اکادمی ادبیات کراچی کا بابا فرید کی یاد میں مشاعرے کا انعقاد

اکادمی ادبیات کراچی کا بابا فرید کی یاد میں مشاعرے کا انعقاد

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ملک کے نامور صوفی شاعر حضرت بابا فریدالدین شکر گنج کی یاد میں مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس کی صدار ت نامور ادیب شاعر ایس ایم معین قریشی نے کی۔ جب کے مہمان خاص نامور انگلینڈ سے آئے ہوئے مہمان شاعر یشب تمنا تھے۔اور مہمان اعزازی نصیر سومرو ، اسحاق خان اسحاق اور سلطان مسعود تھے اس موقع پر جناب ایس ایم معین قریشی نے صدارتی خطاب میں کہا کہ حضرت بابا فریدالدین شکر گنج کے چند ایسے فکری پہلو ہیں جو بابا فرید کو دیگر صوفی دانشوروں سے ممتاز کرتے ہیں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ وہ عمومی صوفیانہ روایت کے بر عکس انسانی عقل کی ہمہ گیری اور اس کی عظمت کہ قائل تھے، آپ ہر وقت ایک ہی آرزو رکھتے تھے ، اور فارسی اشعار گنگناتے رہتے تھے، جن کا مفہوم ہے میرے محبوب بس میری ایک ہی آرزو رہ گئی ہے کہ میں جب تک جیوں تیری یاد میں جیوں اور جب مروں تو تیرے قدموں میں گر کر تجھے دیکھنے کے لئے زندہ ہو جاوٗں مجھے بتا تو سہی کہ دونوں جہاں میں تیرے سوا بھلا میرا اور کون ہے ، میں جیتا ہوں تو صرف تیرے لیئے مرتا ہوں تو صرف تیرے لیئے۔ اس موقع پر ریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں صوفیوں کی اکثریت عقل کو ناقص اور عشق کو اس کے مقابلے میں اولیت کا درجہ دیتی ہے مگر بابا فرید کا کہنا یہ تھا کہ عقل خدائی عطیہ ہے اور اس کام انسانوں کی روز مرہ کی زندگی میں رہنمائی ہے ، لہذا اس کی اہمیت اور عظمت کے بار ے میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے بابا فرید بیشتر چشتی بزرگوں کی طرح مذہبی گروہ بندیوں سے بالا تر ہوکر تمام انسان سے مساوی سلوک اور ان کا یکسا ں احترام کرتے تھے ۔ اصل میں مکتب فکر مسلم فاتحین اور حکمرانوں کے رد عمل پر مقبول ہوا حکمراں طبقہ قوت کی بالا دستی پر کقین رکھتے تھے اور قوت پر انحصا کرتے تھے چشتی بزرگوں نے ان کے بر عکس محبت انسان دوستی اور مساوات کا درس دیا ، بابا فرید کہ تیرا ہم عصر صوفیا ء کے نام ہیں۔ محی الدین ابن عربی ۔ صلاح الدین رومی ۔ شیخ سعدی ۔ شہاب الدین سہروردی ۔ لال شہباز قلندر (سیہون) بہا ؤالدین ذکریہ (ملتان) جلال الدین بخاری ۔ اوچ ۔ معین الدین چشتی ۔ قطب الدین بختیار کاکی ۔ نظام الدین اولیا ۔ علاؤالدین صابر (کلیر ) ۔ فریدالدین عطار ابوالحسن علی لشازلی تھے۔اس موقع پر جن شعراء نے کلام سنایا ان میں ڈاکٹر عبد المختار ، سید علی بابا، یوسف اسماعیل ،غازی بھوپالی، اقبال افسر غوری، سجاد احمد سجاد ، سید مٹھل شاہ ، صدیق رضا۔ عرفان علی عابدی، طاہر سلیم سوز، شگفتہ شفیق، قمر جہاں قمر، روبینہ ممتاز روبی، زینب النساء زیبی، عشرت حبیب ، ڈاکٹر لبنا عکس، صبیہا صبہ، دلشاد احمد دہلوی، محمد رفیق مغل، اسلم بھٹی ، سید صغیر احمد شاہ،ڈاکٹر ربنواز خان، عارف شیخ عارف، تاج علی رانا، سید اوست علی جعفری، سید مشرف علی رضوی، عمران سعید ، زینت لاکھانی، شاہد الیاس،تنویر سخن، الطاف احمد،اور دیگر شعراء شامل تھے قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیات پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر