سندھ اسمبلی :نمونیا کے حوالے سے تحریک التواخلاف ضابطہ قرار

سندھ اسمبلی :نمونیا کے حوالے سے تحریک التواخلاف ضابطہ قرار

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں بدھ کو صوبے میں نمونیا بخار کو کنٹرول نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان کی تحریک التواء خلاف ضابطہ قرار دے دی گئی ۔وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہاکہ خرم شیر زمان نمونیا کے بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں ہیں ۔روزانہ اسمبلی میں تقریر کرنے کے لیے بلا جواز تحاریک التواء لے آتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق خرم شیر زمان نے تحریک التواء پیش کی تو سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو نے اس کی مخالفت کی ، جس پر خرم شیر زمان نے سینئر وزیر پر تنقید کی ۔ ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا نے خرم شیر زمان کے الفاظ کارروائی سے حذف کر ادیئے ۔ خرم شیر زمان نے جھنجھلا کر ڈپٹی اسپیکر سے کہا کہ آپ ہمیں بھی حذف کرا دیں ۔ ڈپٹی اسپیکر نے ان سے کہا کہ آپ خود ہی حذف ہو جائیں گے ۔ خرم شیر زمان نے کہاکہ روزانہ ہماری تحریکیں مسترد کر دی جاتی ہیں ۔ خرم شیر زمان نے کہا کہ ہر سال پانچ برس سے کم عمر 20 ہزار بچے نمونیا کی وجہ سے مر جاتے ہیں ۔ حکومت سندھ نمونیا کے کنٹرول میں ناکام ہو گئی ہے ۔ میری تحریک التواء کی مخالفت نہ کی جائے ۔ یہ سندھ کا بہت اہم مسئلہ ہے ۔ حکومت روزانہ کی بنیاد پر ہماری تحریکیں مسترد کر دیتی ہے ۔ وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ ارکان کو تحریک التواء لانے کے لیے اسمبلی قواعد کا خیال رکھنا چاہئے ۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ حکومت ایک ورکشاپ کا اہتمام کرے تاکہ ارکان کو اسمبلی قواعد سکھائے جا سکیں ۔ اگر میں نے اپنے اختیارات استعمال کرنا شروع کیے تو مشکل ہو جائے گی ۔ وزیر صحت نے کہاکہ خرم شیر زمان کو نمونیا کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں ہے ۔ وہ صرف تقریر کرنے کے لیے روزانہ کوئی نہ کوئی تحریک التواء لے آتے ہیں ۔ نمونیا صرف بچوں کی بیماری نہیں ہے ۔ یہ بڑوں کو بھی ہوتی ہے اور یہ پوری دنیا میں ہے ۔ یہ وبائی نہیں بلکہ بیکٹریا کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ اس وقت صوبے میں کہیں بھی ایسی صورت حال نہیں ہے کہ کہا جا سکے کہ نمونیا پر کنٹرول نہیں ہو سکا ہے ۔ تحریک التواء مفروضے پر مبنی ہے ۔ ڈپٹی اسپیکر نے تحریک التواء خلاف ضابطہ قرار دے دی ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -