نواز شریف ، مریم کی حاضری سے استثنٰی کی تاریخ میں ردوبدل کی درخواست ، نیب سے جواب طلب

نواز شریف ، مریم کی حاضری سے استثنٰی کی تاریخ میں ردوبدل کی درخواست ، نیب سے ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز ایون فیلڈ پراپرٹیز اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی 13ویں اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی 14ویں سماعت کی۔سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں میں تبدیلی کی درخواست جمع کرائی گئی۔ایک ماہ کی حاضری سے استثنیٰ کی مدت میں تبدیلی کی درخواست میں استدعا کی کہ حاضری سے استثنیٰ کی مدت 5 دسمبر سے 5 جنوری کی جائے۔عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی نئی درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت 28 نومبر تک ملتوی کردی۔عدالت نے قرار دیا کہ نیب کا جواب آنے کے بعد آئندہ سماعت پر استثنیٰ کی درخواستوں کا فیصلہ کریں گے۔سماعت کے دوران نیب کی جانب سے پیش کردہ 3 گواہوں نے بیانات ریکارڈ کرائے۔ گواہ محمد رشید نے گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ نیب لاہور نے پانچ ستمبر کوخط بھیجا، تمام دستاویزات لیکرنیب لاہور کے سامنے پیش ہوا اور تفتیشی افسر عمران ڈوگر کوتمام دستاویزات فراہم کیں۔گواہ محمد رشید نے بتایا کہ نیب نے 5 ستمبر سے پہلے کوئی خط نہیں لکھا اور 6 ستمبر 2017 کے علاوہ کبھی نیب کے سامنے پیش نہیں ہوا جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ سیدھا جواب دیں، جھوٹ بولیں گے تو دس سوال اور ہوں گے۔نیب کے دوسرے گواہ مظہر رضا بنگش نے لندن فلیٹس ریفرنس میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ اگست 2017 میں نیب لاہور کے سامنے پیش ہوا جب کہ اپنے بیان کی کاپی جمع کرادی ہے۔گواہ نے کہا کہ التوفیق کیس کے فیصلے میں نواز شریف ملزم نہیں، تفتیشی افسر کے مطابق کمپنی نے نواز شریف کو کوئی سروس نہیں دی تاہم اس کے مندرجات پر کوئی بات نہیں کرونگا کیوں کہ یہ عدالتی حکم نامہ ہے۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا آپ کو 9 افراد کے پتے دیے گئے تھے جس پر انہوں نے 'مجھے 20 سال پرانی بات یاد نہیں تحریری ہدایات دی گئیں یا زبانی جس پر وکیل نے کہا کہ ہم آپ کو تھوڑا یاد کرواتے ہیں۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھایا کہ عدالتی آرڈر کے مندرجات پر کیسے بات کر سکتے ہیں۔نیب کے تیسرے گواہ چوہدری شوگر ملز کے چیف فنانشل شہباز حیدر تھے، جنہوں نے بیان ریکارڈ کرادیا جن پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح مکمل کرلی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز حاضری سے استثنیٰ کے باوجود عدالت میں پیش ہوئے جنہیں استغاثہ کے 2گواہوں پر جرح مکمل ہونے کے بعد واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔ سابق وزیر اعظم اور مریم نواز نے حاضری سے استثنیٰ کی مدت تبدیل کرنے کی درخواست بھی جمع کرائی ہے۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کیلئے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچے جہاں سے وہ انتہائی سخت سکیورٹی میں عدالت پہنچے، سابق وزیر اعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر ذرا تاخیر سے عدالت پہنچے۔ سابق وزیر اعظم کی پیشی کے موقع پر فیض آباد دھرنے کے باعث سکیورٹی کے معمول سے زیادہ سخت انتظامات کیے گئے تھے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ فلیٹس ریفرنس کی سماعت شروع کی تو نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث وقت پر نہ پہنچ سکے۔ اس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے اور کہا دعا کریں کہ خواجہ حارث جلدی آجائیں۔ 15 منٹ انتظار کے بعد خواجہ حارث کے کمرہ عدالت پہنچنے پر سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔

نیب ریفرنسز

مزید :

علاقائی -