کیا اپوزیشن اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا آپشن استعمال کرنے کا رسک لے گی؟

کیا اپوزیشن اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا آپشن استعمال کرنے کا رسک لے گی؟
کیا اپوزیشن اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا آپشن استعمال کرنے کا رسک لے گی؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری:

پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں تو شکست ہوگئی اور الیکشن ایکٹ سے آرٹیکل 203 ختم کرانے کیلئے پیپلز پارٹی کے رکن نوید قمر نے جو ترمیم پیش کی تھی وہ بھاری اکثریت سے مسترد ہوگئی لیکن نوید قمر کہتے ہیں کہ ان کے پاس ابھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جانے کا آپشن موجود ہے، ان کی اس خوش فہمی کی بنیاد یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں مسترد ہونے والا ترمیمی بل سینیٹ سے منظور ہوچکا تھا، دیکھا جائے تو یہیں سے حوصلہ پاکر اس بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی ہمت کی گئی حالانکہ پارٹی پوزیشن بہت واضح ہے، ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا، الیکشن ایکٹ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہوکر نافذ العمل ہوچکا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ نواز شریف بدستور مسلم لیگ ن کے صدر ہیں۔ اب جن کو ان کی صدارت منظور نہیں ان کیلئے بہترین راستہ تو یہ ہے کہ وہ انہیں سیاسی میدان میں بے اثر بنانے کی کوشش کریں اور جب انتخابات ہوں تو مسلم لیگ ن کو شکست دلانے کیلئے زور لگائیں۔ اگر وہ اس کوشش میں کامیاب ہوگئے تو مسلم لیگ خود ہی بے اثر ہوتی چلی جائیگی اور یہی حال اس کے صدر کا ہوگا لیکن مصنوعی کوششوں کے ذریعے مائنس نواز شریف فارمولا اول تو چل نہیں سکتا اور اگر چل جائے تو زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکتا، سیاسی میدان میں مقابلہ ہی سیاسی مخالفوں کو میدان سے باہر کرنے کا جمہوری راستہ ہے۔ فنی بنیادوں پر یا کسی شارٹ کٹ کے ذریعے کسی جماعت کے صدر کو مائنس کرنے کی کوششیں دیر پا ثابت نہیں ہوسکتیں، اب بھی نوید قمر کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آپشن موجود ہے تو چلئے اس کو بھی استعمال کرکے دیکھ لیں، گھوڑا اور میدان حاضر ہے، پتہ چل جائے گا کہ اس آپشن کو استعمال کرکے ان کے حصے میں کتنی عزت آتی ہے، قارئین کرام یہ آپشن کیا ہے؟ اور کیا یہ صرف اپوزیشن کے پاس ہے۔۔۔ ایسا نہیں حکومت اور اپوزیشن کے پاس یہ آپشن ہمیشہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی بھی بل پارلیمنٹ کے کسی ایک ایوان میں منظور ہوجائے اور دوسرے ایوان میں رد ہوجائے تو پھر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر یہ بل پیش کیا جاتا ہے اور منظوری لی جاتی ہے، مثال کے طور پر نئی حلقہ بندیوں کے متعلق آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی نے منظور کرلیا ہے لیکن ابھی تک یہ سینیٹ سے منظور نہیں ہوسکا، ویسے تو امکان یہی ہے کہ اس کی منظوری سینیٹ سے حاصل کرلی جائیگی لیکن اگر کسی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا تو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر بھی یہ بل منظور کرایا جاسکتا ہے۔ چونکہ قومی اسمبلی میں نمبر گیم حکومت کے حق میں ہے اسلئے اگر مشترکہ اجلاس ہو تو سینیٹ کے ووٹوں کی کمی قومی اسمبلی کے ارکان سے پوری ہوسکتی ہے، یہی آپشن اپوزیشن کے پاس بھی ہے اور یہی بات نوید قمر کہہ رہے ہیں، کہ یہ بل مشترکہ اجلاس میں پیش کردیا جائے گا لیکن جو نتیجہ قومی اسمبلی میں نکلا ہے اگر ووٹنگ کی یہ شرح بھی برقرار رہتی ہے اور اس میں اضافہ نہیں بھی ہوتا جس کا امکان ہوسکتا ہے کیونکہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کے کئی ارکان دوسری اہم مصروفیات کی وجہ سے ووٹنگ کے وقت اسمبلی میں موجود نہیں تھے لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہو تو پھر ان ارکان کی سرکاری یا غیر سرکاری مصروفیات آڑے آجائیں۔ حکومت کے ارکان کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے، جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے اس کی اتحاد کی بہار وقتی ہے مثال کے طور پر ایم کیو ایم نے ترمیم کی حمایت میں ووٹ دیا لیکن کیا پتہ کل کو وہ اس کے خلاف ووٹ دے دے کیونکہ ایم کیو ایم کی سیاست میں تلون کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے، وہ کسی بھی وقت کوئی بھی فیصلہ کرسکتی ہے جو پہلے فیصلے کے بالکل برعکس ہوسکتا ہے۔ وہ تو اتحاد کا فیصلہ کرکے چند گھنٹوں بعد مکر جاتی ہے کیا پتہ مشترکہ اجلاس تک اس کی کیا کیفیت ہو؟

اپوزیشن کی حالیہ سیاست کا محور یہ نکتہ رہا ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کی وجہ سے ان کی جماعت کے لوگ بکھر جانے والے ہیں جن لوگوں نے یہ تاثر پھیلایا وہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرگئے، دعوے تو یہ کئے گئے تھے کہ ساٹھ، ستر اور اسی ارکان تک مسلم لیگ ن میں فارورڈ بلاک بنانے والے ہیں لیکن آج تک اس قسم کے کسی بلاک کا کوئی اتہ پتہ نہیں، زیادہ سے زیادہ جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ بعض ارکان مسلم لیگ ن کے صدر کی بعض پالیسیوں کی حمایت میں نہیں ہیں۔ اختلاف رائے کوئی ایسی چیز نہیں جو شجر ممنوعہ ہو، سیاسی پارٹیوں میں اختلاف ہوتے ہیں بلکہ ہونے بھی چاہئیں کیونکہ سناٹا قبرستانوں میں ہوتا ہے، زندہ انسانوں کی بستیاں شور اور ہنگامے اٹھاتی رہتی ہیں اسلئے اگر چند ارکان کو اختلاف ہے تو اس کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ وہ ضرور فارورڈ بلاک بنانے چل پڑیں گے، منگل کے روز کی ووٹنگ میں صرف ایک مسلم لیگی رکن نے اپوزیشن کا ساتھ دیا، اور وہ تھے میر ظفر اللہ جمالی، جو اس سے پہلے پارٹی سے لا تعلقی کا اعلان کرچکے ہیں، کسی دوسرے رکن نے ان کا ساتھ دینا پسند نہیں کیا۔ اب اگر میر صاحب کی مثال کو سامنے رکھ کر کوئی یہ کہہ دے کہ ان کے ساتھ ستر ارکان ہیں تو یہ حقائق کے منافی بات ہوگی، اپوزیشن کی تمام تر حکمت عملی کی بنیاد یہ خوش فہمی تھی کہ مسلم لیگ ن تقسیم ہوچکی ہے اور وہ نواز شریف کی قیادت سے جان چھڑانے کیلئے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپوزیشن کے حق میں ووٹ دے گی لیکن ثابت ہوچکا کہ ایسا نہیں ہے اسلئے سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اپوزیشن کیا حاصل کرلے گی؟ کیا پہلے کی طرح دوبارہ یہ خوش فہمی پالے گی کہ ارکان مسلم لیگ سے ٹوٹ کر اپوزیشن سے آ ملیں گے، بہر حال اپوزیشن اگر یہ آپشن استعمال کرنا چاہتی ہے تو کرلے، البتہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کیلئے کوئی ریکوزیشن نہیں دی جاسکتی، اسلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ اپوزیشن کے مطالبے پر مشترکہ اجلاس جلدی بلا لیا جائے، حکومت اگر چاہے تو اجلاس بلالے اور ضرورت محسوس نہ کرے تو اجلاس نہیں بلایا جاسکتا۔ لیکن اپوزیشن کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ اس آپشن کو استعمال کرنے سے پہلے نمبر گیم پر اچھی طرح کام کرلے ایسا نہ ہو پہلے کی طرح اس کی نئی مہم بھی ناکام ہوجائے۔

مزید :

تجزیہ -