عام انتخابات میں اصل مقابلہ ن لیگ سے ہو گا، پی پی سے اتحاد ممکن نہیں: محمود الرشید

عام انتخابات میں اصل مقابلہ ن لیگ سے ہو گا، پی پی سے اتحاد ممکن نہیں: محمود ...

  

لاہور(جاوید اقبال ‘ شہزاد ملک ‘تصاویر‘ ندیم احمد ) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ2018کا انتخاب (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا نہیں بلکہ تحریک انصاف کا ہے ملک کے آئندہ وزیر اعظم عمران خان ہوں گے 2018کا انتخابی معرکہ سر کرنے کے لئے تحریک انصاف نے حکمت عملی طے کر لی ہے فی الحال طے ہے کہ آئندہ انتخابات میں سولو فلائٹ ہی کریں گے تاہم کے پی کے اور سندھ میں انتخابی اتحاد کے ساتھ میدان میں اتریں گے سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے کسی صورت سیاسی الائنس نہیں بنائیں گے اور آئندہ انتخاب میں تحریک انصاف کا مقابلہ صرف اور صرف مسلم لیگ (ن) سے ہو گا پیپلز پارٹی تو کہیں بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ وہ گزشتہ روز پاکستان فورم میں اظہار خیال کررہے تھے۔مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ چونکہ عوام نے مینڈیٹ میاں نواز شریف کو دیا تھا لیکن اب وہ نااہل ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ پر جو وزیراعظم بنے ہیں وہ بھی ابھی تک نواز شریف کو ہی اپنا وزیراعظم قرار دے رہے ہیں اس لئے ہم نئے انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں ہمارا الیکشن میں مقابلہ (ن) لیگ سے ہی ہو گا پیپلز پارٹی کا سندھ کے کچھ علاقوں کے علاوہ کہیں بھی وجود نہیں ہے ہم سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر سکتے ہیں اور کے پی کے میں جماعت اسلامی سے بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے الیکشن میں اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ابھی تک ہمارا سولو فلائٹ کا ہی ارادہ ہے البتہ الیکشن کے وقت جو صورت حال بنے گی اس کے مطابق ہی اپنی حکمت عملی بنائیں گے کیونکہ ہماری اطلاع کے مطابق (ن) لیگ کی قیادت نواز شریف پانامہ اور شہباز شریف حدیبیہ مل کیس کھلنے کی وجہ سے مائنس ہو چکے ہیں اگر الیکشن 2018میں بھی ہوئے تو اس میں بھی ہم ہی کامیاب ہوں گے۔ میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کہ بلدیاتی انتخابات میں پنجاب بالخصوص لاہور میں ہمیں کامیابی نہیں مل سکی تو یہ کوئی پیمانہ نہیں ہے کہ جس کو سامنے رکھ کر آپ بات کریں بلدیاتی انتخابات ہمیشہ موجودہ وقت کی حکومتیں ہی جیتا کرتی ہیں لیکن ہم نے اس کے باوجودنہ صرف بلدیاتی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی بلکہ ہم نے تو ضمنی الیکشن میں وہاں سے بھی کامیابی حاصل کی جہاں سے (ن) لیگ جیتی تھی اس لئے ہماری عوامی پذیرائی کو آپ کم نہیں کہہ سکتے ہم نے اگر کسی جگہ سے ضمنی الیکشن میں اگر ناکامی حاصل کی ہے تو اس میں بھی ہمیں حکمران جماعت صرف چند ووٹوں کے فرق سے ہی ہرواسکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے (ن) لیگ نے قومی اداروں کے ساتھ پنگا لینے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور جس طرح سے یہ ہر کام عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف کررہے ہیں اس کے بعد ان کی رخصتی یقینی ہے انہوں نے کسی نہ کسی طرح سے صرف چند ووٹوں کے فرق سے نااہل شخص کو پارٹی کا صدر بنوانے کا بل منظور کرواکر کوئی اسمبلی اور جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں کی ہے بلکہ ایسا کرکے سیاسی تاریخ میں ایک سیاہ کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ پی ٹی آئی شہباز شریف کے متعلق کوئی نرم گوشہ رکھتی ہے تو یہ بلکل غلط ہے میں نے کئی مرتبہ اسمبلی اور عدالت میں شہباز شریف کے خلاف ریفرنس دائر کئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی شروع دن سے ہی شہباز شریف کے خلاف قائم حدیبیہ پیپر مل کیس کو کھولنے کا مطالبہ کررہی تھی ۔انہوں نے کہا کہ میں نے شہباز شریف کو اسمبلی میں لانے کے حوالے سے بھی کئی بار بات کی ہے لیکن وہ اسمبلی کو اہمیت نہیں دیتے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے ہم تو سب سے زیادہ بزنس اسمبلی کے فورم پر لاتے ہیں اور عوامی ایشوز کو حل کروانے اور ان کی آواز اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔

مزید :

صفحہ آخر -