اراضی ریکارڈ سنٹرز پر سنٹرلائزڈ لینڈ ریکارڈ نظام سست،25ہزار سے زائد انتقال ز یر التواء

اراضی ریکارڈ سنٹرز پر سنٹرلائزڈ لینڈ ریکارڈ نظام سست،25ہزار سے زائد انتقال ز ...

  

لاہور(عامر بٹ سے)پنجاب لینڈ ریکارڈکی جانب سے 76اراضی ریکارڈ سنٹر ز میں لینڈ ریکارڈ سسٹم کی جگہ اپ گریڈ کیا جانے والا سنٹرلائزڈ لینڈ ریکارڈ سسٹم انٹرنیٹ کی سستی اور درجنوں تکینکی خرابیوں کے باعث پنجاب کی عوام کے لئے زحمت بن گیا ،منڈی بہاؤالدین اور نارووال میں معطل سروس تاحال بحال نہ ہو سکی،سسٹم انٹرنیشنل کی جانب سے مہیا کیا جانے والا سوفٹ ویئر بھی اغلاط سے بھرپور نکلا ،سست انٹرنیٹ سپیڈ اور سروس کی بار بار معطلی کے باعث 76اراضی ریکارڈ سنٹرز میں 25ہزار سے زائد انتقال زیر التواء،عوام الناس کی جانب سے مسلسل خواری کے باعث پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی پر شدید تنقید،تفصیلات کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی جانب سے پنجاب کے 76کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سنٹر میں متعارف کروایا جانے والا نیا سوفٹ ویئر سسٹم بھی فیل ہو گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق سروس سنٹر آفیشل سوفٹ ویئر کی تکنیکی خرابی کی وجہ سے کمپیوٹر میں اندارج نہیں کررہے ،اس کے علاوہ اس سوفٹ ویئر کے ناقص ہونے کے باعث کمپوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سنٹرز میں قائم بینک کاؤنٹرز کو واجبات کی وصولی میں متعدد مشکلات کا سامنا ہے،اس سے قبل پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھا رٹی پنجاب نے اس سال پنجاب بھر سے ملنے والی شکایات اور لوگوں کی منفی آراء کے باعث لینڈ ریکارڈ سسٹم کو اپ گریڈ کرکے سنٹرلائزڈ لینڈ ریکارڈ سسٹم میں ضم کردیا تھا جس کو اب سنٹرلائزڈ لینڈ ریکارڈ سسٹم کہتے ہیں ۔ سنٹرلائزڈ لینڈ ریکارڈ سسٹم کو چلانے کے لئے پاکستان میں قائم تمام بینکوں کی طرح 4جی بی سے 6جی بھی انٹرنیٹ سپیڈ درکار ہوتی ہے لیکن 76اضلاع میں مہیا کی گئی سروس میں انٹرنیٹ کی سپیڈ 4جی بی سے بھی کم ہے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -