تحریک لبیک کا ساتھیوں کی رہائی کیلئے دھرنا، مذاکرات ناکام ہونے پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج

تحریک لبیک کا ساتھیوں کی رہائی کیلئے دھرنا، مذاکرات ناکام ہونے پر آنسو گیس ...
تحریک لبیک کا ساتھیوں کی رہائی کیلئے دھرنا، مذاکرات ناکام ہونے پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج

  

نارووال (ویب ڈیسک) ختم نبوت کے حوالے سے تحریک لبیک یارسول ﷺ اور دیگر مذہبی جماعتوں نے نارووال چوک ظفر وال بائی پاس پر دھرناد یا لیکن مذاکرات ناکام ہونے پر پولیس نےمظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، وفاقی وزیر داخلہ کی رہائش گاہ کو خاردار تاریں لگا کر سیل کردیا گیا، تین اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہوگئے، مظاہرین نےبھی جوابی پتھراﺅ کیا۔

گزشتہ روز نارووال کی مختلف دینی تنظیموں اور تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکنوں نے زیرقیادت پیر سید کرامت علی شاہ آف علی پور سیداں شریف کی قیادت میں ا یک بہت بڑے جلوس کے ہمراہ ظفر وال بائی پاس پر دھرنادیا، دیگر قائدین میں قاری محدم افضل، پیر واجد علی گیلانی، پیر شجاعت حسین، پیر غلام رسول شیرازی، پیر سعادت حسین، پیر شاہد حسین شاہ، تحریک انصاف کے رہنما کرنل (ر) جاوید صفدر کاہلوں، ندیم نثار چوہدری، محمد طیب میر ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ مظاہرین اور ضلعی انتظامیہ جن میں ڈی پی او نارووال عمران کشور اور ڈپٹی کمشنر علی عنان قمر نے تقریباً دو گھنٹے تک مذاکرات کئے۔

مقامی اخبار کے مطابق مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ 10 نومبر کو وزیر داخلہ احسن اقبال کے گھر کے باہر مظاہرہ کرنے والے 34 افراد کو جو 16 یم پی او کے تحت ایک ماہ کیلئے نظر بند کیا گیا ہے، ان کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان پر مقدمات کو ختم کیا جائے۔

دو گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات جب ناکام ہوئے تو مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور تین پولیس ملازمین زاہد، رفاقت کانسٹیبل، اے ایس آئی فاضل اور فریاد علی زخمی ہوگئے۔ پولیس نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے گھر کے اردگرد خاردار تاریںل گا کر مکمل طور پر سیل کرکے سینکڑوں اہلکار تعینات کردئیے تھے۔احتجاج کی وجہ سے نارووال ظفر وال بائی اور جسٹر بائی پاس کے اردگرد کے کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں جبکہ ٹریفک شدید متاثر ہوئی۔

مزید :

نارووال -