’’پیری میں جو یوں کمر جھکی جاتی ہے‘‘

’’پیری میں جو یوں کمر جھکی جاتی ہے‘‘

  

بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہڈیاں جسم کا وہ حصہ ہیں جو جوانی سے بڑھاپے تک ہمیشہ مضبوط رہتی ہیں جبکہ حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے۔ یعنی ہڈیاں ٹوٹتی اور بنتی رہتی ہیں ہمارے جسم میں یہ عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کون سے ایسے خلیے ہیں جو ہڈیوں کو بناتے اور توڑتے ہیں آپ کو بتاتے چلیں کہ اوسٹیو کلاسٹ نامی خلیے ہڈیوں کو توڑتے ہیں ان ٹوٹی ہوئی ہڈیوں میں پرانے خلیے کی جگہ نئے خلیے بنتے ہیں جنہیں ہم میڈیکل کی زبان میں اوسٹیو بلاسٹ کے نام سے جانتے ہیں۔

اللہ کریم نے جہاں ہمیں اپنی ہزار ہا نعمتوں سے نوازا ہے اسطرح ہمارے جسم کے اندر ہڈیوں کے ٹوٹنے اور بننے کے عمل میں توازن قائم رکھ کر ہمیں زندگی بخشی ہے۔ ڈھلتی عمر، ورزش نہ کرنے، متوازن خوراک کی کمی اور عورتوں میں ماہواری بند ہونے کے بعد ہڈیوں کے ٹوٹنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے ہڈیوں کے اس ٹوٹنے کے عمل کو ہم ہڈیوں کا بھر بھرا پن کہتے ہیں۔ ہڈیوں کے اس بھربھرے پن یا خستہ ہونے کی بیماری میں ہڈیوں کو توڑنے والے خلیے یعنی اوسٹیو کلاسٹ اپنا کام تیز کرکے اوسٹیو بلاسٹ جو ہڈیوں کے جوڑنے کے خلیے ہیں ان کے کام کو ضائع کر دیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ہڈیوں کے ٹوٹنے کا عمل تیز اور بننے کا عمل سست ہونے کی وجہ سے ہڈیوں کے بھربھرے پن کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں ہڈیاں زیادہ پتلی اور زیادہ کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں اور پھر ذرا سے گرنے سے بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ جسم میں ہونے والی کچھ پیدائشی بیماریوں گلے کے گلہڑ کی بیماری، جسم کے اندر ہونے والی کچھ موروثی بیماریوں یا ایسے خواتین و حضرات جو کیلشیم، وٹامن سی، ڈی اور پروٹین کا استعمال کم کرتے ہیں وہ اور خاص طور پر ایسے لوگ جو سٹیرائڈ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں ان میں ہڈیوں کا بھربھرا پن ہونے کے چانسز زیادہ نوٹ کئے گئے ہیں۔

ہڈیوں کا بھربھرا پن ایک عام مرض ہے، ماہرینِ صحت کے مطابق یہ دنیا میں دل کے امراض کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ایک اندازے کے مطابق زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ صحّت کے تحت عالمی سطح پر ہڈیوں کے اس مسئلے سے بچاؤ اور اس سے متعلق آگاہی کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم غیرمتوازن خوراک کے علاوہ جدید طرزِ زندگی بھی اس کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہے۔ اس بیماری میں انسانی جسم کی ہڈیاں کم زور ہو کر مڑنے لگتی ہیں اور ان کے ٹوٹنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہڈیوں کی کم زوری اور بھربھرے پن کا مسئلہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں 40 فی صد زیادہ ہوتا ہے۔ 45 سال کی عمر کے بعد عورتوں میں اس بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ بیماری یوں تو پورے جسم کی ہڈیوں کو متاثر کرتی ہے، لیکن ریڑھ، کولہے اور کلائی پر اس کا زیادہ اثر پڑتا ہے۔ ہڈیوں کی مضبوطی کا تعلق سورج کی روشنی یا دھوپ سے بھی ہے۔

