جامعات میں جذبہ برداشت کے فروغ کی ضرورت

جامعات میں جذبہ برداشت کے فروغ کی ضرورت

ڈائریکٹر میڈیا اینڈ پبلی کیشنز، یونیورسٹی آف گجرات

Email:sheikhrashid.uog@gmail.com

جامعات علم و تہذیب کے وہ روشن مینار ہیں جہاں سے عقل و فہم کے تابناک سورج طلوع ہو کر امن عالم کے سنہری اُفق پر روشن ہوتا ہے اور اپنی تابانی سے نسل انسانی کے فہم کو ضوفشاں کرتا ہے۔ جامعات کا فریضہ صرف اعلیٰ تعلیم کی فراہمی نہیں بلکہ فکری و سماجی راہنمائی کے ذریعے طلبہ کی ایسی ذہن سازی ہے جوا نہے معاشرتی شعور سے بہرہ ور کرتے ہوئے انہے انسانیت کی خدمت کی جانب مائل کر دے۔ مختلف موضوعات پر مکالمہ و مباحثہ سماج کے عدم توازن سے نجات کے لیے ناگذیر ہے۔ آج کے عہد میں تعلیم کو اقوام عالم کو متحد کرنے اور مختلف معاشروں کی اصلاح و تربیت میں کلیدی مقام حاصل ہے۔برداشت و رواداری کے کلچر کو پروان چڑھانے میں تعلیم و تربیت کے لامتناہی کردار کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یونیورسٹیاں ہمارے ہاں خیالات و افکار ، جدت و اختراع اور نئے علوم و فنون کو پروان چڑھانے کے اداروں کی حیثیت سے اس امر کی بھی ذمہ دار ہیں کہ وہ طالبعلموں میں ذمہ دار شہری اور مثبت فکر انسان بننے کا جذبہ بھی اُجاگر کریں۔ جمعرات کے روز یونیورسٹی آف گجرات کے شعبہ علوم اسلامیہ نے ’’جامعات میں جذبہ برداشت کے فروغ کے ذرائع‘‘ کے موضوع پر اہم فکری سیمینار کا اہتمام کر رکھا تھا۔ چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل ، پاکستان ڈاکٹر قبلہ ایاز مہمان خصوصی اور دانشورکالم نگار و ممبر اسلامی نظریاتی کونسل جناب خورشید ندیم مہمان اعزاز تھے۔ جامعہ گجرا ت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے صدارت کی۔

