بلیک نہیں گرین فرائی ڈے منائیں

بلیک نہیں گرین فرائی ڈے منائیں
بلیک نہیں گرین فرائی ڈے منائیں

  

ماہ نومبر کے آخر میں مغربی دنیا میں بلیک فرائی ڈے منایا جاتا ہے۔یہ دن مغربی دنیا خاص کر امریکہ میں کرسمس کے لیے کی جانے والی خریداری کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ اس موقع پر ہر جگہ زبردست ڈسکاؤنٹ دیے جاتے ہیں۔اسی کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی پاکستان کی اشرافیہ اور اپر مڈل کلاس نے بلیک فرائی ڈے منانا شروع کردیاہے۔ اس رو ززیادہ تر برانڈز اپنی مصنوعات پر 70فی صد تک ڈسکاؤنٹ دیتی ہیں اور شاپنگ سنٹر کے اندر خریداروں کاہجوم رہتا ہے۔

بلیک فرائی ڈے اپنے تصوّر کے لحاظ سے ایک اچھی چیز ہے۔کسی تہوار سے پہلے اس طرح رعایتی نرخ پر اشیا کی فروخت اپنی ذات میں ایک اچھا تصوّر ہے۔ اس کے نتیجے میں غریب اور کم آمدنی والے طبقات بھی تہوار کی خوشیوں میں شریک ہوجاتے ہیں۔ اسے ہمیں ضرور اپنا نا چاہیے لیکن کچھ ترمیم کے ساتھ۔

ہمارے ہاں 97فی صد مسلمان ہیں جن کا تہوار عیدہے، کرسمس نہیں۔ اس لیے بلیک فرائی ڈے جیسی چیز ضرور منائی جائے لیکن اس کا وقت اور نام ٹھیک کرلیا جائے۔پاکستان میں ہم اس کا نام بلیک فرائی ڈے سے بدل کر کچھ اور جیسے گرین فرائی ڈے رکھ سکتے ہیں۔جبکہ اس دن کا درست موقع محل رمضان سے قبل ہے۔یہ عید کا تہوار ہے جس میں عام لوگوں کو سستی اشیا کی ضرورت ہوتی ہے، کرسمس منانے کی نہیں۔اس لیے تاجر برادری منافع ضرور کمائے لیکن ہماری تہذیبی روایات کو مدنظر رکھے۔اس کے ساتھ ضروری ہے کہ اشرافیہ کے ساتھ عام لوگوں تک اس کا دائرہ وسیع کیا جائے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں اشیاء کی قیمتیں کم کرنے کے بجائے بڑھانے کا رواج عام ہے۔ ایسے میں اگر مغربی تہذیب کی پیروی میں کوئی اچھی چیز ہمارے ہاں آرہی ہے تو کم از کم کچھ معقولیت کے ساتھ آئے۔ہم میں اگر اتنی زندگی بھی نہیں پائی جاتی تو ہماری تہذیب جلد ہی مردہ ہوجائے گی۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