شہری علاقوں میں لوگ دھوپ میں نہیں نکلتے یا ان کا زیادہ وقت بڑی بڑی عمارتوں، گاڑیوں اور بند جگہوں پر گزرتا ہے جس کی وجہ سے جسم کے لیے ضروری دھوپ سے محروم رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ خوراک میں دودھ، مچھلی اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے والی دیگر اجناس کا استعمال نہ کرنا بھی اس شکایت کا سبب بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں مرد اور خواتین کا زیادہ وقت کھلی جگہ پر گزرتا ہے۔ وہ کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ ان کی غذا میں دودھ کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق آسٹیوپوروسس کی دیگر وجوہات میں بڑھتی ہوئی عمر، کیفین کا زیادہ استعمال اور کیلشیم کی کمی شامل ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس بیماری میں زیادہ تر مریض ٹانگوں، ہاتھوں یا کمر میں درد کی شکایت کرتے ہیں۔ ہڈیوں کے بھربھرے پن کا شکار فرد کسی وجہ سے گر جائے تو اس کے ہاتھوں یا پیر کی ہڈی میں فریکچر کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ہڈیوں کے بھربھرے پن سے بچنے کے لیے ماہرین چند منٹ دھوپ میں گزارنے کو ضروری خیال کرتے ہیں۔

سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی تھری کی ضرورت پوری ہوتی ہے، جو ہڈیوں کے لیے کیلشیم کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ اور غذا پر توجہ دینا بھی نہایت ضروری ہے۔ خواتین میں اس بیماری کی وجہ چند وجوہ میں بڑھتی ہوئی عمر، ہارمونز میں تبدیلیاں اور نظامِ ہضم کی خرابی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بعض دوائیں بھی ہڈیوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں اور ان کی کم زوری کا باعث بنتی ہیں۔

اس بیماری کی علامات عموماً دیر سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کی ابتدائی علامات میں مریض کو جوڑوں کے درد کے ساتھ ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ آسٹیوپوروسس سے بچنے کے لیے غذا کے ذریعے مردوں خصوصاً خواتین کو یومیہ 1300 ملی گرام کیلشیم حاصل کرنا چاہیے۔ یہ دودھ، دودھ سے بنی ہوئی دیگر اشیا، ہری سبزیاں اور مچھلی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ طب کے مطابق آدھے گھنٹے کی ورزش بھی پٹھوں اور ہڈیوں کی مضبوطی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جن میںآسٹیو پراسس (ہڈیوں کا بھر بھرا پن) سے متاثرہ مریضوں کا تناسب بہت زیادہ ہے۔آسٹیو پراسس کی بروقت تشخیص اور باقاعدہ علاج اہم ہے کیونکہ موثر علاج میں تاخیر کئی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ جیسا کہ ہڈیوں کی کمزوری اور بوسیدگی‘ بتدریج ہڈیوں خصوصاً کولہے‘ ریڑھ اور کلائی کے چٹخنے یا ٹوٹنے (Fracture) جیسے حادثات۔ آسٹیو کا مطلب ہڈیاں‘ پراسس کا مطلب کمزور ہونا یا خستہ ہونا ہے لہٰذا آسٹیو پراسس کا مطلب ہڈیوں کا کمزور اور خستہ ہونا (بھر بھرا پن) ہے۔اس بیماری میں ہڈیاں کمزور‘ خستہ اور پتلی ہوجاتی ہیں کہ ان پر پڑنے والا معمولی دباؤ مثلا مڑنے یا کھانسنے سے پڑنے والا دباؤ کولہے‘ ریڑھ کی ہڈی یا بازو کی ہڈی میں فریکچر کرسکتا ہے۔ آسٹیو پراسس بڑے پیمانے پر پھیلنے والا طبی مسئلہ ہے لیکن 1994ء تک اسے ایک بیماری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ عالمی ادارہ صحت نے اسے ایک ترجیحی مسئلہ صحت قرار نہ دیا۔ہڈی ایک زندہ ٹشو ہے جو مستقل طور پر بنتی رہتی ہے جبکہ اس کے پرانے حصے ختم ہوتے رہتے ہیں ہڈی تیس سے چالیس برس کے دوران اپنی بھرپور صورت میں ہوتی ہے جبکہ ان کے بعد جوں جوں عمر بڑھتی ہے ہر فرد کی ہڈیاں گھلنا شروع ہوجاتی ہیں۔

