تقریب کے اختتام پر گروپ فوٹو بھی بنائے گئے۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -