حیدرآباد سٹیج پر نئے چہروں کی آمد تقریب ’’کچھ تو بہرملاقات چاہئے ‘‘ کا انعقاد

حیدرآباد سٹیج پر نئے چہروں کی آمد تقریب ’’کچھ تو بہرملاقات چاہئے ‘‘ کا ...

فنکاروں کی حوصلہ افزائی، قدر افزائی اور پذیرائی کے حوالے سے معروف شہر کی ثقافتی تنظیم کامران آرٹ پروموٹرز نے گزشتہ دنوں مقامی ہال میں ملک آرٹ پروموٹرز کے ملک یوسف جمال کی معاونت سے سٹیج ڈراموں میں آنے والے نوآموز چہروں کی رونمائی کے طور پر ’’تقریب کچھ تو ہر ملاقات چاہئے‘‘ کا انعقاد کیا۔ اس تعارفی تقریب کے موقع پر نو آموز فنکاراؤں پشیمنہ خان، ثوبیہ مہک اور سندھیہ سندھی ، لشکارے مارتے رنگوں، دلکش چہروں، مہکتے گیسوؤں، چمکتے ملبوسوں اور خوشبو بھرے وجودوں کی بہار بن کر تقریب میں موجود تھیں۔ سٹیج ڈراموں میں بطور فنکارہ قدم رکھنے والی ان فنکاراؤں کوخوش آمدید کہنے کے لئے سٹیج سے وابستہ ہدایتکار، مصنفوں، پروڈیوسروں اور ہنر مندوں کی کثیر تعداد ان کے استقبال کے لئے موجود تھی۔ جنہوں نے مذکورہ فنکاراؤں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کی آمد کو نیک شگون قرار دیا۔ اور اسٹیج ڈراموں میں بطور فنکارہ پرفارمنس کے حوالے سے مفید مشوروں اور آگاہی سے نوازا۔ مقررین نے اپنی گفتگو میں مذکورہ فنکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سٹیج پر اداکاری کے لیے استقامت، صبر اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض مقامات ایسے بھی آئیں گے جب آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ آپ کے حق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ آپ کو نروس بھی کیا جائے اور بددل بھی۔تاہم یہی وہ وقت ہوگا ہے جب ایک اعتماد اور یقین کے ساتھ آپ کو اداکاری کے کٹھن، دشوار گذار اور پیچیدہ راستوں پر سفر جاری رکھنا ہوگا۔ تب منزل کے حصول کی جدوجہد رنگ لائے گی اور آپ کے دامن کو کامیابی کے پھولوں سے بھردے گی۔ ماڈلنگ کی دنیا سے اداکاری کی طرف آنے والی ان فنکاراؤں کو اجرکوں اور پھولوں کے تحائف دینے والوں میں بانی فلم کسوٹی ملک یوسف جمال، سینئر پروڈیوسر ریڈیو پاکستان حیدرآباد سہیل ملک ، اختر پیرزادہ، معروف غزل گائیک شفیع وارثی، ایکسپرٹ اکیڈمی کے ندیم خانزاد، شوبز رائٹر یعقوب رشید، تنظیم ہذا کے چیئرمین کامران خان، سندھ آرٹس کونسل کے وائس چیئرمین وکیل منگریو، روشن پیرزادہ، آرگنائزر عبداللہ خان، نعیم یامین، جہانزیب خان اور اسحاق راجو شامل تھے۔ اظہار خیال کرتے ہوئے نوآموز فنکاراؤں ثوبیہ مہک،پشمینہ اور سندھیہ نے اپنی گفتگو میں تعارفی تقریب سجانے پر منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم آبیاری فن کے لیے کانٹوں بھرے راستوں پر مسلسل سفر کرنے کا ارادہ لیکر آئے ہیں اور اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ طویل جدوجہد ، ہمت اور استقامت کے ساتھ صلے و ستائش سے بے نیاز ہوکر ہمیں ایک لگن اور خلوص کے ساتھ اپنی فنی صلاحیتوں کو دریافت کرنا ہے۔ قابل احترام سینئر فنکاروں و ہدایت کاروں نے جس خوشدلی کے ساتھ ہمیں خوش آمدید کہا ہے اس کے لئے ہمارا خیال ہے کہ شکریہ کے الفاظ بے معنیٰ ہیں۔ انشاء اللہ ہم اپنے رہنما و رہبروں کی شفقتوں اور محبتوں کے سائے میں اپنا یہ سفر جاری رکھیں گے اور اپنی طرف سے ان کے ادب و احترا م میں کمی نہیں آنے دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ سٹیج ڈراموں کے حوالے سے گذشتہ سالوں سے بدحالی اور زوال پذیری کا شکار حیدرآباد اسٹیج خاتون فنکاراؤں نشاء علی، ثناء، صائمہ خان، نیلوفر صنم اور سحر علی کے مختلف وجوہات کی بناء پر علیحدگی کے باعث ویرانی میں مزید اضافے کا منظر پیش کررہا تھا۔ تاہم مذکورہ نئی فنکاراؤں کی آمد سے جہاں سٹیج کی رونقوں میں اضافے کا امکان ہے وہاں مستقبل قریب میں ڈراموں کے بہتر اور تسلسل سے ہونے کی نوید بھی سنائی دینے لگی ہے۔ واضح رہے کہ نئی فنکاراؤں کے ہمراہ شہر کی فعال اور سرگرم ثقافتی شخصیت جہانزیب خان کے جواں سال صاحبزادے خضر خان نے بھی اداکاری کی فیلڈ میں قدم رکھنے کا آغاز کیا ہے۔ خضر خان کے سٹائل اور فنکارانہ تیور بتارہے ہیں کہ یہ فنکار آنے والے دلوں میں سٹیج ڈراموں کے لیے ایک خوبصورت اور دلکش اضافہ ثابت ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 2