بھٹو کی شعلہ بیانی کاوہ منظر جو ہم نے دیکھا

بھٹو کی شعلہ بیانی کاوہ منظر جو ہم نے دیکھا
بھٹو کی شعلہ بیانی کاوہ منظر جو ہم نے دیکھا

  



دوران طالب علمی ایک دن ہمیں پتہ چلا کہ ذوالفقارعلی بھٹو موچی گیٹ لاہور میں اتوار کو جلسہ کرنے والے ہیں۔ چند ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ ہم موچی گیٹ پہنچ گئے ۔وہاں جاکر معلوم ہوا یہاں تو سارا لاہور اُمڈ آیا ہے۔ وہاں خدا جھوٹ نہ بلائے ہر طرف انسانی سر ہی نظر آرہے تھے۔ ہمیں بیٹھنے کی جگہ نہ ملی اور ہم کھڑے ہوکر دیکھ رہے تھے۔

چند منٹوں کے بعد بھٹو صاحب ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے اور ہر طرف نعرے بازی ہورہی تھی۔ بھٹو صاحب کے لئے جو چبوترہ بنایا گیا تھا، وہ کافی اونچا تھا۔ بھٹو صاحب تقریر کے لئے چبوترے پر چڑھ گئے ان کے ساتھیوں کا ساتھ سٹیج بنایا گیا تھا۔ بھٹو صاحب نے آتے ہی لوگوں کو خوش آمدید کہا اور تقریر شروع کی۔ انہوں نے کہا’’ ہمارا دین اسلام ہے۔ ہماری معیشت سوشلزم کے اصولوں کی ہوگی اور اقتدار عوام کا ہوگا۔ ہم بے زمینوں کو زمین دے دیں گے جس کے ساتھ مکان نہیں اس کو مکان دیا جائے گا‘‘ یہ کہتے ہوئے بھٹو صاحب نے پہلے کوٹ اتارا پھر قمیض کے کف اوپر کئے اور پھر گریبان کے بٹن ڈھیلے کئے اور قمیض کو اتارتے ہوئے کہا’’جب تک غریب لوگوں کو کپڑے پہننے کو نہیں ملیں گے میں بھی کپڑے نہیں پہنوں گا‘‘ لوگوں نے بھٹو کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔ پھر کہنے لگے ’’ مخالفین کہتے ہیں کہ لوگ بھٹو کو دیکھنے آتے ہیں۔ ووٹ نہیں دیں گے۔بولو۔ جو ووٹ دیں گے وہ ہاتھ کھڑ کریں‘‘یہ سنتے ہی جلسے میں جہاں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ تھے انہوں نے ہاتھ کھڑے کردئیے۔ بھٹو صاحب نے ساتھیوں کو مخاطب کیا’’ اب جو لوگ گمراہ کن پراپیگنڈا کرتے ہیں ان کو بتادیں لوگ بھٹو پارٹی کو ووٹ بھی دیں گے۔ یہ آپ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو‘‘ دو تین گھنٹوں کے بعد جلسہ ختم ہوا لوگ اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے، ہم بھی واپس پنجاب یونیورسٹی میں ہاسٹل کو چل دئیے۔ باقی تمام دن اسی یاد میں ختم ہوا۔ ایسے لگتا ہے جیسے کل کا واقعہ ہے لیکن اگر حساب کیا جائے تو سنتالیس سال کا محیط عرصہ بیت چکا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