اقبال اسلامی معاشرے میں اتحاد و وحدت کے مبلغ تھے ‘ مہدی ہنردوست

اقبال اسلامی معاشرے میں اتحاد و وحدت کے مبلغ تھے ‘ مہدی ہنردوست

  

راولپنڈی(جنرل رپورٹر) مفکر پاکستان اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ۱۴۰ ویں یوم ولادت کی مناسبت سے خانہ فرہنگ ایران راولپنڈی اور نمل یونیورسٹی شعبہ فارسی کے اشتراک سے ایک روزہ قومی اقبال اور رومی کانفرنس منعقد ہوئی افتتاحی اجلاس میں مہمان خصوصی ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست تھے جبکہ صدارت یونیورسٹی کے ریکٹر جنرل(ر) ضیاء الدین نجم نے کی جبکہ کلیدی خطاب ادارہ فروغ قومی زبان کے سربراہ افتخار عارف نے کیا یہ کانفرنس تین نشتوں پر مشتمل تھی جس میں معروف مفکرین اور اقبال شناس اساتذہ نے اظہار خیال کیا ان میں ڈاکٹر ایوب صابر ایرانی ثقافتی قونصلر شہاب الدین داریی ‘ ڈاکٹر راشد حمید‘ ڈاکٹر طالب حسین سیال ‘ ڈاکٹر خالد اقبال یاسر‘ ڈاکٹر عنبر یاسمین‘ڈاکٹر مظفر علی کشمیری‘ ڈاکٹر شفگتہ یاسین‘ ڈاکٹر محمدسفیر اعوان اور ایران آئے ہوئے عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر رضا الہی منش نے اپنی تحقیقی مقالا پیش کیا مقررین نے علامہ اقبال اور مولانا جلال الدین رومی کے افکار پر سیر حاصل بحث کی ایرانی سفیرمہدی ہنر دوست نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا اقبال فقط ایک شاعر ہی نہیں بلکہ جہاں اسلام کے سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں وہ اسلامی معاشرے میں اتحاد و وحدت کے مبلغ تھے کیونکہ ان کا پیغام سیرت النبیؐ کی روشنی میں اشعار کے کلام میں ڈھالا ہوا تھا کلیدی خطاب کرتے ہوئے افتخار عارف نے کہا اقبال نے مولانا روم کو اپنا مرشد قرار دیا اور مولانا رومی اور اقبال میں۲۵۰ مشترک موضوعات پائے جاتے ہیں اقبال اور رومی دونوں اسلامی معاشرہ کے مصلح اور رہنما تھے جنہوں نے مسلمانوں کی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان کے اصلاح کیلئے قدم اٹھایا۔ خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل علی آقا نوری نے کہااقبال ایران اور پاکستان کے درمیان محبتوں کا دائمی پل ہے‘ اقبال نے اسلامی افکار کی روشنی میں عشق اور خرد کو آپ میں مدغم کرکے شاعری کو نئے رنگ میں رنگ دیا۔ علامہ محمد اقبال اورمولاناجلال الدین رومی دونوں ایران اور پاکستان کی وہ عظیم شخصیات ہیں جن کا زمانہ حیات اگرچہ مختلف ہے مگر فکری ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ ایسے علمی کام انجام دیے جو آج بھی ہمارے لیے ایک قیمتی سرمایہ کے طور پر بطور یادگار باقی ہیں۔آپ آسمان علم وادب کے تابناک ستارے ہیں اورآپ پوری دنیا میں اعلیٰ شناخت کے حامل ہیں۔علامہ اقبال کو مولانا رومی سے بے حد قلبی لگاو تھا اوراس حوالے سے آپ دونوں کے کئی علمی مضامین اورفکری مشترکات آج بھی موجود ہیں۔یہ دلبستگی اس حد تک تھی کہ علامہ اقبال نے مولانا رومی کو پیر اور مرشد کے خطاب سے نوازا ہے۔