آسٹیو پراسس کو خاموش بیماری اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں ہڈیوں کی فرسودگی کا عمل کسی تکلیف کے محسوس ہوئے بغیر بڑی سست روی سے ہوتا ہے۔یہ ممکن ہے کہ آسٹیوپراسس ہونے کے بعد مریض درد یا تکلیف محسوس کرنے لگے۔ آسٹیو پراسس کی اولین علامت کمر میں بظاہر کسی سبب کے بغیر اچانک چبھتا ہوا درد ہوتی ہے ‘مگر بدقسمتی سے بہت سے کیسوں میں اس کی پہلی علامت ٹوٹی ہوئی ہڈی ہوتی ہے۔ آسٹیو پراسس کی باضابطہ تشخیص عموماً تاخیر سے اور کسی فریکچر کے بعد ہوتی ہے کیونکہ آسٹیو پراسس کی تشخیص نقصان پہنچنے کے بعد تاخیر سے ہوتی ہے اس لئے اسے خاموش تباہ کرنیوالا عارضہ بھی کہا جاتا ہے۔اگرچہ امراض قلب اور کینسر کو انتہائی ہلاکت خیز بیماری سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پچاس برس سے زیادہ عمر کی خواتین‘ بریسٹ کینسر‘ ادوری کینسر یا حملہ قلب کی بہ نسبت آسٹیوپراسس کے باعث ہڈی ٹوٹنے کے امکانات زیادہ رکھتی ہے۔یوں تو آسٹیو پراسس کے مختلف عوامل ہیں لیکن سن یاس کے بعد آسٹیو پراسس زیادہ عام ہے اس اعتبار سے 50 برس سے زائد عمر کی خواتین کو بون ڈینسٹی ٹیسٹ Densty test Bone ضرور کرانا چاہیئے۔ اگرچہ آسٹیوپراسس کے باعث پورا ڈھانچہ متاثر ہوسکتا ہے لیکن اس میں ریڑھ کی ہڈی ‘ کولہے‘ پسلیاں زیادہ متاثر ہوتی ہیں عموماً ان ہڈیوں پر بیشتر بوجھ/ دباؤ پڑتا ہے۔ لہٰذا ان کی ساخت خراب ہونے یا ان کے ٹوٹنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔آسٹیو پراسس کے باعث ہونے والے تمام اقسام کے فریکچرز میں کولہے کا فریکچر زیادہ تباہ کن ہے ایسی صورت میں طویل علالت سہنی پڑھتی ہے جو عموماً 12 سے 20 فیصد مریضوں کی موت کا براہ راست یا غیر راست سبب بنتی ہے۔ جو بچ رہتے ہیں ان کی نصف تعداد کی مسلسل دیکھ بھال ضروری ہے۔تقریباً ایک تہائی عورتیں اور بیس فیصد مرد اپنی زندگی میں کولہے کے فریکچر کا شکار ہوتے ہیں بعض صورتوں میں صرف ریڑھ کی ہڑی کے مہروں میں کمزور ہونے کے باعث ریڑھ کی ہڈی کا فریکچر ہوجاتا ہے جو سخت تکلیف کا باعث بنتا ہے اور جس سے نجات میں طویل مدت لگتی ہے۔ اس صورت میں ریڑھ کی ہڈی کے مہرے دبنا شروع ہوجاتے ہیں اور کمپریشن فریکچر ہونے پر نہ صرف آپ کی لمبائی میں کئی انچ کمی آجاتی ہے بلکہ اس کی ساخت میں بھی نمایاں تبدیلی آجاتی ہیں۔آسٹیو پراسس کا سبب بننے والے مختلف غذائی عوامل مثلاً غذاؤں میں کیلشیم کی کمی‘ فاسفورس کی زیادتی‘ زیادہ مقدار میں پروٹین اور نمک وغیرہ شامل ہیں۔سبزیوں پر مشتمل غذا کھانے والے آسٹیوپراسس کا کم خطرہ رکھتے ہیں جبکہ زیادہ پروٹین اور فاسفورس پر مشتمل غذائیں پیشاب کے ذریعے کیلشیم کے اخراج میں اضافے کا سبب سمجھی جاتی ہیں۔ صاف کی ہوئی شکر بھی جسم میں کیلشیم کی کمی بڑھاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں گلی محلوں میں موجود عطائی حضرات اور حتیٰ کہ مستند ڈاکٹر صاحبان بھی اپنے ہر نسخے میں سٹیرائڈ دوا کو دینا لازمی خیال کرتے ہیں کیونکہ سٹیرائیڈ دوا ایک جادوائی اثر رکھنے والی دوا ہے جس کے استعمال سے بخار کے فوراً اْترنے ہڈیوں جسم کے درد کے فوری آرام کا آنا ہی اسکے استعمال کروانے کی وجہ ہے۔ لیکن قارئین آپ کو جان کر یہ تعجب ہو گا کہ میڈیکل کالج میں پڑھائے جانے والے فارماکالوجی کے مضمون میں ادویات کے مضر اثرات کے بارے میں بھی پڑھایا جاتا ہے جس دوا کے مضر اثرات سب سے زیادہ تقریباً لگ بھگ 50 سے زائد لکھے گئے وہ سٹرائیڈ ادویات ہی ہیں ہاں کچھ بیماریوں میں سٹرائیڈ کا استعمال کروایا جاتا ہے۔ سٹیرائیڈ کے بغیر ان خاص قسم کی جسمانی خون کی بیماریوں میں شفا ملنا مشکل ہے۔ مگر اس کے لئے بھی ماہر ڈاکٹر گاہے بگاہے خون کے ٹیسٹ کروا کر ان ادویات کے مضر اثرات کو جان کر ان کی Dose کو ایڈجسٹ کرتے ہیں ان سٹیرائیڈ ادویات کے استعمال سے ایک خاص قسم کی بیماری جسے میڈیکل کی زبان میں کشنگ بیماری کہتے ہیں ہونے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ آج کل اخبارات کے اشتہارات سوکھے پن کو ختم کرکے جسم کو موٹا کرنے سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان میں بھی عطائی حضرات سٹیرائیڈ ادویات کا استعمال کرواتے ہیں جن سے چہرہ سرخ موٹا اور جسم پر بھی موٹاپا رونما ہو جاتا ہے۔ لیکن ان ادویات کو تھوک کے حساب سے بیچنے والوں کو کون بتائے کہ یہی سٹیرائیڈ ادویات ہڈیوں کو اندر ہی اندر بھرا بھرا کرکے رکھ دیتے ہیں یعنی ن کے ہڈیوں کے فریکچر ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔ مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ جو لوگ ہڈیوں کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جب اْن کے کولہے کی ہڈی ایک مرتبہ ٹوٹ جاتی ہے تو انہیں دوسرے فریکچر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ دوسری مرتبہ کولہے کی ہڈی ہی ٹوٹے یہ فریکچر ریڑھ کی ہڈی یا کلائی کا بھی ہوسکتا ہے۔ فریکچر نہ صرف شدید درد میں مبتلا کرتے ہیں بلکہ بے چینی میں بھی شدید اضافہ کرتے ہیں بعض حالات میں تو کولہے کا فریکچر موت کے امکانات کو بھی بڑھا دیتا ہے۔ ہم اکثر یہ سنتے ہیں کہ ہمارے بزرگ واش روم میں سلپ یعنی گرنے کی وجہ سے کولہے کی ہڈی کو تڑوابیٹھتے ہیں۔ ایسا آخر کیوں ہوتا ہے کیونکہ عمر کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کے بھربھرا پن زیادہ ہو جاتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں کہ آخر پھر کس طرح گرنے سے بچا جاسکتا ہے۔ تو ان باتوں کو پلے باندھ لیں کہ ہمیشہ ایسے جوتے پہنئے جو چلنے میں آرام دیں جو چوڑی ایڑی کے ہوں اور جن کے تلے پھسلنے والے نہ ہوں۔ خدارا اونچی ہیل والے جوتوں سے پرہیز کریں اور جب آپ گھر سے باہر ہوں تو ڈھلوان والی جگہ پر چلنے سے گریز کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ گھر کے تمام کمرے اور سیڑھیاں اچھی طرح روشن ہوں اور جب آپ کسی کمرے میں داخل ہوں تو آسانی سے روشن کر سکیں۔ ٹھوکر لگنے والی رکاوٹوں جیسے زمین پر گرے بچوں کے کھلونے اخبارات، تاریں وغیرہ کو دور کریں۔ بعض ادویات جیسے سکون اور نیند آور یا ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی گولیاں سر میں چکر یا یکسوئی میں کمی کا سبب ہوسکتی ہیں ان دواؤں کا استعمال بند تو نہ کریں بس اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں کہ کسی دوسرے مرض کے لئے استعمال کی جانے والی کسی دوا سے آپ کے گرنے کے امکانات تو نہیں۔آسٹیو پراسس کے مریضوں کیلئے ورزش کی ہدایات اور اس سے بچاؤ کیلئے باقاعدگی سے جسمانی ورزش پٹھوں کو مضبوط اور اعضاء کو فعال بناتی ہے‘ جس سے ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔روزانہ باقاعدگی سے جسمانی ورزش ضرور کریں‘ مثلاً چہل قدمی‘ عمر کے کسی بھی حصہ میں چہل قدمی شروع کی جاسکتی ہے‘ جس قدر ممکن ہوچہل قدمی تیز رفتاری سے کریں۔ہڈیوں کو مضبوط کرنے والی سرگرمیوں میں حصہ لیں‘ مثلاً دوڑنا‘ سیڑھیاں چڑھنا‘ جسمانی کھیل‘ وزن کے ساتھ ورزش اور ا یروبکس۔کوئی بھی ورزش شروع کر نے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔ ہر چھ ماہ بعد اپنی آنکھوں کا معائنہ کروائیں اور اگر خدانخواستہ آپ کبھی گر جائیں اٹھ نہ سکیں، کھڑے ہونے میں دشواری ہو تو فوراً ایمرجنسی ڈاکٹر کو بلا کر فوری طبی امداد لیجئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید :

ایڈیشن 1 -