مہمند ایجنسی میں بے روز گار نوجوانوں کا احتجاجی مظاہرہ

مہمند ایجنسی میں بے روز گار نوجوانوں کا احتجاجی مظاہرہ

  

مہمند ایجنسی ( نمائندہ پاکستان) مہمند ایجنسی میں بے روزگار اعلیٰ تعلیمیافتہ جوانوں کا مقامی ملازمتوں سمیت دیگر حقوق کیلئے احتجاجی مظاہرہ۔ غلنئی میں پشاور باجوڑ شاہراہ بند کر کے ایجنسی میں کام کرنے والے پراجیکٹس، پولیو، ایل ایچ او اور حجرہ آرگنائزیشن میں بے قاعدگیوں کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔ غیر مقامی افراد کی سفارش اور رشوت پر بھرتی قبول نہیں۔ ایم این اے اور سنیٹر جوانوں کے حقوق میں دیوار نہ بنے۔ مقررین کا مظاہرے سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر غلنئی بازار میں بدھ کے روز مہمند ایجنسی کے مختلف تحصیلوں سے ماسٹر ڈگری ہولڈرز سمیت دیگر اعلیٰ تعلیمیافتہ بے روزگار نوجوانوں نے ملازمتوں میں بھرتیوں کے طریقہ کار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جس میں مختلف سیاسی او ر فلاحی تنظیموں نے بھی حصہ لیا۔ مظاہرین نے تقریباً ایک گھنٹے تک مین باجوڑ پشاور روڈ کو بند کر کے اپنا احتجاجی ریکارڈ کرایا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی مہمند ایجنسی کے صدر ساجد خان مہمند، جنرل سیکرٹری سجاد مہمند، قاری رحیم شاہ، جے یو آئی امیر مولانا محمد عارف حقانی، مہمند ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر میر افضل مہمند، محترم خان اور دیگر نے کہا کہ مہمند ایجنسی میں این جی اوز ، ترقیاتی پراجیکٹس اور پولیو بھرتیوں میں سفارش اور رشوت کے ذریعے غیر مقامی لوگوں کی بھرتی کا سلسلہ دیدہ دلیری سے جاری ہے۔ جس سے ایجنسی کے مشکل اور سخت غربت کی حالات میں تعلیم حاصل کرنے والے جوانوں کا حق مارا جارہا ہے۔ مظاہرین نے ایم این اے اور سنیٹر کو بھی جوانوں کو ملازمتوں سمیت دیگر حقوق فراہمی میں ناکام قرار دیا۔ کیونکہ دیگر قبائلی ایجنسیوں میں اس طرح کے بھرتیوں میں مقامی جوانوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مگر بد قسمتی سے مہمند ایجنسی کے اعلیٰ تعلیمیافتہ جوان روزگار اور ملازمتوں کیلئے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں جوکہ سراسر نا انصافی ہے۔ جس کی مزید اجازت نہیں دینگے۔ مقررین نے کہا کہ پولیو پروگرام کے کمیونیکیشن سپورٹ آفیسر محمد یونس نے غیر مقامی قریبی رشتہ داروں رحمت ولی پی ایس پی، احسان اللہ ، محمد نور اور نعیم الدین کو غیر قانونی طور پر بھرتی کئے ہیں ۔ اور لواری ہیومینٹرینز آرگنائزیشن (LHO) کے پراجیکٹ سمیت حجرہ پروگرام میں 20 سے زائد غیر مقامی افراد بھرتی ہیں۔ مظاہرین نے دھمکی دی کہ بھرتیوں کی از سر نو جائزہ لیکر مقامی تعلیمیافتہ جوانوں کو ملازمتیں دی جائے۔ بصورت دیگر ان دفاتر کی تالا بندی کرینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -