محکمہ مواصلات و تعمیرات میں کرپٹ افسروں کے خلاف محکمانہ کارروائیاں ٹھپ

محکمہ مواصلات و تعمیرات میں کرپٹ افسروں کے خلاف محکمانہ کارروائیاں ٹھپ

لاہور ( ارشد محمود گھمن /سپیشل رپورٹر) محکمہ مواصلات تعمیرات پنجاب کے 5چیف انجینئرز ، 8ایس ایز، 15 ایکسیئنز 40 ایس ڈی اوز اور 122 سب انجینئرز نے قومی خزانہ کو 100 ارب روپے سے زائد کاچونا لگادیا، ان کرپٹ افسروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی بجائے اعلیٰ افسروں نے بھاری نذرانوں کے عوض 1500 سے زائد منصوبوں کی انکوائری رپورٹس ہی داخل دفتر کردیں ،مذکورہ صورتحال کو جاننے کے باوجود ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی بجائے حکام بالاخاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔تفصیلا ت کے مطابق ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ نے بھی لیبا رٹری ٹیسٹ کے نام پر کروڑوں روپے نکلوا لئے ،002 2ء سے جون 2017ء تک صو بائی دارالحکومت سمیت پنجا ب بھر میں حکومت نے محکمہ مواصلات تعمیرات پنجاب کو 20کھرب روپے کے تر قیا تی منصو بے کو مکمل کر نے کے لئے گرانٹس فراہم کیں ،پنجاب ہائی وے روڈز ،بلڈنگز، ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ کے مذکورہ افسران اورکنٹر یکٹر ز نے مبینہ ملی بھگت کر کے سڑکوں میں کم مقدار میں پتھر اوراس کے اوپر خاکہ کی بجائے ریت مکس کر کے مبینہ طور پرکروڑوں کمائے ،جو ناقص مٹیریل کے باعث دراڑیں پڑنے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں ،بعد ازاں ان 15 سا لوں میں انہی منصوبوں کو 5سے 10مرتبہ دو بارہ ٹینڈرز جاری کر کے کر پشن کی نذر کئے گئے ،مذکورہ محکمہ میں 2ہزار سے زائد منصوبوں کی انکوائری رپورٹس کو داخل دفتر کر دیا گیاہے اور ذمہ دران افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے کی بجا ئے محکمہ کے اعلیٰ افسروں نے مبینہ طور پر بھاری نذرانوں کے عوض چپ سادھ رکھی ہے ،اسی وجہ سے ایسے کرپٹ افراد محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران سے مبینہ ملی بھگت کر کے اب ریٹائر چکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے اضلاع رائیونڈ تا قصور روڈ کے لئے ،چھانگا مانگا ر ، ڈسکہ تا سمبڑیال روڈ ، شیخو پورہ روڈ ، مرید کے نارووال، گو جرانوالہ تاسیا لکوٹ روڈ تا سید پور جہلم ،منڈی بہاوالدین،چکوال،فیصل آباد،ڈیرہ غازی خان،راولپنڈی،سر گودہا،ساہیوال،ملتان،بہاولنگروغیرہ کے اضلاع کوبلڈنگز جن میں سکولز، ہسپتال ، سرکاری بلڈنگز اورسٹرکیں شامل ہیں ،ان منصوبوں کے لئے صو بائی موصلات تعمیرات پنجاب کو تقریباً 2ہزار ارب روپے کے ٹینڈرز جاری کر کے فنڈز فراہم کئے گئے ،جن کے ٹینڈرز محکمہ کے مذکورہ افسران اور کنٹر یکٹرز ، ٹیکنکل ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے آپس میں بندر بانٹ کر کے قومی خزانہ کو مبینہ طور پرایک کھرب روپے کا ٹیکہ لگایاہے۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے اس بابت موقف دریافت کرنے پر کہا کہ ان کے دور میں جاری اربوں روپے کے تمام ترقیاتی منصوبوں پر ان کی گہر ی نظر ہے اور ماتحت افسران سے بھی آئے روز منصوبوں کے حوالے سے میٹنگز ہوتی رہتی ہیں اور کرپٹ افسران کے خلاف شکایت ملنے پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے اور میرامحکمانہ چلنے والی انکوائریوں پر بھی مکمل فوکس ہے اوراگر کسی نے قومی خزانے کو لوٹا ہے تو وہ سزا سے نہیں بچ پائے گا۔

مزید : صفحہ آخر