نیز آپ کی افکار اورعلمی ہم آہنگی اس قدر زیادہ تھی کہ بعض اہل علم ودانش نے علامہ اقبال کو موجودہ زمانے کا مولانا رومی قراردیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ علامہ اقبال اس زمانے کے عظیم مصلح تھے جو درحقیقت بعنوان ایک مصلح اپنا فرض سمجھتے تھے کہ مسلمانوں میں ایک انقلاب پیدا کرکے انہیں دوسروں کی غلامی سے آزادی دلا کر اسلامی حمیت اور ملی بیداری پیدا کر سکیں۔چونکہ وہ مسلمانوں کے پاس سب وسائل ہونے کے باوجود غیروں کے اہل کار بننے پر بے حد رنجیدہ تھے۔ آپ بلاشبہ اس دور کے عظیم مفکر اوربہت بڑے شاعر تھے۔جنہوں نے جدید علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم پر دسترس حاصل کرتے ہوئے امت اسلامیہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے بھرپورکوشش کی۔علامہ مکمل طورپرپیروشریعت تھے جس پر آپ کے علمی آثارگواہ ہیں کہ آپ کی تمام افکار شریعت کے تابع تھیں اورآپ کو عرفان سے بھی بھرپوراورگہرا شغف تھااورزمانے کے حقیقی عرفاء اورصوفیاء سے بے پناہ محبت رکھتے تھے۔بلکہ انہوں نے دورحاضر کی نو جوان نسل کو حقیقی عرفان کی پہچان کروائی ہے۔ مقررین نے مزید کہا کہ علامہ اقبال قرآن کریم کی تعلیمات کے حوالے سے اس قدرمعتقد تھے کہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کو اس طرح پڑھا جائے کہ گویا قرآن کریم آپ پر ہی نازل ہوا ہے۔نیز آپ کے اقوال اور فرامین قرآن کریم اور احادیث سے بھرے پڑے ہیں۔جو انسان پر گہرے نقوش مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم اسلامی ثقافت کی بنیاد قرارپائے ہیں۔آپ نے مولانا رومی کی طرح قدم قدم پر قرآن کریم پڑھنے اوراسلامی تعلیمات کے حصول پر زور دیا ہے۔چنانچہ یہ دونوں ہی شخصیات قرآن کریم اور دین اسلام کی تعلیمات سے آراستہ ہیں ۔آپ کے اقوال اور فرامین جوقرآن کریم اور دین اسلام کی تعلیمات سے راہنمائی یافتہ ہیں بغیر کسی زمان ومکان کی قید کے انسانی معاشرے کی فلاح کیلئے بے حد مفید ہیں۔علامہ اقبال کے نزدیک امت اسلامیہ کے عشق کا محور پیغمبراکرمؐ کی ذات گرامی ہے۔آپ نے انتہائی ذہانت اورگہرائی سے اسلام کے اس حقیقی محور اوردنیا اسلام کی مشکلات اور مسائل کو درک کرتے ہوئے ان کے دکھوں کے مداوہ کیلئے انہیں روٹ میپ دیا۔نیز آپ کے علمی و فکری آثار عشق پیغمبرؐ سے پْرہیں۔درحقیقت آپ عاشق رسولؐ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال اور مولانا رومی کے علمی و فکری آثار امت اسلامیہ کی ترقی کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اسلامی وحدت کا محور بھی قرارپائے ہیں۔خصوصاً اِس دورمیں جب تفرقہ باز دہشتگرد گروپس اسلام کے نام پر اسلام کو نقصان پہنچانے اورغیر مستحکم کر نے کے درپے ہیں نیز اسلام کاحقیقی چہرہ مسخ کرکے منفی انداز میں دنیا میں پیش کررہے ہیں ایسے میں علامہ اقبال اور مولانا رومی کے یہ علمی اور فکری افکارنہ صرف ایسے منفی افکارکی ترویج کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ نوجوان نسل کیلئے اسلام کا صحیح تشخص اور تعلیمات پہنچانے کا باعث بھی ہیں۔ ایران کے ثقافتی قونصلر شہاب الدین داریی نے کہا کہ سلام ہے اقبال پر جنہوں نے برصغیر میں فارسی زبان و ادب کو زندہ رکھا اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جہان اسلام کے اس عظیم مفکر کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -