گلوکاری جنون اداکاری شوق ہے

گلوکاری جنون اداکاری شوق ہے

اکثر اداکاروں سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ اداکار کیسے بنے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ حادثاتی طور پر یہ سب ہو گیا لیکن میرے ساتھ سچ میں ایسا ہی ہوا میں گلوکارہ بننا چاہتی تھی لیکن قسمت نے اداکارہ بنا دیا۔مجھے بچپن سے ہی گلوکاری کا بہت شوق ہوا کرتا تھا میڑک کرنے کے بعد مزید پڑھائی کر رہی تھی تو دل میں گلوکاری کو کیرئیر بنانے کا شوق انگڑائیاں لے رہا تھا گلوکاری کرنے کے لئے تو کوئی آفر نہ آئی لیکن ماڈلنگ کی پیشکش ضرور آئی میں نے اس کو قبول تو کر لیا اور سوچا کہ کرنی تو گلوکاری ہی ہے چلو ماڈلنگ کرنے میں بھی کوئی ہرج نہیں یوں میری شوبز انڈسٹری میں انٹری ہوئی۔گلوکاری میرا جنون جبکہ اداکاری شوق ہے ۔ان خیالات کا اظہارورسٹائل اداکارہ و ماڈل کنزیٰ ہا شمی نے ’’پاکستان‘‘کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔کنزیٰ نے کہا کہ میں سیکنڈ ائیر کی طالبہ تھی جب رضوان سیلون پر گئی انہوں نے ان دنوں نئی نئی ماڈلنگ ایجنسی کھولی تھی مجھے ماڈلنگ کی آفر دی میں نے کہا جی ضرور یوں میرا پہلا شوٹ خاور ریاض کے پاس ہوا اس کے بعد لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں فیشن شوکا حصہ بنی وہاں پر ڈرامہ ڈائریکٹر ذوالفقار علی کی مجھ پر نظر پڑی انہوں نے مجھے اداکاری کی آفر دی تو میں نے کہا کہ نہیں مجھے اداکاری کا شوق نہیں میں تو گلوکاری کرنی ہے اور ویسے بھی مجھے اداکاری نہیں کرنی آتی۔اس کے باوجود انہوں نے مجھے کہا کہ نہیں تم آڈیشن کیلئے آؤمیں آڈیشن کیلئے گئی خاصا مایوس کن آڈیشن تھالیکن ذوالفقار علی بضد تھے کہ تم اداکاری کرو میں نے کہا آڈیشن تو آپ کے سامنے ہی ہے تو کہنے لگے میں خود ہی اداکاری کروا لوں گا ڈائریکٹر کی طرف سے پندرہ دن مجھے ایکٹنگ کی کلاسز دی گئیں اس کے بعد ڈرامے کی شوٹنگ شروع ہو گئی یوں مجھے پہلا ڈرامہ ملا۔چار سال کا عرصہ گزر چکا ہے پتہ بھی نہیں چلا کہ اتنا وقت کیسے گزرا۔ابھی تک میں جن ڈراموں میں کام کر چکی ہوں اس میں ادھورا ملن ،سنگسار ،من چاہی ،مورے سیاں ،میری بہووئیں ،صلہ اور جنت فریب قابل ذکر ہیں۔آج کل’’ محبت تم سے نفرت ہے‘‘ اور’’ رانی‘‘ ڈرامہ آن ائیر ہے۔سرمد کھوسٹ کی ڈائریکشن میں بننے والا ڈرامہ ’’مورمحل‘‘ بڑے بجٹ کا تھا بڑی کاسٹ تھی اس لئے لوگوں کو اس سے بہت ساری امیدیں وابستہ تھیں پہلی ہی قسط میں میراکام بھی تھا لوگوں نے دیکھا تو نوٹس کیا پوچھنے لگے کہ یہ لڑکی کون ہے۔