’’بٹوارے میں پاکستان کو جو شاعر ملے وہ۔۔۔‘‘ ایک ادبی سانحہ

’’بٹوارے میں پاکستان کو جو شاعر ملے وہ۔۔۔‘‘ ایک ادبی سانحہ
’’بٹوارے میں پاکستان کو جو شاعر ملے وہ۔۔۔‘‘ ایک ادبی سانحہ

  

قادر الکلام شاعر سیماب اکبر آبادی مرزا داغ کے شاگرد تھے ۔قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی میں قیام پذیر ہوئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا ۔پاکستان کے معروف ادیب و صحافی نصراللہ خان نے بڑی بڑی اہم شخصیات کے خاکے تحریر کئے تھے اور ’’ قافلہ جاتا رہا‘‘ کے نام سے یہ کتاب منظر عام پر آئی تھی ۔انہوں نے سیماب صاحب کا بھی ایک خاکہ لکھاتھا۔ایک واقعہ جو اس خاکہ میں بیان کیا ہے اس میں بتاتے ہیں کہ ایک بار سیماب اکبر آبادی اور نہال سیو ہاروی(اپنے دور کے اردو کے معروف شاعر) ان کے پاس بیٹھے تھے جب سیماب صاحب نے شکایتاً کہا ’’ دیکھو بھائی، ملک کی تقسیم میں پاکستان سے نا انصافی کی گئی ہے۔ نہ خزانے میں سے کچھ ملا نہ اسلحے کی تقسیم منصفانہ ہوئی۔‘‘

نہال صاحب بولے ’’سچ فرماتے ہیں آپ۔یہ بھی بڑا سانحہ ہے ۔ شاعروں کے بٹوارے ہی کو دیکھئے۔ بڑے بڑے شاعر ہندوستان رہ گئے اور پاکستان کے ساتھ یا ہم آئے یا آپ آئے۔‘‘

احمد نازبٹالوی،لاہور

مزید :

ادب وثقافت -