ہر سال 16نومبر کو عالمی یوم برداشت منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنے پچاسویں یوم تاسیس کے موقع پر 16نومبر1995ء یونیسکو کے رُکن ممالک نے برداشت کے اُصولوں کے اعلامیہ کو دنیا بھر میں برداشت اور رواداری کے روّیوں کی ترویج کو ترقی کے لیے تشکیل دیا۔ برداشت کا عمومی مطلب آفاقی سطح پر انسانی حقوق کا تحفظ اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کی بنیادی آزادی کو ممکن اوریقینی بنانا ہے۔ نا انصافی ، تشدد ، نسلی امتیاز اور عوام الناس کی بنیادی آزادی سلب کرنے جیسے اُمور عدم برداشت کے شاخسانے ہیں۔ ان سبھی روّیوں سے نمٹنے کے لیے قوانین سازی اور قوانین پر عمل پیرائی کی ضرورت ہے۔ وسیع تر سطح پر عوام الناس اور نوجوان طبقہ کے لیے تعلیم و تربیت کا مربوط نظام بھی معاون ہو سکتا ہے۔ عدم تشدد کے روّیوں کو فروغ دینے کے لیے اطلاع و نشریات کا مؤثر نظام تشکیل دینا ضروری ہے تو عدم تشدد کو یقینی بنانے کے لیے شخصی سطح پر آگاہی و شعور لازم ہے۔ جامعہ گجرات کے شعب�ۂ علوم اسلامیہ کے چیئر مین ڈاکٹر ارشد منیر لغاری کی میزبانی میں سجی یہ محفل اسی آگاہی و شعور کا پیغام لیے ہوئی تھی اور شعب�ۂاسلامیات کے ڈاکٹر محمد نواز، ڈاکٹر ریاض احمد ودیگر کے حُسنِ انتظام کا منہ بولتا ثبو ت بھی ، ڈاکٹر ارشد منیر لغاری کی بلاغت نے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ محترم خورشید ندیم کا کہنا تھا کہ برداشت ہمہ گیر معنی و مفہوم کا حامل لفظ ہے۔اسلامی روایت برداشت سے آگے بڑھتے ہوئے تنوع کے احترام سے روشناس کرواتی ہے۔ الٰہی سکیم سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تنوع کی پذیرائی لازم ہے۔ مختلف مکاتب ہائے فکر اور خیال کے سانچے تنوع کے مختلف مظاہر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کو تنوع کے اُصول اور قانونِ آزمائش پر کھڑا کیا ہے۔ برداشت وتحمل احترام انسانیت کی سنہری اقدار میں شامل ہے۔ نوجوانوں کو احسن طرز عمل یعنی برداشت سے روشناس کروانا عظیم قومی و انسانی خدمت ہے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جذبہ برداشت کے فروغ سے ایک پُر امن پاکستان کی تعمیر ممکن ہے ہمارے نوجوان طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کو پُر امن بنانے کی خاطر احترام ، قبولیت، برداشت اور رواداری کی روایات کو فروغ دینے کے لیے سماجی سفیر کا کردار ادا کریں۔ ماعون یعنی خندہ پیشانی کے حامل لوگوں کا معاشرہ کامیابی و کامرانی سے فیض یاب ہوتا ہے۔ قبلہ ایاز نے خوبصورتی سے موضوع کا محاکمہ کیا اور مزید کہا کہ عالمگیریت اور بین الاقوامیت کی موجودہ مقابلہ جاتی فضا میں اجتماعی روّیوں کے لیے مثبت سمت اور جہت کا تعین لازم ہے۔ موجودہ نسل کو درپیش مسائل کا بہترین حل انسانی اقدار کے احترام و قبولیت میں پوشیدہ ہے۔ عصر حاضر کی کھلی منڈی کی معیشت یعنی سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی تفاوت کے معکوس اثرات تمام طبقات کو متاثر کر رہے ہیں۔ بعد از سی پیک پاکستان میں قومی منزل کا تعین امرِ لازم ہے۔ معاشرتی، سماجی اقدار کا تحفظ پُر امن پاکستان کی اوّلین ضرورت ہے۔ اسلام کی صوفیانہ روایات کا احیاء برداشت و تحمل کے رویوں کے فروغ کا ضامن ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ جامعات میں امن و برداشت کے فروغ کے لیے کونسلوں کا قیام عمل میں لاتے ہوئے نسل نو کی تربیت کا پختہ نظام قائم کیا جائے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے صدارتی خطبے میں کہا کہ عدم برداشت ایک انسانی المیہ ہے۔ جذبۂ برداشت کے فروغ کے لیے تلقین کی بجائے عمل کی ضرورت ہے۔ خود اصلاحی ہی اصلاً اصلاح معاشرہ ہے۔ عدم برداشت کا اصل سبب معاشرتی و معاشی تاہمواری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم کے ساتھ پید اکرتے ہوئے وحی الٰہی کے ذریعے ایک متوازن معاشرہ قائم کرنے کی ہدایت دی۔ ڈاکٹر ضیاء القیوم نے تجویز پیش کی کہ اسلامی نظریاتی کونسل جامعات کے ساتھ باہمی شراکت کے ذریعے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سماجی مسائل پر جاری تحقیق سے استفادہ کے لیے ایک پلیٹ فارم تشکیل دے۔ڈاکٹر ارشد منیر لغاری نے کہا طلبہ ہمارے مستقبل کے معماران قوم ہیں۔ طلبہ میں برداشت و تحمل کے روّیوں کو بخوبی پروان چڑھاتے ہوئے ہم ایک مستحکم اور امن پسند پاکستان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر سکتے ہیں۔

