خواتین کی ترقی کے محکمے میں زیادہ تر ملازمین مرد ہیں،ارم خالد

خواتین کی ترقی کے محکمے میں زیادہ تر ملازمین مرد ہیں،ارم خالد

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) خواتین کی ترقی کے محکمے میں زیادہ تر ملازمین مرد ہیں۔ سندھ میں رواں مالی سال کے دوران ویمن کرائسز سینٹرز کے لیے 9 کروڑ 73 لاکھ 81 ہزار روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ۔ یہ بات بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ ترقی نسواں سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران بتائی گئی ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی طرف سے ان کی مشیر برائے ترقی نسواں ارم خالد نے سوالوں کے جوابات دیئے ۔ انہوں نے کہاکہ صوبے کے 4 شہروں کراچی ، حیدر آباد ، شہید بے نظیر آباد اور جیکب آباد میں ویمن کرائسز سینٹرز قائم ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان نے ضمنی سوال کیا کہ محکمہ ترقی نسواں میں 80 فیصد مرد اور 20 فیصد خواتین ملازم ہیں ۔ ایسا کیوں ہے ۔ ارم خالد نے کہاکہ ایسا ضرورت کے تحت کیا گیا ہے ۔ اگر محکمہ ترقی نسواں میں زیادہ مرد ہیں تو مردوں کے محکموں میں زیادہ خواتین کا تقرر کیا جا سکتا ہے ۔ ایم کیو ایم کی خاتون رکن ہیر اسماعیل سوہو نے سوال کیا کہ کیا حکومت کے پاس کوئی ایسی خاتون نہیں ہیں ، جسے مکمل وزیر بنایا جا سکے ۔ محکمہ ترقی نسواں کا قلمدان بھی ایک خاتون مشیر کے پاس ہے ۔ وہ بھی مکمل وزیر نہیں ہیں اور اسمبلی کے سوالوں کے جواب وزیر اعلیٰ کی طرف سے دیئے جاتے ہیں ۔ اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ یہ سوال ہی سمجھ سے بالاتر ہے تو اس کا جواب کیا دیا جائے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -