اضافی چینی برآمد کئے بغیر کرشنگ سیزن شروع نہیں ہوسکتا:جاوید کیانی

اضافی چینی برآمد کئے بغیر کرشنگ سیزن شروع نہیں ہوسکتا:جاوید کیانی

  

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید کیانی نے کہا ہے کہ ملک میں سرپلس چینی کو برآمد کئے بغیر آئندہ کرشنگ سیزن شروع نہیں ہو سکتا اس لئے حکومت 15روپے فی کلو ربیٹ ادا کرے ، کرشنگ سیزن شروع کرنے میں ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں لیکن حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے خدشہ ہے کہ کرشنگ سیزن تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایسوسی ایشن کے دفتر میں پنجاب کے چیئر مین احسن لطیف و دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ جاوید کیانی نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی ملاقات کی تھی اوران کی جانب سے مثبت رویہ تھا تاہم بیورو کریسی چینی کی برآمد پر 10.70روپے فی کلو ربیٹ دینے کی تجویز دی گئی ہے جو کہ نا قابل عمل ہے اس ربیٹ پر ہماری پیداواری لاگت بھی پوری نہیں ہو تی۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2016ء کو حکومت کو پیشگی آگاہ کر دیا تھا کہ آئندہ سیزن سر پلس ہو گا جس میں 15لاکھ ٹن چینی سر پلس ہو گی۔

اس لئے 10لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے اس وقت کے وزیرتجارت نے دو مرحلوں میں 4.25لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔اب صورتحال یہ ہے کہ سر پلس چینی کے دباؤکا سامنا ہے جبکہ مارکیٹ میں چینی کی قیمت انتہائی کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ستمبر میں ایک میٹنگ میں وزیر اعظم نے 5لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی لیکن اس وقت عالمی منڈی میں چینی کی فی ٹن قیمت 450ڈالر کے لگ بھگ پہنچ گئی جبکہ پہلے چینی کی برآمدکے موقع پر اسکی عالمی منڈی میں قیمت 550ڈالر فی ٹن کے لگ بھگ تھی۔ آئندہ سیزن میں بھی گنے کی بمپر کراپ ہے اور حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 12سے 13فیصد زائد رقبہ گنا کاشت کیا گیا ہے جس سے اندازہ ہے کہ اگلے سیزن میں 80لاکھ ٹن چینی کی پیداوار ہو گی جبکہ کیری اوور سٹاک کا تخمینہ 5لاکھ ٹن ہے اسطرح چینی کے مجموعی سٹاک کا حجم 85لاکھ ٹن ہوگا اور ملک کی ضرورت 55لاکھ ٹن ہے جس سے 30لاکھ ٹن چینی فاضل ہو گی اس چینی کی پیداواری لاگت کا تخمینہ 190ارب روپے ہے۔ا س سال ہم نے کسانوں کو 350ارب روپے کی ادائیگیاں کیں جبکہ اگلے سیزن میں انہیں 400ارب روپے کی ادائیگیاں کرنے کا تخمینہ ہے۔اس صورتحال میں اگر حکومت نے چینی برآمد پر15روپے فی کلو ربیٹ نہ دیا تو کسانوں کو ادائیگیاں کرنے سے قاصر ہوں گے۔ حکومت بتائے کہ ہم 190ارب روپے کی ادائیگی کیسے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب حکومت گنے کی قیمت خود مقرر کرتی ہے اور ایک کلو چینی پر ہم سے 6روپے ٹیکس لیا جاتا ہے دوسری جانب سر پلس چینی برآمدکرنے کے لئے کوئی مدد نہیں کی جارہی۔ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں 9شوگر ملیں ڈیفالٹ کر گئیں جبکہ مزید 4بند ہونے کے قریب ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کرشنگ سیزن کے لئے کسانوں نے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے اور 25نومبر کولاہور کوبند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت گنے کی قیمت کے مطابق چینی فروخت کرنے کے لئے پالیسیاں مرتب نہیں کرتی تو چینی کو ڈی ریگولیٹ کر دے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ہمارے لئے ملیں چلانا نا ممکن ہو گیا ہے ، حکومت شوگر ملوں کو نیشنلائزکر لے پھر ایک ہزار روپے من گنا خرید کر عوام کو مفت چینی فراہم کرے ہمیں کوئی غرض نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم واضح کر رہے ہیں کہ اگر حکومت نے ہماری تجاویز نہ مانی تو ہم کرشنگ سیزن شروع نہیں کر سکیں گے۔حکومت اگلے کرشنگ سیزن کے لئے موثر لائحہ عمل تشکیل دے تاکہ شوگر ملز مالکان کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید :

کامرس -