انسانی معاشرہ ہر لمحہ جنم لیتی ہوئی نت نئی تبدیلیوں اور کبھی نہ ختم ہونے والے نئے امکانات کا رنگا رنگ مظہر ہے۔ انسان ہونے کے ناظے ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہر نیا مرحلہ تحفظ ، انسانی ضروریات کی فراہمی، خوشیوں کے حصول ، پائیدار ترقی اور تخلیقی قوت کے اعتباز سے اجتماعی معیار زندگی کو بہتر بنائیں تاکہ برداشت اور رواداری کے تصورات جزو حیات بن سکیں۔ اس آگاہی و شعور کے لیے ہمیں حریت فکر کے حامل دانشوروں کی ضرورت ہے۔ حریت فکر کا مطلب ذہنی دیانتداری کو برقرار رکھتے ہوئے سوچ اور عمل کی آزادی کو ہر ممکن حد تک قائم رکھنا ہے۔ انسانی تاریخ طاقت سے علم، جبلت سے شعور اور جنگل سے تہذیب کی طرف سفر کا نام ہے۔ جدید تمدن میں اختیار کا سر چشمہ بندوق کی گولی نہیں بلکہ علم ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو جامعہ گجرات کی طرح متحرک فکری کردار بھی ادا کرنا ہے ۔ محض اچھی نیت کی صدا لگانا کافی نہیں ہمیں اچھی فکر کی اشد ضرورت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب فہم عامہ بھی کاروباری ذہینت اور مصلحت کوشی کا شکار ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر ضیا ء القیوم جیسی وژنری اور جرأت مندی قیادت جامعات کے لیے ناگذیر ہے۔ خدا کرے ہم قومی سطح پر برداشت کے فروغ کو اپنی فکر و تربیت کا حصہ بنائیں اور ایک حقیقی انسانی معاشرہ کے قیام کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں۔

برداشت ، رواداری اور عدم تشدد کی روایات کو پروان چڑھانا ایک متوازن اور ترقی پسند معاشرہ کے خوبصورت مظاہر ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ ہو، افراد اس کی بنیادی اکائیاں ہیں۔ اب اگر ان اکائیوں میں توازن اور تناسب بدرجۂ اتم موجود ہو گا تو سمجھ لیجئے کہ معاشرہ خوشحالی، ترقی اور امن کی راہوں پر کامرانی و شادمانی سے گامزن ہے۔ افراد کے ایک گوناگوں مجموعے کو باہم امن و محبت سے اکٹھا رکھتے ہوئے ان میں باہمی مؤدت کے جذبات کو پروان چڑھانا ایک ریاست کی اوّلین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

وطن عزیز پاکستان کو لمحۂ موجود میں سیاسی، لسانی، نسلی، سماجی سطح پر کئی گھمبیر مسائل کا سامنا ہے۔ یونیورسٹیوں میں جاری تحقیق و تدریس ان تمام مسائل کا حل کامیابی سے ڈھونڈ سکتی ہے۔ ایک پائیدار معاشی ترقی، جمہوریت کے فروغ اور مختلف شعبہ جات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے وطن عزیز پاکستان کا امن کی حالت میں ہونا لازم ہے۔ امن کی یہ پختہ حالت حاصل کرنے کے لیے سوسائٹی میں برداشت، رواداری اور عدم تشدد کے احساسات کو فروغ دئیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ہماری بہت ہی کم یونیورسٹیوں میں تشدد، انتہا پسندی، دہشت گردی اور باہمی کشمکش کے حل کو تلاش کرنے کے لیے شعوری کاوشیں کی جارہی ہیں۔ وقت کا اوّلین تقاضا یہی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے علمبردار ادارے نوجوان طلبہ کی اذہان سازی کے لیے وہ تمام کاوشیں فوری طور پر بروئے کار لائیں اور اپنے نصاب میں ایسی تبدیلیوں کو جگہ دیں جو مستقبل میں ہمارے معاشرہ سے ان تمام متذکرہ عفریتوں کا قلع قمع کرنے میں ہماری مدد کر سکیں۔

میرے خیال میں ہمیں طلبہ کی توجہ ایک ایسے وسیع مکالمہ کی جانب مرکوز کروانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے معاشرہ کے تمام طبقات آپس میں مل بیٹھ کر مثبت دلائل کے ذریعے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے باہمی منافرت و مسائل کا کھلے دل سے تجزیہ کرتے ہوئے ان کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ جامعات اور اعلیٰ تعلیم کے دیگر اداروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دینے کی اشد ضرورت ہے جہاں مختلف طبقات فکر کے دانشور باہم مل بیٹھتے ہوئے ان مسائل کا حل تلاش کر سکیں جو دیمک کی طرح معاشرہ کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ طلبہ سوسائٹیاں طلبہ کو ایک ایسا ماحول اور مطابقت فراہم کرنے میں ممدو معاون ہو سکتی ہیں جو معاشرہ میں فساد و تشدد پھیلانے والے عناصر کی سرکوبی کرنے کے لیے طلبہ کی ذہنی و فکری تربیت کا فریضہ کامیابی سے سنبھال سکیں۔

*****************

مزید : ایڈیشن 1