نااہل شخص کیلئے آئین میں ترمیم‘ سرائیکی صوبہ کیلئے کیوں نہیں‘ غلام فرید کوریجہ

نااہل شخص کیلئے آئین میں ترمیم‘ سرائیکی صوبہ کیلئے کیوں نہیں‘ غلام فرید ...

  

ملتان (سٹی رپورٹر)سرائیکستان عوامی اتحاد کے رہنماؤں خواجہ غلام فرید کویجہ،پروفیسر شوکت مغل ،ملک اللہ نواز وینس ،ظہور دھریجہ اور آصف خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ نا اہل شخص کو دوبارہ پارٹی سربراہ بنانے کیلئے آئین میں ترمیم ہو سکتی ہے تو سرائیکی صوبے کیلئے کیوں نہیں؟ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ لاہور کی سرائیکی کانفرنس میں رکاوٹیں(بقیہ نمبر49صفحہ12پر )

ڈالنے، پینافلیکس پھاڑنے اور سرائیکی رہنماؤں کی تصاویر کو بلیک پینٹ کرنے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چند سال قبل چوک نواں شہر پر ایک کارکن نے نواز شریف کا پوسٹر پھاڑا تو طوفان اٹھادیا گیاتھا مگر لاہور میں ہونیوالی حرکت پر سب خاموش کیوں ہیں ؟سرائیکی رہنماؤں نے کہا سرائیکستان عوامی اتحاد کا سیمینار بعنوان سرائیکی صوبہ پاکستان کی ضرورت اور الحمرا میں ہونیوالی سرائیکی کانفرنس کی کامیابی پر مخالفین نے بو کھلاہٹ کا ثبوت دیا مگر سرائیکی صوبہ نوشتہ دیوار ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی تاہم دیکھنا یہ ہے کہ صوبہ بنانے کا کریڈٹ کون خوش قسمت لیتا ہے۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا لاہور کا لبرل طبقہ اور جمہورت پسند لوگ سرائیکی صوبے کے حق میں ہیں مگر وہ طبقہ جو رنجیت سنگھ کے قبضے کے بعد سرائیکی وسیب کا عرصہ 200سال سے خون چوس رہا ہے، نہیں چاہتا کہ صوبہ بنے مگر تاریخ کا یہ اصول ہے کہ ظلم کی رات جتنی طویل کیوں نہ ہو انت سویر ا ہونا ہوتا ہے، اب صوبہ سرائیکستان کے سورج کو طلوع ہونے سے کوئی چمگاڈر نہ روک سکے گا ۔سرائیکی رہنماؤں نے کہا لاہور کی سرائیکی کانفرنس کے دوران ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سرائیکی وسیب کے تمام وسائل حتیٰ کہ وسیب کے ہسپتالوں کا بجٹ بھی لاہور کے نمائشی منصوبوں پر خرچ ہورہا تھا،انہوں نے الحمرا میں ہونیوالی سرائیکی کانفرنس میں یونیورسٹیوں کے سرائیکی طلبہ اور وسیب کے مزدوروں نے بھرپور شرکت کی اور انہوں واضح بتایا کہ وہ لاہور میں سخت مشکلات کا شکار ہیں ، وہ خدا کا واسطہ دیکر کہہ رہے تھے کہ صوبہ بنواؤ کہ اگر تعلیم اور روزگار کی سہولتیں وسیب میں مہیا ہو ں تو وہ لاہور میں دھکے کھانے کیوں آئیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -