بلیک لسٹ کمپنیاں دوبارہ ادویات کا دھندہ کرنے لگیں ، نئے ناموں سے لائسنس بنوالئے

بلیک لسٹ کمپنیاں دوبارہ ادویات کا دھندہ کرنے لگیں ، نئے ناموں سے لائسنس ...

لاہور(جاوید اقبال)محکمہ صحت کی طرف سے جعلی سمگل شدہ اور زائد المیعاد ادویات فروخت کرنے پر بلیک لسٹ قرار دی گئی 52 کمپنیوں نے نام تبدیل کرکے ادویات کی خرید و فروخت کا دھندہ دوبارہ شروع کر دیا ، اس کا قابل ذکر اور قابل افسو س پہلو یہ ہے کہ پرانے بندوں نے نئے ناموں سے ڈرگ سیل لائسنس حاصل کر لیے ہیں اور سرکاری اداروں میں دوبارہ ادویات سپلائی کرنے کے ٹھیکے حاصل کرنا شروع کر دیے ہیں سپیشل برانچ کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مختلف ہسپتالوں میں ادویات چوری میں ملوث سرکاری اہلکاروں نے بھی ملازمت سے نکالے جانے کے بعد کمپنیاں بنا لی ہیں۔جس میں جناح ہسپتال کے سابق او ٹی اے صغیر کا حوالہ دیا گیا ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ او ٹی اے نے میں کروڑوں روپے مالیت کی ادویات چوری کیں جس کے تین ٹرک کینٹ کے علاقے میں رنگے ہاتھ پکڑ لیے گئے اور اس کے خلاف مقدمہ درج ہوا بعد ازاں اسے ملازمت سے نکال دیا گیا۔پی آئی سی لاہور میں جعلی ٹیکے سپلائی کرنے والی ٹرپل اے نامی کمپنی جس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے بلیک لسٹ قرار دیا گیا اس کمپنی کے ساتھ مل کر اس شخص نے نئے ناموں فیروز فارمیسی پلس،امین فارمیسی،ٹرپل اے پلس وغیرہ جیسے ناموں سے کمپنیاں تشکیل دیں اور نئے ڈرگ لائسنس حاصل کیے اور پی آئی سی،سروسز ہسپتال سمیت کئی ہسپتالوں میں ایل پی کے ٹھیکے حاصل کیے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت صرف لاہور کے 52 ایسے سرکاری کنٹریکٹر موجود ہیں جنہیں محکمہ صحت ہی نے ان سے جعلی اور زائد المیعاد ادویات پکڑے جانے پر انہیں نہ صرف بلیک لسٹ قرار دیا بلکہ ان کے خلاف مقدمات بھی درج کروائے مگر یہ لوگ نئے ناموں سے دوبارہ ڈرگ سیل لائسنس لے کر ادویات کی خرید و فرخت کا کاروبار کر رہے ہیں اور ان میں اکثریت سرکاری ہسپتالوں میں لوکل پرچیز اور بلک میں ادویات سیل کر رہی ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مکرہ دھندے میں ملوث لوگ پرانے ہیں اور کمپنیاں نئی بنائی گئی ہیں۔رپورٹ میں انڈر پا س جیل روڈ سب وے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہاں صغیر نامی فارما کو محکمہ صحت نے 7 دفعہ سر بمہر کیا اور ان کے خلاف مقدمار درج کروائے اور یہاں سے جعلی اور سرکاری ہسپتالوں سے چوری شدہ ادویات برآمد کی گئی تھیں۔اس حوالے سے وزیر صحت خواجہ عمران نذیرسے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کرائی جائے گی اور اس سلسلے میں چیف ڈرگ کنٹرولر سے رپورٹ بھی طلب کی جائے گی ڈرگ کورٹ سے بھی ریکارڈ حاصل کیا جائے گا جو لوگ ماضی میں جعلی ادویات کے دھندے میں ملوث تھے اور اب نئے ناموں سے کام کر رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

کمپنیاں ،ادویات

مزید : میٹروپولیٹن 1