سندھ اسمبلی :شہلا رضا کے صدارت کرنے پر ایوان کا ماحول کشیدہ

سندھ اسمبلی :شہلا رضا کے صدارت کرنے پر ایوان کا ماحول کشیدہ

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں بدھ کو جب تک اسپیکر آغا سراج درانی اجلاس کی صدارت کرتے رہے ، ایوان کا ماحول خوشگوار رہا اور جیسے ہی ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا اجلاس کی صدارت کرنے آئیں تو ایوان کا ماحول گرم ہو گیا ۔ ایوان میں پان ، گٹکا اور چیونگم کی بھی باتیں ہوئیں جبکہ پیپلز پارٹی کے رکن میر نادر مگسی کی زبردست ڈرائیونگ کے چرچے بھی رہے ۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس پونے 2 گھنٹے تاخیر سے دن کے پونے 12 بجے اسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ وہ بہت خوشگوار موڈ میں تھے اور چٹکلے اور شگوفے چھوڑتے رہے ۔ انہوں نے وزیر بلدیات جام خان شورو اورپیپلز پارٹی کے رکن ڈاکٹر سہراب سرکی کو ٹوک دیا اور کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ ایوان میں پان یا گٹکا کھانا اور چیونگم چبانا منع ہے ۔ آپ دونوں اسمبلی قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔ جام خان شورو نے کہا کہ ہم گٹکا نہیں کھا رہے ۔ ہم الائچی کھا رہے تھے ، جو ناصر حسین شاہ نے دی تھی ۔ اسپیکر نے کہا کہ میں متنبہ کر رہا تھا کہ ایوان میں گٹکا ، شٹکا اور کوئی چیز کھانا منع ہے ۔ اسپیکر نے مسلم لیگ ( فنکشنل) کے پارلیمانی لیڈر نند کمار سے پوچھا کہ کیا آپ گٹکا کھاتے ہیں ۔ میں نے تو ایم کیوا یم کے رکن دیوان چند چاولہ کو گٹکا چباتے دیکھا ہے ۔ نند کمار نے کہا کہ دیوان چند صرف گٹکا کھاتے ہی نہیں بلکہ بناتے بھی ہیں ۔ اسپیکر آغا سراج درانی نے نند کمار سے کہا کہ آپ انہیں جیل بھیجنا چاہتے ہیں کیا ۔ ایم کیوا یم کے رکن قمبر رضوی وزیر اعلیٰ سندھ کی مشیر ارم خالد کی جانب دیکھ کر سوال پوچھ رہے تھے تو اسپیکر نے انہیں ٹوک دیا اور کہا کہ ادھر دیکھ کر سوال کریں ، ادھر نہ دیکھیں ۔ اسپیکر کے جملے پر ارم خالد اور قمبر رضوی مسکرا دیئے ۔ اسپیکر آغا سراج درانی نے میر نادر خان مگسی کو کار ریلی جیتنے پر مبارک باد دی اور کہا کہ نادر صاحب آپ ہمیشہ ہی جیت جاتے ہیں ۔ گاڑی تھوڑی آہستہ چلایا کریں تاکہ کوئی اور بھی جیت سکے ۔ آپ ڈرائیونگ اسکول کھولیں ، ہم بھی ڈرائیونگ سیکھ لیں اور دیگر ارکان کو بھی ڈرائیونگ سکھا دیں ۔ وقفہ سوالات کے بعد اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے کی ۔ تحریک انصاف کی خاتون رکن ڈاکٹر سیما ضیاء نے اپنے توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کی اور کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی مشیر برائے ترقی نسواں ارم خالد نے میرے حوالے سے غلط بیانی کی ہے اور مجھ پر الزام لگایا ہے ۔ ڈپٹی اسپیکر نے ڈاکٹر سیما ضیاء سے کہا کہ آپ تقریر نہ کریں ، اپنے توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کریں ۔ ڈاکٹر سیما ضیاء نے کہاکہ میں کیوں بات نہ کروں ۔ میرا استحقاق مجروح ہوا ہے ۔ ڈپٹی اسپیکر نے بلند آواز میں کہا کہ آپ اپنے توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کریں ۔ ورنہ میں کسی اور کو بولنے کا کہہ دوں گی ۔ ڈاکٹر سیما ضیاء نے ڈپٹی اسپیکر سے کہا کہ آپ اپنی آواز کم رکھیں ۔ آپ نے آتے ہی تیز آواز میں بولنا شروع کر دیا ہے ۔ میں بولوں گی کیونکہ مجھے بڑی مشکل سے وقت ملا ہے ۔ اس طرح ڈاکٹر سیما ضیاء اور شہلا رضا کے درمیان زبردست نوک جھونک ہوئی اور ایوان کا ماحول

مزید :

کراچی صفحہ اول -