ایل این جی پراجیکٹ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی قوت فیصلہ اور مستقبل بینی کا شاہکار: زاہدحسین

ایل این جی پراجیکٹ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی قوت فیصلہ اور مستقبل بینی ...

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ایل این جی پراجیکٹ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی قوت فیصلہ اور مستقبل بینی کا شاہکار ہے۔ ملک کے توانائی کے شعبہ میں انقلابی تبدیلی اور انرجی مکس کو متوازن بنانے کا سہرا انکے سر ہے۔یہ اہم ترین ملکی منصوبہ ہے جسے دنیا بھر میں تحسین کی نظر سے دیکھا جاتاہے مگر ملک میں موجود بعض عناصر اس پر اعتراض کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بطور وزیر پٹرولیم نہ صرف ایران اور ترکمانستان سے گیس کی درآمد میں حائل مشکلات کا ادراک کیا بلکہ خاموش رہنے کے بجائے جرا ت کا اظہار کرتے ہوئے قوم کو بھی حقیقت سے آگاہ کیا اور ایل این جی کو متبادل ایندھن کے طور پر پیش کرنے کے ساتھ اسے ملک میں متعارف کروانے کیلئے دن رات محنت کی۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ 2005 ء میں پہلی ایل این جی پالیسی کا اعلان کیا گیا جو صرف کاغذات میں موجود تھی۔اسی پالیسی پر 2011 ء میں نظر الثانی بھی کی گئی تاہم یہ سرمایہ کاروں میں مقبول نہیں ہو سکی نہ اس سلسلہ میں کوئی پیش رفت ہوئی۔ تاہم 2013ء میں ن۔لیگ کی حکومت نے اس سمت میں زبردست پیش رفت کی۔موجودہ حکومت نے نہ صرف قطر سے جلد از جلد گیس کی خریداری کے معاملات طے کئے بلکہ تقریباً ایک سال کے عرصہ میں تمام تر پروپیگنڈے اور مشکلات کے باوجود پہلے ایل این جی ٹرمینل کو چلا دیا جس سے توانائی اور صنعت کے شعبہ میں نئی جان پڑ گئی۔پاکستان فرٹیلائیزر برآمد کرنے والا ملک بن گیاجبکہ ملک کے 75 فیصد سی این جی اسٹیشن جس میں لوگوں نے کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی تھی طویل بندش کے بعد چل پڑے۔اگر ریلوے کو بھی ایل این جی پر منتقل کیا جائے تو اس سے ایندھن کی مد میں چالیس فیصد تک بچت ہو سکتی ہے جبکہ فرنس آئل سے چلنے والے پرانے بجلی گھروں کو ایل این جی پر منتقل کرنے سے سالانہ دو ارب ڈالر تک کی بچت ممکن ہے۔

مزید :

کامرس -