قتل و غارت متحدہ کی پالیسی ،فیکٹری میں آگ قیادت کے حکم پر لگائی :رحمٰن بھولا

قتل و غارت متحدہ کی پالیسی ،فیکٹری میں آگ قیادت کے حکم پر لگائی :رحمٰن بھولا

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ میں سانحہ بلدیہ فیکٹری سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران مقدمے کے مرکزی ملزم رحمان عرف بھولا کے بیان حلفی میں اہم انکشافات سامنے آگئے۔ بیان حلفی میں ملزم نے کہا کہ قتل و غارتگری ایم کیو ایم کی پالیسی کے تحت کی۔ سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مقدمے میں 2 ملزمان کے وارنٹ معطل کرنے کے خلاف کیس کے مرکزی ملزم عبد الرحمان عرف بھولا کا بیان حلفی پیش کیا گیا اور پڑھ کر سنایا گیا۔ پیش کیئے گئے بیان حلفی میں سانحہ بلدیہ کیس میں ایم کیو ایم سے متعلق انکشافات سامنے آگئے۔ بیان حلفی کے مطابق قتل وغارت گیری ایم کیو ایم کی پالیسی کے تحت کی، ملزم عبد الرحمان بھولا نے بیان حلفی میں انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی اور سنی تحریک کے درجنوں کارکنوں کو قتل کیا۔ بیان حلفی میں انکشاف سامنے آیا کہ زکوا، فطرہ، کھالوں اور بھتے سے حاصل ہونے والے کڑوروں روپے 90 پر جمع کراتا تھا۔ حماد صدیقی نے اہم ٹاسک کے لیے بلدیہ کا سکیٹر انچارج بنایا۔ بیان حلفی کے مطابق علی انٹر پرائزز سے 25 کروڑ روپے بھتہ مانگنے کا ٹاسک دیا گیا۔ 11سمتبر 2012 کو زبیر عرف چریا بے بتایا کہ میں نے فیکٹری میں آگ لگانے کا بندوبست کرلیا ہے۔ حماد صدیقی کو آگ لگانے سے پہلے آگاہ کردیا تھا۔ رحمان بھولا نے اپنے بیان انکشاف کیا کہ زبیر چریا ساتھیوں کے ساتھ ہائی روف میں فیکٹری پہنچا۔ 20 , 25 منٹ بعد زبیر چریا نے بتایا کام ہوگیا ہے۔ بیان حلفی کے مطابق حماد صدیقی کام ہونے کے بعد کہا کہ کارکنوں، ایم این ایز اور دیگر فیکٹری پہنچنے کا کہا۔ رؤف صدیقی نے فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ اس لیے درج کرایا تاکہ ایم کیو ایم پر الزام نا آئے۔ فیکٹری مالکان کو ضمانت کے بعد حماد صدیقی اور رف صدیقی نے بلواکر 4 سے 5 کروڑ روپے وصول کیئے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -