مراعات کا حصول، مسیحاؤں نے مریضوں کو کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، مہنگے نسخے تجویز

مراعات کا حصول، مسیحاؤں نے مریضوں کو کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، مہنگے ...

  

ملتان(وقائع نگار) پنجاب حکومت کا صحت کے شعبہ میں انقلاب لانے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ضلع بھر کے بیشتر سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور میں ڈاکٹرز غریب مریضوں کو فارموساٹیکل کمپنیوں سے خصوصی مراعات حاصل کرنے کی غرض سے مخصوص کمپنی کی ادویات لینے کا نسخہ لکھ کر دینے کی پریکٹس کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ مختلف سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور کے ڈاکٹرز مریضوں کو یہ کہہ کر ڈاکٹری نسخہ لکھ کر دیتے ہیں۔ کہ سرکاری ادویات کھانے(بقیہ نمبر19صفحہ12پر )

سے رزلٹ اچھا نہیں آتا۔ مخصوص فارماسوٹیکل کمپنیوں کی ادویات بازار سے خریدنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ بلکہ بعض ڈاکٹرز حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ بازار سے ادویات خرید کر ہمیں چیک کروا کر جاؤ، تاکہ ہم اپکو پھر اس کو کھانے کا طریقہ بتائے گے۔ اس بہانے ڈاکٹرز حضرات مخصوص فارماسوٹیکل کمپنیوں کی ادویات کا جائزہ بھی لے لیتے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ کوئی غریب مریض کسی اور فارما سوٹیکل کمپنی کی دوائی لے آئے تو اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور ان کو ڈرا ڈرا کر پریشان کردیتے ہیں۔ غریب مریض مجبوراً پریشانی کی حالت میں ڈاکٹری نسخہ پر لکھی مخصوص فارماسوٹیکل کمپنی کی ادویات لیتے ہیں۔ جبکہ دوسری سرکاری ہسپتالوں کے آوٹ ڈور کے ڈاکٹرز فارماسوٹیکل کمپنیوں کی مخصوص ادویات لکھنے کی مد میں خصوصی مراعات جن میں ایل سی ڈی، غیر ممالک کے دورے، ایڈوانس لاکھوں روپے کی رقم اپنی گاڑیوں کی قسطیں، نجی کلینک کو اپ گریڈ کرنے کیلئے فرنیچر سمیت دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء حاصل کرتے ہیں۔ حالانکہ حکومت کادعویٰ ہے کہ صوبہ بھر میں مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات سمیت ادویات کی فراہمی اور دیگر مراعات منت دی جائیں گی۔ مگر ملتان کے سرکاری سسپتالوں میں ڈاکٹروں نے مسیحاؤں کا کام چھوڑ کر تاجر کا کردار ادا کرنا شروع کررکھا ہے۔ مریضوں اور ان کے لواحقین نے سوبائی حکومت اور اعلی صحت کے حکام سے مذکورہ صورتحال پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آوٹ ڈورز میں ایسا کچھ بھی نہیں ہورہا ہے۔ مریضوں کو ادویات فری دی جارہی ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -