حکومتی مذاکراتی ٹیم ، دھرنا کمیٹی میں معاہدہ شرائط پر اتفاق ، مظا ہرین کا پتھراؤ ، ایس ایس پی سمیت 4اہلکار زخمی

حکومتی مذاکراتی ٹیم ، دھرنا کمیٹی میں معاہدہ شرائط پر اتفاق ، مظا ہرین کا ...

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) فیض آباد میں جاری دھرنے کے خاتمے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور مظا ہرین وزیر قانون زاہد حامد کے فوری استعفیٰ کے مطالبے سے دستبردار ہوگئے ہیں جبکہ دوسری طرف مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آرہی ہے ، مظاہرین کے پتھراؤ کی وجہ سے ایس پی صدر عامر نیازی سمیت چار اہلکار زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فیض آباد دھر نے کے مسئلے کے حل کیلئے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی نے تحریک لبیک کے رہنماؤں سے مذاکرات کے بعد سفارشات حکومت کو بھجوادی ہیں اور دھرنا مظاہرین وزیر قانون زاہد حامد کے فوری استعفیٰ کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ تحریک لبیک کا موقف ہے ہم زاہد حامد کو مر کزی ملزم نہیں مانتے، تاہم ختم نبوت ترمیم کی تحقیقات کرنیوالی راجہ ظفرالحق رپورٹ منظرعام پر آنے تک وزیر قانون اپنا کام روک دیں تو ہم دھر نا ختم کردیں گے۔وزارت مذہبی امور نے پیر حسین الدین شاہ کی کمیٹی کی رپورٹ وزیرداخلہ کو ارسال کردی ہے۔ وزارت مذہبی امو ر نے جید علماء پر مشتمل یہ مذاکراتی کمیٹی دوروزقبل تشکیل دی تھی جس میں پیر حسین الدین ،ڈاکٹر ساجد الرحمن ، پیر ضیاء الحق شاہ، مولانا عبد ا لستا ر سعید ی اور پیرنظام الدین جامی شامل ہیں۔فیض آباد دھرنے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے،حکومتی مذاکراتی ٹیم اور دھرنا کمیٹی کے در میا ن معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ حکومتی نمائندوں اور دھرنا مذاکراتی ٹیم کے درمیان دو گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، جس میں د ھر نا مظاہرین کے مطالبات پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ حکومت کی جانب سے کی جانیوالی پیشکش پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، دھرنا کمیٹی کو مذاکرات کی میز پر لانے اور حکومت کیساتھ بات چیت میں حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پیر حسین الدین اور پیر آف گولڑہ شریف نے اہم کردار ادا کیا۔ تاہم مسودے کے مندرجات کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔دوسری طرف حلف نامے میں ترمیم کے مسئلے پر اسلام آباد میں 18و یں روز بھی دھرنا جا ر ی ہے اس دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوتی رہیں ، گزشتہ روز مظاہرین گارڈن ایونیو کے قریب کنٹینر پر چڑھ گئے ہیں اور ان کے پتھراؤ کی وجہ سے ایف سی اور پولیس کے چا راہلکار زخمی ہوگئے جن میں ایس پی صدر عامر نیازی بھی شا مل ہیں۔ دھرنے اورامن و امان برقرار رکھنے کیلئے حکومتی اقدامات کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی اہم شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو متبادل راستوں پر ٹریفک جام جیسے مسائل کا سامنا ہے، 15 روز سے میٹرو بس سروس بھی معطل ہے جبکہ فیض آباد اور اطراف کے دکاندار بھی شدید پریشان ہیں۔سکول و کالج جانیوالے طلبا و طالبات کو طویل سفر طے کر کے اپنی منزل پر پہنچنا پڑتا ہے، اسی طرح دفاتر میں کام کرنیوالے ملازمین بھی شدید پریشان ہیں۔سپریم کورٹ نے بھی گزشتہ روز دھرنے کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی جبکہ اس حوالے سے آئی جی اسلام آباد، آئی جی پنجاب اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے۔فیض آباد پر دھرنے کے باعث علاقے میں پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری موجود ہے۔

معاہدہ اتفاق

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے افواج پاکستان ریاست کا ادارہ ہے اور دھرنے کے سلسلے میں حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے۔گزشتہ روز نجی ٹی وی ایکسپریس کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا افواج پاکستان ریاست کا ادارہ ہے، حکومت وقت نے جب بھی فوج کو بلایا ہے فوج نے ذمہ داری ادا کی ، صورتحال افہام و تفہیم سے حل ہوجائے تو بہتر ہے تاہم دھرنے کے سلسلے میں حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے۔سیاسی صورتحال اور سیاستدانوں کے بیانات پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا سیاست کا اپنا ایک دائرہ کار ہے، سیاسی عمل چلتا رہنا چاہئے، سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ جیسے کرتے ہیں انہیں کرنا چاہئے۔بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اس کی والدہ سے ملنے سے متعلق ترجمان پاک فوج نے کہا دفتر خارجہ نے بیا ن دیدیا ہے کہ انسانیت کے ناطے حکومت اگر ملنے کی اجازت دے تو کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس کیساتھ جو ہونا ہے وہ ہوگا اسلئے کلبھوشن کا اپنی والدہ سے ملنے میں کوئی حرج نہیں۔ شہداء ہمارے خاندان کا حصہ ہوتے ہیں ہم ان کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں، دہشت گردی کیخلاف جنگ آسان نہیں، پورے ملک میں دہشت گردی کیخلاف آپریشن ہورہے ہیں اور یہ آپریشن خفیہ اداروں کی اطلا عا ت پر ہورہے ہیں، آنیولے دنوں میں یہ آپریشن مزید بہترہوگا، قوم کی حمایت کے بغیر کوئی بھی فوج کامیاب نہیں ہوسکتی۔ افغانستان کی حا لت سب کے سامنے ہے،جو وہاں کی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ،اسی وجہ سے وہاں سکیورٹی خلاء ہے۔ افغان سرحد کے گرد باڑ لگائی جارہی ہے، جب تک دوسری طرف سے اقدامات نہیں ہوتے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔

آصف غفور

مزید : علاقائی