یہ ڈرامہ کیسے ملا اس سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ میں ڈرامہ سیریل ’’میکے کو دیدو سندیس‘‘ کی ریکارڈنگ کر رہی تھی جہاں یہ ہو رہی تھی وہیں مور محل کے آڈیشنز ہو رہے تھے ہمیں کسی نے آکر کہا کہ جتنی بھی لڑکیاں سیٹ پر موجود ہیں وہ آکر مور محل کے لئے آڈیشنز دیں ہم نے کہا نہیں ہم اپنا کام کر رہے ہیں ہمیں آڈیشنز نہیں دینے لیکن جب ہم سے اصرار کیا گیا تو ہم سب چلی گئیں آڈیشن ہو گیا یہ آڈیشن بھی کچھ خاص نہ تھا ایک مہینہ گزرنے کے بعد مجھے کال آئی کہ آپ میٹنگ کے لئے آئیں میں چلی گئی وہاں گئی تو سرمد کھوسٹ کے علاوہ نادیہ افگن بھی بیٹھی تھیں انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ سرمد میں چاہتی ہوں کہ اس لڑکی کو لیں اچھا کام کرے گی سرمد کھوسٹ نے کہا کہ ہاں میں نے بھی آڈیشن تو دیکھا ہے اس کے بعد سرمد صہبائی کے پاس گئے تو میرا انتخاب ہو گیا اس طرح مجھے وہ ڈرامہ ملا۔آن ائیر ڈرامہ سیریل ’’محبت تم سے نفرت ہے‘‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے اس کا رسپانس بہت اچھا مل رہا ہے۔میں نے ابھی تک بہت سارے کردار ادا کئے ہیں لیکن میں کسی سائیکو لڑکی کا کردار نبھانا چاہتی ہوں۔ایک سوال کے جواب میں کنزیٰ ہاشمی کا کہنا تھا کہ کچھ سینئرز تو ایسے ہیں کہ وہ نئے لوگوں کو قبول کرنے پر تیار ہی نہیں ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ اپنی جگہ دینے کو بھی تیار ہوتے ہیں سب کا اپنا اپنا مزاج ہے لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سب ہی بہت اچھے ہیں۔ سوپ ’’رانی‘‘ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب یہ ڈرامہ شوٹ ہونا شروع ہوا تو مجھے لگا کہ ڈرامے میں گاؤں والا ماحول زیادہ ہی دکھایا جا رہا ہے پتہ نہیں لوگ پسند کریں کہ نہ کریں ، لیکن جیسے ہی آن ائیر گیا تو لوگوں کی بڑی تعداد نے پسند کیا یوں میرا اندازہ غلط ثابت ہوا۔اس ڈرامے کے ڈائریکٹر فیصل بخاری نے ہمیں بہت ہی آرام دہ ماحول مہیا کیا ہے یہ ڈرامہ مرید کے میں شوٹ ہوا شروع میں لگ رہا تھا کہ بہت دو رہے کیسے ممکن ہو گا سب لیکن آہستہ آہستہ ٹھیک ہو تا گیا۔کنزیٰ نے مزید بتایا کہ میرا تعلق لاہور سے ہی ہے لیکن کراچی کے لوگوں نے جس طرح سے مجھے ڈرامہ انڈسٹری میں ویلکم کیا میں ان کی بہت شکر گزار ہوں۔میرے والدین میرے کام سے خوش تو ہیں لیکن ابھی بھی کبھی کبھی کہا کرتے ہیں کہ تم گلوکاری کے شوق کو مرنے مت دو ،گلوکاری کرنا چاہتی ہوں لیکن اب وقت نہیں ملتا۔مجھے آصف رضا میر ،صبا فیصل اور ارسہ غزل کی اداکاری بے حد پسند ہے۔مجھے دو فلموں کی آفر آئی لیکن انکار کردیا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ابھی مجھے ڈرامے کرنے چاہیں۔میں ہر ڈرامے میں ہر کردار کو ادا کرکے کچھ نہ کچھ سیکھ رہی ہوں جب مجھے لگے گا کہ میں فلموں میں کام کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوں تو ضرور کروں گی۔

مزید : ایڈیشن 2